fbpx
Fri. Nov 22nd, 2019

Press Release, April 2017

Press Release

April 2017

28 April 2017:

کراچی ( ) پاکستان کی پہلی فزیکل تھیٹر پرفارمنس پر مبنی ڈرامہ ’’ سوچ‘‘ سندھ تھیٹر فیسٹول میں پیش کیا گیا۔ آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی کے تھیٹر اکیڈمی کی جانب سے پیش کئے جانے والے اس ڈرامے میں معاشرے کی سوچ کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس بات کا نشاندہی کی گئی ہے کہ ہمارے لوگ وہ نہیں کرتے جو وہ سوچتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ایک الگ (دُہری) زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈرامے میں ایک خوبصورت پیغام دیا گیا کہ اپنے خوابوں کا قتل مت کریں بلکہ انہیں پورا کریں ڈرامے کی تحریر و ہدایات برطانوی نژاد پاکستانی تھیٹر آرٹسٹ بازلہ مصطفی نے دیں
Picture:

27 April 2017:

کراچی ( ) آڈیو ویژول کمیٹی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام مکالماتی فورم ’’کل آج اور کل‘‘ کے عنوان سے ہفتہ 29؍ اپریل شام 6:30 بجے منعقد کیا جارہا ہے۔ یہ بات چےئرمین آڈیو ویژول کمیٹی محمد اقبال لطیف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹس کونسل کراچی میں ہر ماہ آڈیو ویژول کمیٹی کے زیر اہتمام ایک فورم منعقد کیا جاتا ہے جس کا مقصد فن و آرٹ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لینا ہے اور نوجوانوں کو آگہی دینا ہے کہ کس طرح انہیں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنا ہے اور کیسے اس میں بہتری لانی ہے۔ یہ فورم اسی سلسلے کا دوسرا فورم ہے اس سے قبل ٹی وی ڈرامہ کے حوالے سے فورم منعقد کیا گیا تھا جبکہ اس ماہ کے  مکالمے میں کراچی کے تھیٹر کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا کہ کراچی میں تھیٹر کے کیا حالات ہیں تھیٹر کہاں ہو رہا ہے کس طرح کا ہورہا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔ جس میں تھیٹر ڈراموں کے سینئر ہدایتکار اور مصنف تھیٹر کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کریں گے اور سامعین کے سوالات کے جوابات دیں گے۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ثانیہ سعید، طلعت حسین، شیماکرمانی، خالدا نعیم، خالد احمد، خالد انعم، زین احمد، اکبر اسلام، علی شیخ، شاہد شفاعت، شنکر، فواد خان، سجیرا لدین، ثاقب سمیر احمد، علی حسن، نذر حسین شامل ہیں۔
کراچی ( ) آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان ایسوسی ایشن آف پریس فوٹو گرافرز کے ممبران کی بنائی ہوئی مختلف تصویروں کی نمائش منعقد ہوئی جس میں مختلف فوٹوگرافرز نے اپنی منتخب تصویریں نمائش کے لئے رکھیں، ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مشترکہ طور پر نمائش کا افتتاح کیا، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ ایک تصویر ہزار صفحوں کی اسٹوری بیان کرتی ہے فوٹو گرافر کسی بھی ادارے میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہیں کوئی بھی رپورٹر آفس میں بیٹھ کر اسٹوری بناسکتا ہے لیکن فوٹوگرافر کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے موقع پر موجود رہنا پڑتا ہے اس نمائش میں رکھی گئی تصاویر نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی تاریخ بیان کررہی ہے آرٹس کونسل آف پاکستان ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں، صحافیوں اور فوٹو گرافر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کررہا ہے آج مجھے مجیب الرحمن، زاہد حسین، ظفر احمد، یاد آرہے ہیں ان کے نام پر بھی آرٹس کونسل عنقریب کوئی تقریب منعقد کرے گی، اس موقع پرڈپٹی میئر کراچی ارشد عبداللہ وہرہ نے کہا کہ لیبر ڈے آرہا ہے اس نمائش میں بہت ساری تصاویر نایاب ہیں ایسی تصاویر بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں انہوں نے کہا کہ لیبر ڈے کے حوالے سے موجود ہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی ان تصاویر کو ان میں بعض تصاویر بھی لیبر ڈے کے حوالے سے بھی موجود ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ فوٹو گرافر نے بہت محنت سے تصاویر بنائی ہیں ہم پہلے بھی ان کا ساتھ دیتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی فوٹو گرافر کو جہاں بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ضرورت محسوس ہوگی ہم تعاون کریں گے، پیپ کے جنرل سیکریٹری سید عباس مہدی نے کہا کہ فوٹو گرافرز کسی بھی اخبار میں اپنی تصاویر کے ذریعے جانے پہچانے جاتے ہیں اس نمائش کا مقصد فوٹو گرافرز کے درمیان بہتر سے بہتر کام کرنے کے لئے مقابلے کا انعقاد کیا جائے ۔ محدود وسائل کے باوجود نمائش میں رکھی جانے والی تصویریں بین الاقوامی معیار سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں، کے یو جے کے صدر حسن عباس نے کہا کہ اس تصویری نمائش میں بہت ساری شاندار تصاویر ہیں ان کی دوسرے شہروں میں بھی نمائش منعقد ہونی چاہئے ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امین یوسف نے کہا کہ ہمیں ان خطروں کے کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپ کے صدر حامد حسین نے کہا کہ پریس فوٹو گرافر جو کہ ہمیشہ فرنٹ لائن کردار ادا کرتے ہیں اور فوٹو گرافر ایسوسی ایشن ان کی 60 سال سے فلاح بہبود کا کام میں مصروف عمل ہیں اور آج انہیں کا بنایا ہوا کام عوام کے سامنے ایسوسی ایشن نے لا کر فوٹو گرافر کو خراج تحسین پیش کیا، کراچی پریس کلب کے صدر سراج احمد، امین یوسف اور دیگر نے بھی خطاب کیا، آخر میں پیپ کے جوائنٹ سیکریٹری محمد ناصرنے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر مہمانوں کو جنرل سیکریٹری سید عباس مہدی اور نائب صدر سعید اقبال نے شیلڈ پیش کی اور شرکاء فوٹوگرافرز میں اسناد تقسیم کی گئیں
Picture:
کراچی ( ) سندھ کی معروف لوک داستان ’’ماروی‘‘ کی کہانی پر مبنی اسٹیج ڈرامہ ’’عمرمارؤی‘‘ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سندھ تھیٹر فیسٹول میں پیش کیا گیا ڈ رامے میں ماروی کی جرأت اور اس کی بہادری کو دکھایا یا ڈرامے کے کرداروں نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ ڈرامہ کی ہدایات رفیق عیسانی نے دی تھی جبکہ تحریر شاہنواز بھٹی کی تھی۔
Picture:
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی اور ماہنامہ دنیا ادب کے زیر اہتمام نوجوان شعراء کے ساتھ ایک شام کا اہتمام گزشتہ شب کیا گا اس محفل کے شعراء میں یاسمین اور ہدایت سائر شامل تھے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرنے والوں میں معروف شاعر اجمل سراج اور اوج کمال شامل تھے۔ نظامت صائمہ نفیس نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اجمل سراج نے کہا کہ پاکستان میں سینئر شعراء کے ساتھ نوجوان نسل کے شعراء بھی بہت زبردست کام کررہے ہیں ۔ یاسمین یاس اور ہدایت سائر نے بہت خوبصورت شاعری کی۔ ان کی شاعری میں شاعری کے تمام رنگ شامل ہیں اس طرح کی محفلوں سے سننے والوں کو بہترین شاعری سننے کا موقع ملتا ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کا یہ پروگرام بہت خوبصورت ہے اس طرح کے پروگرام ہوتے رہنے چاہئے۔ اوج کمال نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی تقریب کے شعراء اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی آرٹس کونسل کراچی دنیا ادب کی اس طرح کی تقریبا ت ہر ماہ منعقد کرتا ہے اور امید ہے کہ آگے بھی کرتا رہے گا۔
Picture:

26 April 2017:

کراچی ( ) سندھی زبان میں مزاحیہ ڈرامہ ’’ آرٹ‘‘ سندھ تھیٹر فیسٹول میں پیش کیا گیا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری فیسٹول میں دکھائے جانے والے ڈراموں میں شائقین کی بھر پور شرکت۔ اردو یا سندھی دونوں زبانوں میں ڈرامہ دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہر روز آرٹس کونسل کا رخ کرتی ہے۔ گذشتہ شب دکھائے جانے والے مزاحیہ ڈرامہ ’’ آرٹ‘‘ میں تین نوجوانوں کی آرٹ اور دوستی سے متعلق خوبصورت جملوں، بحث و
مباحثے اور نوک جھوک کو بہت دلچسپ پیرائے میں پیش کیا گیا۔
Picture:

25 April 2017:

کراچی ( ) دنیا بھر کے ملکوں کی پہچان ان کی ثقافت سے ہوتی ہے لیکن پاکستان کی ثقافت کا دنیا بھر میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا بلکہ پاکستان کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں دہشت گردی، غنڈہ گردی، لوٹ مار، فسادات اور خون خرابے کی صورتحال ابھرنے لگتی ہے۔ بحیثیت قوم یہ ہمارے لئے ایک المیہ ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسی صورتحال کے خاتمے کے لئے کمر بستہ ہے ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں اس کی ثقافت، اس کی خوبصورتی، اس کی زبان ان کے علاقوں اور اقداروں کی وجہ سے پہنچانا جائے اس سلسلے میں ہم پچھلے دس برسوں سے کام کررہے ہیں اور اب کسی حد تک اپنے مقاصد کی کامیابی کی جانب گامزن ہیں یہی وجہ ہے کہ عالمی ثقافتی کا نفرنس میں جو ابوظہبی میں اپریل 2017 کے آغاز میں منعقد ہوئی تھی اس میں پہلی مرتبہ پاکستان کی نمائندگی بھی ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کراچی یونیورسٹی کے بزنس اسکول کے طلبہ و طالبات کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بزنس اسکول کے طلبہ و طالبات نے اپنے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور اساتذہ کے ہمراہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے آرٹس کونسل کے اسکول، اکیڈمیز اور بلڈنگ کادورہ بھی کیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے طلبہ وطالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان طبقے کو ہی اب اس ملک کی بہتری کے لئے آگے بڑھنا ہے وہ آگے بڑھیں گے تو ملک ترقی کرے گا اور دنیا کے نقشے پر اپنی ایک خاص پہچان بنائے گا۔ لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو ایک ہی مسئلے میں ڈال دیا گیا ہے وہ اپنی مرضی اپنی خوشی کے لئے نہیں بلکہ پیساکمانے کے لئے اور پیسا جمانے کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں جس ملک میں نوجوان ہی اپنی ثقافت سے دور ہونے لگیں اس ملک میں ترقی کیسے آئے گی۔ انہو ں نے بتایا کہ آرٹس کونسل میں ہر سال یوتھ فیسٹول باقاعدگی سے منعقد کیا جاتا ہے جو اس بات کی کوشش ہے کہ ہمارے نوجوان ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور اپنے اندر موجود خداداد صلاحیتوں کو باہر لائیں ان کو نکھاریں اور اپنے فن کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا مقام بنائیں اور اپنے ملک کی پہچان بنے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد احمد شاہ نے بتایا کہ آرٹس کونسل میں پچھلے دس سالوں میں اتنا کام ہوا ہے کہ اب اس ادارے کو دنیا بھر میں جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں عالمی ثقافتی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کیا گیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے ملنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوا کہ ابھی ہم ثقافتی اعتبار سے دنیا کے نقشے پر نہیں ابھرے ابھی ہمیں مزید محنت کرنی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کو ثقافتی طور پر اجاگر کرنا ہے دنیا بھر میں پاکستان کے اچھے رنگوں کو دکھانا ہے اور انشاء اللہ ہم پوری محنت سے وہ دن جلد لائیں گے کہ پاکستان کو اس دہشتگردی اور خون
خرابے کے بجائے اس کی ثقافت، سازو سر اور رنگوں سے پہنچانا جائے۔
کراچی ( ) میر علی نواز ناز اور بالی بیگم کا عشقِ لازوال اور اس کی کلاسیکل داستان سندھ کے ادبی و ثقافتی حلقو ں میں بے پناہ مشہورہے جہاں خیر پور کے میر صاحب ایک لاہور کی لڑکی کو دل دے بیٹھتے ہیں جبکہ وہ میر صاحب کی محبت کا فائدہ اٹھا کر ان کی دولت لوٹانے میں مصروف ہوجاتی ہے اور بالآ خر میر صاحب دل برادشتہ ہو کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ان کے آخری ایام میں بالی بیگم کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے لیکن وقت انہیں ندامت کا موقع نہیں دیتا۔ آرٹس کونسل میں گذشتہ شب پیش کیا جانے والا ڈرامہ ’’بالی‘‘ میں سندھ کی یہ داستان سندھی زبان میں بہت ہی خوبصورتی سے پیش کی گئی ڈرامے کی تحریر ابراہیم کول کی تھی جبکہ ہدایات فہیم اللہ بھٹی نے دیں۔
Pictures: 

24 April 2017:

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ موسیقی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے چےئرمین یوتھ کمیٹی سید اسجد بخاری نے کہا کہ موسیقی ہو یا تھیٹر، تقریری مقابلہ ہو یا تحریری ہر میدان میں ہمارے یہاں باصلاحیت افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے آج کی تقریب میں مہدی حسن کے شاگرد شعیب نجمی کی شاندار پرفارمنس اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے یہاں فن سیکھنے اور سکھانے والوں کی کمی نہیں آج بھی ہمارے نوجوان سیکھنے کے جذبے اور اپنے ہنر کو تراشنے کے فن سے آشنا ہیں۔ آرٹس کونسل نے ہمیشہ سے کوشش کی ہے کہ ملک میں موجود باصلاحیت لوگوں کے فن کو دنیا کے سامنے لائے اور انہیں ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کرے جہاں وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس موقع پر میوزک کمیٹی کے چےئرمین کاشف گرامی بھی موجود تھے۔ تقریب میں گلوکار شعیب نجمی، حسن علی اور صائمہ قریشی نے اپنی پرفارمنس سے حاضرین محفل کی خوب داد وصول کی محفل رات گئے تک جاری رہی جس کی نظامت کے فرائض نعمان خان نے انجام دےئے۔

 

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹول میں گذشتہ روز اردو ڈرامہ ’’محبت جائے بھاڑ میں‘‘ اور سندھی ڈرامہ ’’بھگت سنگھ کی کی پھانسی‘‘ پیش کیا گیا جبکہ ارتھ ڈے کے حوالے سے خصوصی ڈرامہ ’’دھرتی میری ماں‘‘ پیش کیا، ڈرامہ ’’محبت جائے بھاڑ میں‘‘ ایک رومانوی کہانی تھی جس کی ہدایت عظمیٰ سبین نے دی تھی جبکہ تحریر بابر کی تھی ۔ سندھی ڈرامہ ’’بھگت سنگھ کی پھانسی‘‘ پر بھگت سنگھ کی زندگی کے چند پہلوؤں پر مبنی تھا جس کو ڈرامائی تشکیل شیخ ایاز نے دی۔ جبکہ ہدایات ناز سیٹھو کی تھی۔ ’’دھرتی میری ماں‘‘ ماحولیات کے حوالے سے لکھا گیا ایک خوبصورت ڈرامہ تھا جس میں لوگوں کو ماحول کی خوبصورتی کے حوالے سے خصوصی باتیں سمجھانے کی بھی ایک خاص انداز میں کوشش کی گئی۔ جس کی ہدایات اور تحریر ناہید وحید کی تھی۔

Pictures:

Dharti Meri Maa Cap 2

Dharti Meri Maa Cap 1

Bhar me Jaye Mohabbat Cap 2

Bhar me Jaye Mohabbat Cap 1

Bhagat Singh ki phansi cap 2

Bhagat Singh ki Phansi 1

Sindh Theater Festival Drama Bhagat Sindh Khe Phansi

 

کراچی ( ) لائبریری کمیٹی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور تھر ثقافت سبھا کے زیر اہتمام 25 اپریل منگل شب 9 بجے گراؤنڈ فلور پر معروف گلو کار سجاد حسین اور اکرام مہدی حسن کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے تقریب کے مہمانان خصوصی کامران بلوچ رند اور انجینئر شاہ میر ہونگے جبکہ مہمانان اعزازی۔ عزیر قریشی (الحمد)، شاعر نقاد سرور جاوید، ڈرامہ نگار ابنِ آس اور ٹی وی اداکارہ عظمیٰ شیخ وسیم ہونگے دیگر مقررین میں پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر عالیہ امام اور امجد شاہ شامل ہیں اس موقع پر جو فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے ان میں عمران حسین ، ساجد حسین، فیصل سرفراز، خلیل قریشی، راشد اکرام مہدی حسن، صغیر جمیل، شہروز حسین، محمد زبیر اور اسلام الدین میر شامل ہیں۔

 

کراچی ( ) لائبریری کمیٹی، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور محمد علی فیڈریشن کراچی کے زیر اہتمام 25 اپریل رات 8 بجے اوپن اےئر تھیٹر میں محمد علی ایوارڈ کی تقریب منعقد کی جارہی ہے جس کے مہمان خصوصی ڈی آئی جی ڈاکٹر جمیل اور ایس ایس پی ٹریفک اعجاز احمد شیخ ہونگے جبکہ تقریب میں گلوکار ہنی خان اپنی پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گی۔

 


22 April 2017:

آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر آفتاب مضطر کی تحقیقی اور عروضی مضامین پر مشتمل کتاب ’’ عام عروضی مغالطے‘‘،کی تقریب رونمائی گزشتہ شب منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر یونس حسنی، پروفیسر محمد رئیس علوی، نصیر ترابی، پروفیسر انوار احمد زئی، ڈاکٹر عزیز احسن، سہیل احمد، انجم جاوید، حمیدہ کشش، سرفراز زاہد ، انیس جعفری اور دیگر نے کتاب اور صاحب کتاب کے حوالے سے گفتگو کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام دیئے۔ اس موقع پر صاحب صدر پروفیسر سحر انصاری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب مضطر کا تحقیقی کارنامہ ’’ اردو کا عروضی تقاضے‘‘ ( تنقیدی مطالعہ) وہ نادر کاری ہے جو نہ صرف تحقیقی ہے بلکہ تنقیدی اور تخلیقی مواد سے بیک رخ مرصع بھی ہے، مدتوں بعد ایک ایسا تحقیقی مقالہ اہل اردو کے سامنے آیا ہے جو اپنی موضوعی ندرت کی بنیاد پر محقق کی یعنی ڈاکٹر آفتاب مضطر کی داخلی انجذابی کیفیت کامکمل مظہر ہے ایسا مظہر کہ جسے ڈاکٹر آفتاب مضطر کا وجدانی ظہور بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے ایک نشست میں نہیں لکھی بلکہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جو وہ وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ہیں، ہمارے یہاں عام طور پر عروض کو ایک مشکل موضوع سمجھا جاتا ہے اس پر گفتگو نہیں ہوتی۔ کچھ عرصہ قبل تک کالجز او ریونیورسٹیز میں عروض کا مضمون پڑھایا جاتا تھا اب یہ سلسلہ مفقود ہوچکا ہے اور ایسی کوئی چیز نصاب میں نظر بھی نہیں آتی، عروض ایک علم ہے اس سے خود زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ڈاکٹر آفتاب مضطر کی کتاب بہت ساری غلط فہمیاں دور کریگی جو ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں، پروفیسر ڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب مضطر کی متعدد کتابیں شائع ہوچکی ہیں سب کو قارئین نے بہت سراہا، ان کی یہ کتاب ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو انہوں نے جامعہ کراچی میں جمع کرایا اور اس پر ان کوپی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کی گئی، اس مقالے میں اکثر و بیشتر وضع استدلال اور رفع استدلال کی فکری فعالیت سے بھر پور کام لیا گیا ہے۔ دلیل کو احسن طریقے پر خرچ کرنے کا نام ہی استدلال ہے۔ یہ مقالہ دراصل ایک استدلالی مجادلہ ہے۔ اس مقالے میں پرانے عروضی دلائل کو نئے نتائج کے ساتھ برآمد کیا گیا ہے اور یہی اس مقالے کے تخلیقی روےئے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح تخلیقی لحاظ سے یہ مقالہ جدید و قدیم عروضی دشواریوں کی گرہ کشائی کے فریضے پر از خود مامو ر ہوگیا ہے۔ تحقیق کرنا فی الاصل علم کی جبلتی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے پاس علم کی اس جبلتی ضرورت کا شعور سرگرم و تجس نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر آفتاب مضطر کی حیثیت اس مقالے میں آئینہ ساز کی نہیں بلکہ عکس کو آراستہ کرنے والے کی ہے یوں ڈاکٹر آفتاب مضطر نے مغالطوں اور لغزشوں کے تیرہ خانے میں اعتبار کی روشنی کے ذریعے راستی کے متلاشی کو اثباتی تائید کا راستہ ڈھونڈ نکالنے کی گنجائش سے قریب کردیا ہے۔ پروفیسر انوار احمد زئی نے کہا کہ یہ کتاب نصاب کا حصہ ہونا چاہئے نوجوان نسل اس سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ پروفیسرر ئیس علوی نے کہا کہ ہمارے ادیب اور دانشوروں کو چاہئے کہ وہ ایسے موضوعات پر کتابیں لکھیں جو ہمارے یہاں نہیں لکھی جارہی، لائبریری کمیٹی کے چےئرمین سہیل احمد نے کہا کہ آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی قیادت میں ادب، ثقافت کی خدمت کے لئے کوشاں ہیں۔ حمیدہ کشش نے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب مضطر نے غزلیں، نظمیں اور گانے بھی لکھے ہیں جن کو بہت پسند کیا گیا۔ انجم جاوید نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب مضطر ایک شگفتہ طبع انسان ہیں۔ یہی شفتگی ان کے تحریری اظہار میں بھی بے ساختہ درآتی ہے اب تک جو شاعری ان کی سامنے آئی ہے وہ صرف 20 فیصد ہے 80 فیصد شاعری ان کی ابھی تک سامنے نہیں آئی، سرفراز احمد نے کہا کہ ڈاکٹر آفتاب مضطر کی یہ کتاب ایک نئی بحث آغاز ثابت ہوتی اور یہ مکالمہ کی دعوت بھی دیتی ہے میرا خیال میں یہ برصغیر کی پہلی کتاب ہے جو اس موضوع پر لکھی گئی ہے، ڈاکٹر عزیز احسن نے کہا کہ عروض ایک مشکل شعبہ ہے جس کو ڈاکٹر آفتاب مضطر نے چنا اور بہت خوبصورتی سے کام کررہے ہیں، آخر میں صاحب کتاب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آرٹس کونسل کا شکر گزار ہوں کہ انہو ں نے میری کتاب کے لئے اتنی شاندار تقریب کی اور انہوں نے صاحب صدر کو پیش کی۔

Picture: Dr Aftab Muztir Book Launch

News 2

 آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی میں سندھ تھیٹر فیسٹیول کے ساتویں روز بھی شائقین کی بڑی تعداد نے تھیٹر آرٹس کونسل کارخ کیا ۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ آرٹس کونسل میں منعقدہونے والے تھیٹر ز اپنی مثال آپ ہوتے ہیں جہاں ہم اپنی فیملیز کے ساتھ آتے ہیں اور معیاری تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔آرٹس کونسل میں سند ھی ڈرامہ’گل چنو گرنار جو‘ پیش کیا گیاجو صوفی ازم اور شاعری کی خوبصورت مکالہ بازی اور کردار سازی کے بہترین انداز میں ہدایات کار روشن علی شیخ نے پیش کیا۔ڈرامے کے مصنف آغا سلیم نے اس میں سندھ کی شاعری، صوفی رنگ کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ ڈرامے کی شکل میں ڈھال کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ جیسے شائقین نے بہت پسند کیا۔

“Gul Chhino Girnar jo” is a historical and musical play is written by a famous and well versed writer Agha Saleem. In this wonderful drama, the writer focuses the narrative on two characters of mystic poet Shah Abdul LatifBhitai; one is Beejal(A singer) and other RaiDiyach(The king of that time). This play is based on the secrets of Mysticism and spirituality, love of music and sacrifice, importance of commitment and worth of patience. Diyach, actually is a wonderful musician himself and his wife, Sorath sings very beautifully and on the other hand the rajah of neighboring territory, AneeRai is entirely opposite to Diyach in every way. There is a conflict between both the Rajahs but AneeRai does not have the potential to take revenge from Diyach. Someone advises him that Diyach could only give his life while listening to enchanting music. So he plans to send a well known musician and singer to Diyach’sterritory to inspire him and to behead him against of his soul capturing music. Finally Beejal goes to Diyach’s city and starts singing in streets, and ultimately he arrives at Diyach’s court. When Diyach listens to him sing, he appreciates him and presents him with a precious necklace but he refuses to accept the present. This act of Beejal puts Diyach in a strange state of mind. It brings him to the realization of what actually was on Beejal’s mind. Eventually Diyach urges him to tell what he actually wants from him. And hesitantly Beejal asks Diyach for his head and that shakesDiyach completely. In the end, Diyach agrees to give his life to him.

Picture: Drama Gul chhino ginar jo

News 3

کراچی ( )پریس اینڈ پبلیکیشن کمیٹی ،آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 1لیاس جنڈالوی کی منظوم کتاب’کارِدرویش فکرِ خدا وندی‘کی تقریب رونمائی 23 اپریل بروز اتوار شام بجے۔گلرنگ میں منعقد کی جارہی ہے۔جس کے مہمان خصوصی سردار آفتاز خان جبکہ دیگر مقررین میں سردار نزاکت حسین، سردار فیصل خان، سردار صغیر خان (ایڈوکیٹ)،سردار طارق وطن یار خان، سردار شیراز خان، ڈاکٹر شعیب قادری ، مولانا اسعد،سردار سکندر مغل،سردار لیاقت کشمیری اورمولانا مقبول الرحمن شامل ہیں ۔تقریب کی نظامت کے فرائض منصور ساحر انجام دیں گے۔


21 April 2017:

                      دھرتی کا عالمی دن ”ارتھ ڈے“ کی تقریب آرٹس کونسل میں آج ہو گی
تقریب میں دھرتی اور اس کے ماحولیات کو درپیش خطرات پر ڈرامہ اور تقاریر ہوں گی
کراچی ( پ۔ر) عالمی ارتھ ڈے کے موقع پر سندھ کے محکمہ تحفظ برائے ماحولیات “EPA”کی جانب سے ہفتہ 22اپریل ، دوپہر 2بجے آرٹس کونسل کراچی کے اے سی آڈیٹوریم میں دھرتی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس میں ماہرین ملک میں ماحول کو درپیش خطرات اور اس کے سدِ باب پر مباحثہ کریں گے۔اس موقع پر ”ارتھ ڈے“ کے حوالے سے خصوصی ڈرامہ ”دھرتی میری ماں“ پیش کیا جائے گا۔ آرٹس کونسل نے شہر کے تمام نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ اس مباحثے اور ڈرامے میں شرکت کر کے ماحولیات کو بہتر بنانے کی کوششوں میں حصہ دار بنیں تاکہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ ایک آدمی ایک درخت کی بنیاد پر ہر سال 20کروڑ درختوں کا
اضافہ ہو سکے۔
***

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی یوتھ کمیٹی کے زیر اہتمام میوزیکل پروگرام 22 اپریل 2017ء کو شام:30 8 بجے منعقد کیا جارہا ہے جس میں گلوکار شعیب نجمی، حسن علی اور صائمہ قریشی پرفارم کریں گے۔


21 April 2017:

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام خصوصی بچوں پر لکھی گئی ڈاکٹر پرویز مستری کی کتاب ’’کئیرنگ آف اسپیشل چائلڈ ‘‘کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل میں منعقد ہوئی۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر اسپیشل ایجوکیشن جھمن رتھی تھے جبکہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر اقبال میمن،ڈاکٹر ادریس،حسینہ معین، انجم رضوی اور شاہدہ اسرار کنول شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر اسپیشل ایجوکیشن تقریب میں خصوصی بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی اور گفتگو کا حصہ بنے جبکہ مشہور شاعر رساء چغتائی کی نواسی(اسپشل چائلڈ) نے تقریب کے شرکاء کو گیت بھی سنا یا۔جھمن رتھی نے کہا کہ پرویز مستری کی یہ کتاب خصوصی بچوں کے حوالے سے لکھی گئی ایک جامع کتاب ہے جس میں ان کی پیدائش کے بعد سے انکے عمر کے مختلف حصوں تک کی تربیت، احساسات،جذبات اور ان کی دیکھ بھال کے حوالے سے ہر بات کو شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے خصوصی بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ بھی ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں بس دوسروں سے ذرا مختلف ہیں لیکن قدرت نے ان کے اندر کئی صلاحتیں رکھی ہیں۔یہ بچے عام بچوں سے کئی قدر زیادہ صلاحیت مند اور ہنر مند ہوتے ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی صلاحیتوں کی قدر کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ اپنے اور اس ملک کی بہتری کے لئے آگے بڑھ سکیں۔حسینہ معین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مستری نے ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا یا ہے جو بہت حساس ہے ۔ان کی کتاب میں خصوصی بچوں کے حوالے سے جو معلومات درج ہیں وہ ان والدین اور اداروں کے ٹیچرز کی بہت مدد کریں گے جو اسپیشل بچوں کی تربیت اور نگہداشت کرتے ہیں۔اس کتاب میں انہیں ان بچوں کی تربیت، ان کو کیسے پروان چڑھا یا جائے، ان کی گرومنگ کیسے کی جائے، ان کو کیسے زندگی کے آداب سیکھائے جائیں ہر بات کی رہنمائی ملتی ہے۔انجم رضوی نے خصوصی بچوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کے گھر جب خصوصی بچے جنم لیتے ہیں تو وہ انہیں مولائی کر کے چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری دنیا میں کسی انسان کی کسی کمی کا بہت مذاق بھی بنایا جا تا ہے یہ اہل قلم ہی ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے ایسے پہلو پر بھی قلم اٹھائیں اور ایسے پہلووں کو اجاگر کریں اور ان کے حوالے سے بات کریں لیکن ہمارے یہاں ادبی حلقوں میں یہ بات شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے کہ کویہ صاحب قلم کسی ایسے موضوع پر لکھے۔میری گذارش ہے کہ پرویز مستری کی طرح باقی اہل قلم بھی ایسے موضوعات پر لکھیں جو معاشرے کا خاص حصہ ہیں۔ڈاکٹر اقبال میمن نے کہا کہ خصوصی بچوں کی پیدائش ان کے والدین کے لئے ایک چیلنج اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ ان کی پرورش کیسے کی جائے کیسے انہیں دنیا کے سامنے کھڑا کیا جائے انہیں نہیں معلوم ہوتا یہی وجہ ہے کہ ایسے بچوں کو نظر انداز کر دیا جا تا ہے ۔پرویز مستری کی یہ کتاب ایک رہنما کتاب کا درجہ رکھتی ہے جو ایسے بچوں کے والدین اور اساتذہ کے لئے سنگ میل ثابت ہوگی۔شاہدہ اسرار کنول نے کہا کہ آرٹس کونسل جہاں ادبی و ثقافتی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے وہیں خصوصی بچوں کے پروگرامز کو بھی خاص جگہ دیتی ہے۔آرٹس کونسل کے صدرمحمد احمد شاہ خصوصی بچوں سے خاص محبت رکھتے ہیں اور انہیں’ ایکسٹر ایبل چائلڈ‘کہتے ہیں۔ان کی کاوش تھی کہ آرٹس کونسل میں یوتھ فیسٹیول جہاں عام بچوں کے لئے منعقد کیا جاتا ہے وہاں خصوصی بچوں کے لئے بھی فیسٹیول کا اہتمام خاص طور پر کیا جا تا ہے۔ڈاکٹر پرویز مستری نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے بہت سے بچے آتے ہیں ہم ان کے والدین کو احتیاطی تدابیر اور ان کی دیکھ بھال کے طر یقے بتا تے ہیں ۔میری خواہش تھی کہ ایسے تمام بچے معاشرے میں ایک مقام حاصل کریں جو ان کا حق ہے اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ان کے والدین ان کا ساتھ دیں ان کی مدد اور اچھی پرورش اور دیکھ بھال کر کے انہیں معاشرے کا ایک کار آمد فرد بنائیں۔یہ اسی سوچ کی تکمیل کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل ہمیشہ خصوصی بچوں کے لئے کوئی نہ کوئی تقریب منعقد کرتی ہے اس لئے میری خواہش تھی کہ میری کتاب کی رونمائی بھی اسی ادارے میں ہو۔محمد احمد شاہ کے تعاون سے میری یہ تقریب منعقد ہوئی۔

 Picture: Special Child Care Book Launching

News 2

آرٹس کونسل آف پاکستا ن کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹیول کے چھٹے روز معروف ڈرامہ نگار و ہدایت کار سر مد صہبائی کا ڈرامہ’ڈارک روم‘ سندھی زبان میں پیش کیا گیا جس کی ہدایات پارس سومرو نے دیں۔ ڈراک روم معاشرے کی تلخیوں پر مبنی ایک ڈرامہ ہے جسے ستر کی دہائی میں لکھا گیا تھا لیکن آج بھی اس کی تازگی برقرار ہے کیونکہ اس ڈرامے میں پیش کئے گئے نظریات و واقعات آج بھی زندہ ہیں اور معاشرے کی کہانی آج بھی ویسی ہی ہے جیسے برسوں پہلے تھی۔سر مد صہبائی کا یہ ڈرامہ اس سے قبل انگریزی زبان میں پیش کیا گیا تھا اس کی سندھی زبان کی تشکیل بہت خوبصورت انداز میں کی گئی۔

“Dark Room” is about the general idea of living in this selfish society and accepting the way it functions or just stands against it. Playwright Sarmad Sehbai has effectively portrayed three characters and each one of them represents the lower middle class of the society. These are the people who constantly strive to survive in the corrupt system that swallows the youthful ideas and drains them to the denial of facts and indulges them in the fake world of endless desires. One of the characters stands against the system and chooses to resist the moral decay and raises questions against the corrupt system. Play has been directed by Paras Masroor.

Picture: Dark room 2

Picture: Dark room 1


20 April 2017:

معروف ڈرامہ نگار اور صحافی عمران اسلم کی تحریر پر مبنی تھیٹرڈرامہ ’’تصادم‘‘ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹیول کے پانچویں روز آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں پیش کیا گیا۔ جس کی ہدایات اکبر اسلام نے دی ۔ ڈرامہ’ تصادم‘ ایسے افراد ،زمانے اور نسلوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں جو مذہب ، معاشرے اور قدرت کسی بھی حوالے سے ہوسکتے ہیں۔ مختلف نظریوں کے حامل افراد کے درمیان اختلافات اور ان اختلافات کی تصادم میں بدلتی صورتحال ہی اس کہانی کا خاص حصہ رہی۔ کہانی میں آج کے معاشرے کے تلخ حقائق لوگوں میں برداشت کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ڈرامے میں ایک ہوسٹل کے کمرے میں مقیم نوجوانوں کی کہانی پیش کی گئی جن کے خیالات ، افکار و نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے ایسے میں ان کے درمیان ہونے والی گفتگو بحث و مباحثہ سے لیکر جنگ کی سی صورتحال تک کی کہانی کو ایسے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا کہ حاضرین نے خوب داد دی۔

“Tasadum” is a play about conflicts between two different schools of thought, two ideologies, two generations,Religion and Nature. Play Writer Imran Aslam’s socialist ideas are embedded with extremely crisp satirical dialogues.

The story takes place in a hostel. A bunch of roommates find themselves in warfare of ideas. It’s quite an experience to watch how they deal with it.

Picture: Drama Serial Tasadum (2)

Picture: Drama Serial Tasadum (1)

News 2

ڈاکٹر آفتاب مضطر کی تحقیقی اور عروضی مضامین پر مشتمل کتاب ’’ عام عروضی مغالطے‘‘ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی کے زیر اہتمام جمعہ 21؍ ا پریل شام 6:30 بجے گراؤنڈ فلور میں منعقد کی جارہی ہے جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری کریں گے مہمان اعزازی ڈاکٹر یونس حسنی ہونگے جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں پروفیسر محمد رئیس علوی، نصیر ترابی، پروفیسر انوار احمد زئی، ڈاکٹر عزیز احسن، شاہین عزیز نیازی، سرفراز زاہد ہونگے، نظامت کے فرائض خالد معین انجام دیں گے۔


18 April 2017:

News 1

                       کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹیول کے چوتھے روز سندھی ڈرامہ ’’ مُون میں تُون موجود‘ ‘ پیش کیا گیا۔ جس میں صرف دو ہی کرداروں نے اسٹیج پراپنی پر فارمنس سے حاضر ین کو محظوظ کیا۔ڈرامے کی کہانی دو محبت کرنے والوں کے گرد گھومتی ہے جنہیں ہر شے میں اپنا ہی محبوب دکھائی دیتا ہے۔ڈرامے کی تحریر اور ہدایات ایوب غدیس کی تھیں۔

Moon Main Toon Mojood is the story of a young man and his beloved; who have strong feelings of love for each other. the young man travels too far on the path of love so much so that he sees her face in everyone he comes across. ultimately he absorbs the love of his beloved within him and achieves the highest place without discriminating the external and internal norms and becomes a mystic. Play has been written and directed by Ayoob Gaadis.

Picture: moon me toon mojood 1

Picture: moon me toon mojood 2

 

News 2

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی کے زیر اہتمام مشہور و معروف نعت خواں عزیز الدین خاکی کی کتاب ’’کلیاتِ عزیز خاکی ‘‘کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی ۔تقریب سے لائبریری کمیٹی کے چیئر مین سہیل احمد نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آرٹس کونسل میں جہاں ادبی تقاریب ،سیمینار، مشاعرے ، ڈرامے ہوتے ہیں وہیں ہم مذہبی حوالے سے بھی تقریبات کرتے رہتے ہیں جیسے آج کی تقریب اس کی ایک مثال ہے۔ ہم نے اپنی لائبریری میں بھی نعت و حمد کاا ایک حصہ مختص کیا ہے۔ اور ہم آئندہ بھی نعتیہ مشاعرے، نعت و حمد کی کتابوں کا اجراعء،محفل مسالمہ اور اسطرح کی تقریبات منعقد کرواتے رہیں گے۔ طاہر سلطانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ عزیز الدین خاکی نعت خواں تو بہت اچھے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لغت حمد لکھنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ بھی بہت خوب ہے۔ ان کا اپنا ایک منفرد انداز ہے۔ ڈاکٹر شہزاد احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ عزیز الدین خاکی عشق حقیقی اوران کے محبوب کی محبت میں سرتا پیر ڈوبے ہوئے ہیں اوران کا کلام دل کو چھوتا ہے۔ جس جذبے سے یہ نعت لکھتے ہیں لگتا ہے دل میں اُترتی چلی جاتی ہے اور پھر اسی نعت کو پڑھنے کا بھی اپنا انداز ہے جو اچھوتا ہے ۔یاسین وارثی نے عزیز الدین خاکی کے کلام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں اور زور پیدا کر ے اور یہ اسی طرح اس باری تعالیٰ اور اس کے رسول کی حمد و ثناء کرتے رہیں۔ جناب غلام یاسین قادری نے کہا کہ عزیز الدین خاکی پہلے مضامین لکھتے تھے اور بہت خوب لکھتے تھے۔ اب اچانک انہوں نے حمد و نعت کہنا اور لکھنا شروع کردی اوراب اپنے اچھوتے اور منفرد انداز میں نعتیں پڑھتے ہیں۔ کلیاتِ عزیز خاکی عشق رسول میں تڑپنے والوں کے لئے ایک انمول خزانہ ہے ۔پیر زادہ خالد نے کلیاتِ عزیز خاکی کو حمدو نعت کی دنیا میں اچھا اضافہ قرار دیا۔تقریب کا باقاعدہ آغاز عزیز الدین خاکی کی لکھی گئی حمدسے ہوا جسے محمد ابرار حسین نے خوش الحانی سے پیش کیا اورمقبول فیصل حسن نقشبندی نے پیش کیا جبکہ احمد خیال نے بہت خوبصورت منظوم پیش کیے۔

Picture: Book Launch Kuliyat e Khaki


News 3
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد شاہ نے کہا ہے کہ کلچر سے موثر ہتھیار دنیا میں کوئی نہیں ہے تاہم یہ ہتھیار جان نہیں لیتا، قتل نہیں کرتا کیونکہ یہ محبت کا ہتھیار ہے اس ہتھیار کے ذریعے علاقائی ترقی کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔ثقافتی وفود کے تبادلے کرکے خطے میں محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دیا جاسکتا ہے وہ بنگلہ دیش سے آئی ہوئی ماضی کی عظیم اداکارہ شبنم کے اعزاز میں آرٹس کونسل آف پاکستان میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ محمد احمد شاہ نے کہا کہ مشرقی و مغربی جرمنی ہی نہیں پورے یورپ میں یونی فیکیشن ہورہی ہے ریجنل الائنس مضبوط ہورہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ آرٹس کونسل کے صدر نے واضح کیا کہ گزشتہ دنوں ابو ظہبی میں منعقد ہونے والی عالمی ثقافتی کانفرنس میں انہیں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا جس میں دنیا کے 80 ممالک کے 300 سے زائد مندوبین شریک تھے وہاں دنیا اس امر پر متفق ہوئی ہے کہ اس وقت دنیا کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا تدراک کلچر کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے شبنم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل جب آپ اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ پاکستان آئیں تھیں تو آرٹس کونسل نے اس سے بھی بڑا اور شاندار پروگرام کیا تھاآ ج کے پروگرام کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کو خراج تحسین پیش کرنے آرٹس کونسل میں یوتھ اُمڈآیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ شبنم کل بھی ہماری تھی آج بھی ہماری ہے اور ہم سب کے لئے یہ لمحے یادگار ہیں کہ آج پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ کی عظیم ہیروئن شبنم، عظیم ہیرو ندیم اور عظیم ولن مصطفی قریشی ایک ساتھ ہمارے ہمراہ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ فنکاروں کو سرحدوں کا پابند نہ کیا جائے، فلم اسٹار شبنم نے اپنے خطاب میں آرٹس کونسل کراچی اور محمد احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ احمد شاہ کے کام کے چرچے پاکستان سے باہر بھی ہیں ہم بنگلہ دیش میں کراچی آرٹس کونسل کی سرگرمیوں کو سنتے اور پڑھتے ہیںآج جو تقریب میرے اعزاز میں یہاں منعقد ہوئی ہے میں اسے کبھی بھول نہیں سکوں گی شبنم نے جذباتی لہجے میں کہا کہ آپ لوگوں نے اس قدر والہانہ استقبال کیا کہ میرے پاس الفاظ کم پڑ گئے ہیں۔ فلم اسٹار ندیم نے کہا کہ شبنم کے ساتھ جتنا بھی کام کیا وہ شاندار رہا یہ میری سینئر تھیں ان کے ساتھ شوٹنگ والی رات مجھے نیند ہی نہیں آتی تھی یہ سیٹ پہ ہم سے پہلے پہنچ جاتی تھیں اور ہم شرمندہ ہوتے تھے۔ فلم اسٹار مصطفی قریشی نے کہا کہ میں ہر فلم میں ولن کا کردار ادا کیا ہے تاہم میری خوش قسمتی ہے کہ ایک فلم مستی خان جس میں ہیرو میں تھا اس کی ہیروئن شبنم تھیں۔ ہدایتکار سید نور نے اس موقع پر فلم انڈسٹری کی لازوال فلم آئینہ ٹو بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل اور احمد شاہ جو ٹیلنٹ پروڈیوس کررہے ہیں وہ شاندار ہے میں آج یہاں سے ایک سریلی آواز سویرا کی صورت میں اپنی فلم آئینہ ٹو کے لئے بک کررہا ہوں۔ ٹی وی اسٹار بشریٰ انصاری نے کہا کہ جو عروج میڈم شبنم نے حاصل کیا وہ بے مثال ہے ۔ تقریب سے ممتاز کامیڈین کاشف خان، بیگم سلمیٰ وحید مراد، آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کے ارکان اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

Picture:  Tribute to Shabnam

Picture: Tribute to Shabnam-1

News 4

کراچی ( ) آرٹس کونسل آ ف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پرویزمستری کی کتاب
      Caring of Child’کیئرنگ آف چائلڈ’
کی تقریب رونمائی 19؍ اپریل بروز بدھ شام 5 بجے گل رنگ میں منعقد کی جائے گی جس کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر اسپیشل ایجوکیشن جھومن رتھی ہونگے۔ دیگر مقررین میں حسینہ معین، انجم رضوی، ڈاکٹر محمد ادریس، پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن اور شاہدہ اسرار کنول شامل ہیں جبکہ نظامت کے فرائض آغا شیرازی انجام دیں گے۔

News 5

کراچی ( ) محبت کی لازوال داستانوں میں ہیر رانجھا کی محبت کی داستان آج تک لوگوں کی یاداشتوں میں بستی ہے۔ پنجاب کی گلیوں کی یہ داستانِ عشق دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اس دستان پر جہاں کئی ڈرامے اور فلمیں بنائیں گئی وہیں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹول کے تیسرے روز’’ہیر رانجھا‘‘ اسٹیج پر بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ۔ڈرامہ ’’ ہیر رانجھا‘‘ کی لازوال محبت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ڈرامے کے کرداروں نے اپنی بھرپورپرفارمنس دی۔ کیفی عاظمی کی تحریر اور زرقہ ناز کی ہدایات میں ڈرامہ ہیر رانجھا کو مختصر اور خوبصورت پیرائے میں پیش کیاگیا۔ ڈرامے کو حاضرین نے نہ صرف بے حد پسند کیا بلکہ کھڑے ہو کر داد بھی دی۔


Heer Ranjha

Heer ranjha is perhaps the most famous tragic love story from the Punjab. Heer is a village girl from a rich nobel family of Jhang and Ranjha is from Takht Hazara. On a visit to Jhang , Ranjha falls in love with Heer and decides to stay back as a cowherd. When Heer’s family finds out about their love for each other, events take a tragic turn. Heer is poisoned and Ranjha stabs himself. Director:

Zarqa Naz Writer:

Kaifi Azmi

Cast:

Akber Ladhani as Ravi

Fajar Sheikh as Heer

Umair Rafiq as Ranjha

Saddam Hussain as Qado

Ashfaq Ahmed as Heer’s Father

Damyanti Ghosai as Heer’s Mother/ Saida’s Sister

Rohi Ahmed as Heer’s Friend

Ayesha Iqbal as Ranjha’s Bhabi

Rahil Siddiqui as Ranjha’s Brother

Amir Naqvi as Sarpanj

Samhan Qazi as Qazi

Hasnain Abbas as Ghonga

Muntazir Mehdi as Saida

Asma Noor as Village Girl

Zain Qureshi as Villager

Zeerik Khan as Villager

Anil Tahir as Singer

Picture: Sindh Theater Festival, Drama Heer Ranjha

Picture: Sindh Theater Festival, Drama Heer Ranjha

 Sindh Theater Festival, Drama Heer Ranjha


17 April 2017:

 کراچی (  )برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات نے ہزاروں لوگوں کو صرف اس لئے ابدی نیند سلادیا کہ وہ اپنی زمین کو جہاں کے وہ باسی تھے اپنی ماں کا درجہ دیتے تھے یہی وجہ تھی کہ اس دھرتی کو کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں تھے چاہے کوئی ان کی جان ہی لے لے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری سندھ تھیٹر فیسٹول کے دوسرے روز پیش کئے جانے والا ڈرامہ’’ سندھ منجھی امّاں‘‘ ایسے ہی لوگوں کی کہانی پیش کرتا ہے۔ ڈرامے میں سندھ کے ایک گاؤں کی کہانی پیش کی گئی جس میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ آپس میں ہم آہنگی اور امن کے ساتھ آباد تھے لیکن فسادات نے مذہبی تشدد کو ابھارا اور بڑے پیمانے پر مذہب کی بنیاد پر ہجرت ہوئی، ڈرامہ ’’ سندھ منجھی اماں‘‘ کے مصنف علی روشن شیخ نے اپنی کہانی میں بتایا کہ کوئی بھی زمانہ ہو ہر زمانے کے لوگوں کے لئے دھرتی ماں کا درجہ رکھتی ہے جس طرح آج ہم اپنی دھرتی سندھ سے محبت کرتے ہیں اسی طرح تقسیم ہند کے وقت بھی لوگوں نے موت کو گلے لگا کر اجرک میں سندھ کی اسی زمین میں دفن ہونا اپنے لئے اعزاز کی بات سمجھا اور اس بات کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا کہ وہ اپنی دھرتی چھوڑ دیں ڈرامے کی ہدایت ریاض سومرو نے دی جبکہ کاسٹ میں کاجل سندھو، قاسم ریاض سومرو، ساون عاشق، اینل جاوید شیخ، شیر ولاریب سجن، رتن امجد، گل سومرو اور احمد پٹھان شامل تھے۔

“Sindh Munjhi Amaa” is the story about history’s massive migration of people during the partition of India, in 1947. The writer Ali Roshan Shaikh has illustrated the conditions of a village in Sindh; where many Hindu families lived in areas majorly populated by Muslims with harmony and peace. As soon as the riots began, the fire of religious violence began spreading in Gujarat and reached Lahore within no time. This incident harassed the peaceful Hindu community and they decided to migrate to India in an attempt to save their lives. One of those families decided not to move anywhere and continued to live in their motherland. Eventually the head of the family started receiving death threats but that didn’t change his mind. Finally, he dies in his home and at the time of his death instructs his descendents to wrap his body in an AJRAK and put him in the holy INDUS. His last words to them were to never leave their motherland. Play was directed by Riyaz Soomro.

کراچی (   )حمد و نعت، سلام و مناقب اور منظومات کا مجموعہ’’ کلیات عزیز خاکی‘‘ کی تقریب اجراء لائبریری کمیٹی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 18، اپریل شام6 بجے گراؤنڈ فلور پر منعقد کی جارہی ہے جس کے مہمان خصوصی اعجاز الدین سہروردی، انیق احمد، حاجی حنیف طیب ہونگے جبکہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر شہزاد احمد، اختر سعیدی، عبدالصمد تاجی اور طاہر سلطانی شامل ہیں، تقریب کی نظامت رشید خان رشید اور غلام ےٰسین قادری کریں گے جبکہ متمر وارثی، محمدیامین وارثی اور حافظ الغفار حافظ منظومات پیش کریں گے۔

Picture: PR-Drama Sindh Munjhi Maan

Picture: PR-Drama Sindh Munjhi Maan-2


16 April 2017:

کراچی ( )گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پا کستان کی تمام اکائیاں فوج ،سول حکومتیں، میڈیا اور عدالتیں سب جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہیں تاہم نکتہ نظر اپنا اپنا ہو سکتا ہے اور یہی سولائیز تعلیم یافتہ اور جمہوری کلچر کا خاصہ ہے۔پاکستان کے عوام کو یہ پیغام جا نا چا ہیے کہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔قوم کا درد سب کو ہے خواہ وہ سویلین ہو یا ملٹری مگر اظہار اور سوچنے کا انداز مختلف ہوسکتاہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل میں ریٹائر میجرجنر ل شوکت اقبال کی کتاب’سول ملٹری ایکویشن اِن پاکستان‘کی تقریب اجراء میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ، آغا مسعود حسین اور ڈاکٹرریا ض شیخ نے بھی خطاب کیا۔گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ پاکستان کے جتنے بھی قومی مسائل ہیں ان پر کھل کر بات چیت اور بحث و مبا حثہ ہو نا چا ہیے۔خواہ وہ ملٹری سول تعلقات ہوں یا کشمیر سمیت پاکستا ن بھارت کے دو طر فہ مسائل۔مباحثے میں حصہ لینے والے دونوں جانب کے لوگ محب وطن ہوتے ہیں اور مبا حثے کے بات ہی قومی یکجہتی کے ساتھ مسائل حل کر نے کا راستہ نکلتا ہے جو پائیدار ہو تا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بہت ساری سیاسی جماعتیں موجود ہیں یہ جمہوریت کا ذریعہ ہے کسی بھی آمر کی سر براہی کے دوران کوئی بھی اپنی جائز شکایت بھی نہیں کر سکتا ۔ آج ملک میں قومی صوبائی اسمبلیوں میں قومی اور عوامی مسائل پر بحث ہوتی ہے۔میڈیا اور عدالتیں آزاد ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف کئی فیصلے آچکے۔ غلطیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔عدالتِ عالیہ ایک وزیر اعظم کو گھر بھیج چکی موجودہ حکومت کے خلاف جس قدر میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ۔یہی یہ ایک مستحکم جمہوری اور سیاسی معاشرے کی نشانی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوری روایات اور معاشرے میں عوام ہی فیصلہ کن قوت ہوتے ہیں ۔2008 سے جو جمہوری دورشروع ہوا اس سے خاصی بہتری آئی گو کہ ایک پارٹی کی کارکردگی عوام نے نہ سمجھی 2013میں اسے مسترد کر دیا ۔موجودہ حکومت پر بھی لوگوں کا اعتماد نہ ہوگا تو 2018میں اختیاربھی انہی کے پاس ہوگا کہ حکومت سازی کے لئے آزادانہ فیصلہ کریں۔گورنر سندھ نے کہا کہ آج ملک میں مجموعی طور پر چار سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے ۔پنجاب میں مسلم لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے ایک جمہوری اور سیاسی نظام کے استحکام کی یہ واضح مثال موجود ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود کوئی ایک دوسرے کے امور میں مدا خلت نہیں کر رہا۔پاکستان کی تمام اکائیاں آئین کے اندر کام کر نا چا ہتی ہیں2013میں 126دن کا اسلام آباد میں دھر نا دیا گیامگر مسئلہ آئنیی طر یقے سے ہی حل ہوا۔ پانامہ کا آج دونوں جانب شدید اختلاف موجود ہے تاہم اس مسلئے کو بھی آئینی طر یقے سے حل کر نے پر ہی اتفاق ہوا۔ سپر یم کورٹ جو بھی فیصلہ دے گی وہ ہر کسی کو قبول ہوگا۔ صاحب کتاب میجر جنر(ر) شوکت اقبال نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو جمہوریت کو مضبوط کر نے کے لئے اپنے اندر انتخابات کا طر یقہ موثر بنانا چا ہیے تا کہ جمہوری کلچر نچلی سطح تک جائے۔سول ملٹری تعلقات پاکستان کی ترقی اور مضبوطی کا ضامن ہے۔ملک کو چلانا سول حکومت کا آئینی حق اور ذمہ داری ہے ۔ مگر اداروں کو مضبوط کر نا ان کے فرائض میں شامل ہے۔جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کئے بغیر مقبول ترین قیادت اور اسمبلی کی دو تہا ئی اکثریت بھی ملٹری مدا خلت کو روک نہیں سکتی جن کی مثال ذو الفقار علی بھٹو اور نواز شر یف کی حکومتیں ہیں۔ آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں جمہوریت اور دلائل کے ساتھ گفتگو سے کلچر مضبوط ہو ر ہا ہے۔ایک ریٹائر جنرل نے کتاب ملٹری سول تعلقات کے حوالے سے لکھی جس میں بہت سارے تاریخی حوالے دیئے گئے ہیں جو ایک نیک شگون ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی اور سیاست دان کی تربیت مختلف ہے تاہم مسائل کو حل اور اپنا نقطہ نظر پیش کر نے کے لئے ضروری ہے کہ بحث و مباحثے کا عمل جاری رکھا جائے۔ سنیئر صحافی آغا مسعود نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت ،پر ائمری تعلیم کو عام۔ لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مضبوط اور وسائل اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کر نے سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔ڈاکٹر ریاض شیخ نے کہا کہ صاحب کتاب نے ایک جنرل ہونے کے باوجود ملٹری اور سول تعلقات پر کھل کے بات کی یہ ایک نیک شگون ہے۔انہوں نے کتاب کے ایک پیرے کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1947 میں جاگیداروں نے مسلم لیگ میں شمولیت اپنی
جاگیریں بچانے کے لئے اختیار کی۔
Picture: Pic-1
Picture: Pic-2

15 April 2017:

کراچی(   )محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ اور آرٹس کونسل آف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ سندھ تھیٹر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب ہفتے کی شب آرٹس کونسل آف پاکستان میں منعقد ہوئی ۔صدر آرٹس کونسل آف پاکستان محمداحمد شاہ اور سیکرٹری ثقافت وسیاحت غلام اکبر لغاری نے ربن کاٹ کر سندھ تھیٹر فیسٹیول کا افتتاح کیا۔،افتتاح کے موقع پر سیکرٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی ،حسینہ معین ،بشیر سدو زئی ،شکیل خان ،اسجد بخاری ،اقبال لطیف اور دیگر موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل نے کہاہے کہ سندھ تھیٹر فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد صوبے میں مختلف قومیتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے ،اس تھیٹر فیسٹویل میں معروف ڈرامہ نگاروں کے مجموعی طور پر16ڈرامے پیش کئے جائیں گے جن میں7اردو اور9سندھی 143ڈرامے شامل ہیں۔سندھ تھیٹر فیسٹویل کو بے حد پزیرائی حاصل ہوئی ہے،اب تک5دنوں کے بکنگ ایڈوانس میں ہی مکمل ہوچکی ہے۔جبکہ باقی دنوں کے ڈراموں کی بکنگ پیر سے جاری کئے جائیں گے،اور تمام ڈراموں کے پاسز بلا معاضہ اور بلا تفریق عام شہریوں کے لئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔مستقبل میں بھی آرٹس کونسل آف پاکستان ،محکمہ ثقافت و سیاحت کے اشتراک سے شہریوں کے لئے تفریحی مواقع فراہم کرتی رہے گی۔بعد ازیں ممتاز درامہ نگار وڈائریکٹر خالد احمد کا ڈرامہ سوئے دار چلے پیش کیا گیا،جسے سامعین نے بے حد سراہا۔ڈرامے کی کاسٹ میں عائشہ اقبال،سحرش قادر،نادر حسین،رحمان قریشی،عمیر رفیق، اویس مبشر،عرفان بردائی،ہانی طاہا،،منزہ فاطمہ،عدنان صمد ، سید ارسلان،احمد عادل اور
حسنین شامل تھے۔اتوار کو سندھی ڈرامہ سندھ منجھی اماں پیش کیا جائے۔
Picture: Cap1 (1)

15 April 2017: 

معروف گلوکارہ حمیرا چنہ نے آرٹس کونسل میں پاکستان کی تمام زبانوں میں گیت سنا کر محفل لوٹ لی

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی تمام ثقافتوں کا گلدستہ اور حمیراچنہ پاکستان کی یکجہتی کا نشان ہیں ۔ یہ پاکستان کی واحد گلوکارہ ہیں جو اردو ،سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو ،پلوچی اور پاکستان کی دیگر علاقائی زبانوں میں بہت خوبصورت گاتی ہیں اور یہی پاکستان کی یکجہتی کا نشان ہے۔ ان خیالات کا اظہار آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے آرٹس کونسل کے ماہانہ پروگرام بیٹھک میں گلوکارہ حمیراچنہ کی پرفارمنس کے موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زبان کی بنیاد پر کوئی جھگڑا نہیں جس زبان میں میں بھی گیت گایا حاضرین نے برابر پذیرائی کی۔ آرٹس کونسل کراچی نے شہریوں کے لئے بیٹھک کے نام سے یہ پروگرام شروع کیا ہے جس میں ملک کے معروف گلو کار ہر ماہ پر فارم کرتے ہیں۔پروگرام میں ممتاز گلوکارہ حمیراچنہ نے بہترین پرفارمنس پیش کی۔ اردو کے علاوہ پنجابی۔سندھی۔سرائیکی۔پشتو اور بلوچی زبان کے مشہور کلام پیش کر کے مجمعے سے زبردست داد وصول کی۔تقریب میں ممبران آرٹس کونسل کے علاوہ شہر کراچی کے معزز ین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور حمیرا چنہ کے سروں سے رات گئے تک محضوظ ہوئے۔ حمیرا چنہ نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل نے ہمیشہ ہی اپنے ممبران اور شہر کراچی کے لوگوں کی تفریح کے لیے معیاری پروگرام منعقد کئے ہیں میں خود کئی بار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی دعوت پر آرٹس کونسل میں پر فارم کرچکی ہوں اور ان کی بے حد مشکور ہوں کہ وہ اتنے اچھے سامعین و حاضرین کے سامنے اپنا فن پیش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں مجھے ہر بار یہاں آکر اتی ہی خوشی محسوس ہوتی ہے جتنی آج ہورہی ہے تقریب کے آخر میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے حمیرا چنہ کو پھولوں کا تحفہ پیش کیا اس موقع پر چیئرمین میوزک کمیٹی کاشف گرامی بھی موجود تھے جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض نعمان خان نے انجام دیئے۔

Humaira Channa stole the show at Arts Council

Renowned singer Humaira Channa stole the show last night with her performance at Arts Council during a musical night BAITHAK organized for its members and general public. The singer sang new and old songs in all the regional languages for the first time and received immense appreciation from the crowd. The event was attended by esteemed members of the organization who were thoroughly entertained by Miss Channa’s performance. While interacting with the media, the singer said how she feels immensely elated and honored to perform at Arts Council where the audience members and the front runner of the organization Mr. Ahmed Shah is a true lover of her voice and her performance. It is always an honor and pleasure to perform at Arts Council. She spoke of her association with Mr. Shah who has invited her to perform on various occasions. At the conclusion of the event, Mr. Ahmed Shah presented Humaira Channa with a bouquet of flowers while Mr. Kashif Gerami, the Chairman of Music Committee was also present. Noman Khan was the host for the event.

Picture: Humera Channa-News


News 2

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی معروف فلم اسٹار شبنم کیلئے اعتراف کمال تقریب کرے گی۔

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 17اپریل بروزپیررات8بجے ماضی کی عظیم اداکارہ شبنم کااعتراف کمال منعقدہ کیا جارہا ہے۔میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بتایا کہ لیجنڈری فلم اسٹار شبنم کے اعزاز میں منعقدہ اعتراف کمال کی یہ تقریب اپنی نوعیت کی منفرد تقریب ہوگی جسے شبنم کے پرستار اور آرٹس کونسل کے ممبران مدتوں یاد رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق فلم اسٹار شبنم کی 40سالہ فلمی خدمات کے اعتراف میں آرٹس کونسل نے ان کے اعزاز میں خصوصی طورپر تقریب پذیرائی کا اہتمام کیاہے اس موقع پر فلمی صنعت کے وہ تمام ستارے جنہوں گذشتہ دور میں شبنم کے ساتھ فلموں میں کام کیا ہے اور عصر حاضر کے فلمی ستارے مشترکہ طورپرانہیں خراج تحسین پیش کریں گے۔تقریب میں اداکار ندیم ،مصطفی قریشی، معمر رانا، سید نور،اداکار شاہد،سنگیتا بیگم ، ، ستیش آنند کے علاوہ و دیگر معززین شوبز کی خصوصی طورپر شرکت متوقع ہے اوروہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

Arts Council will pay tribute to yesteryear film star Shabnam in a special ceremony.

Arts Counil of Pakistan Karachi will organize a special ceremony under supervision of President Ahmed Shah to honor yesteryear actress and film star Shabnam on Monday 17th April 2017 at 8 pm in Arts Council. During an interaction with the media, Ahmed Shah said this tribute ceremony will be a one of its kind event which the fans of the film star will remember for a long time. According to the details, the ceremony  will honor her career spanning four decades and her outstanding contribution to the film industry. The event will be attended by all the film stars, directors and technicians who have worked with her and current actors and stars who will be present to honor and acknowledge her. These will include film star Nadeem, Mustafa Qureshi, Muammar Raana, Syed Noor, Sangeeta Begum, Satish Anand and other notable names of the media industry.


News 3

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام میجر جنرل(ر) شوکت اقبال کی کتاب

Civil Military Equation in Pakistan

کی تقریب رونمائی 16اپریل بروز اتوار شام 4 بجے آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں منعقد کی جارہی ہے جس کے مہمان خصوصی گورنر سندھ محمد زبیر ہوں گے تقریب میں ملک کی ممتاز شخصیات بھی شرکت کریں گی۔

Major General (R) Shoukat Iqbal’s book Civil Military Equation in Pakistan will be unveiled in a special ceremony on Sunday 16th April 2017 at 4pm in AC Auditorium, Arts Council. Governor of SIndh Muhammed Zubair will be the Chief Guest for the event. The event will be attended by notable personalities of the country.

 



 

14 April 2017: 

وزیر اعلیٰ سندھ سید مردا علی شاہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سندھ تھیٹر فیسٹول کا افتتاح کریں گے۔
سندھ تھیٹر فیسٹول کا افتتاح آج 15؍ اپریل 2017ء شام 6 بجے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کریں گے پندرہ روزہ یہ فیسٹول 30 اپریل تک جاری رہے گا جس میں سندھی اور اردو زبان کے تھیٹر ڈرامے پیش کئے جائیں گے اس سلسلے کا پہلا ڈرامہ ’’سوئے درچلے‘‘ آج شب رات 8 بجے اردو زبان میں پیش کیا جائے گا جبکہ دوسرے روز سندھی زبان میں ’’ سندھی مھنجی امّاں‘‘ ڈرامہ پیش ہوگا، سندھ تھیٹر فیسٹول کے مفت پاس آرٹس کونسل آف پاکستان کے باکس آفس سے ایڈوانس میں حاصل کئے جاسکتے ہیں، واضح رہے کہ ایک شناختی کارڈ
پر صرف ایک پاس جاری کیا جائے گا۔
Click on link for  hard-copy

13 April 2017:

خبر نمبر 1

ملک کی معروف گلو کارہ حمیرا چنہ آج آرٹس کونسل میں اپنے سروں کا جادوجگائیں گی
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ماہانہ محفل موسیقی کی بیٹھک میں معروف گلو کارہ حمیرا چنہ آج ( 14؍ اپریل 2017ء) رات 8 بجے اے سی آڈیٹوریم میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی واضح رہے کہ اس سے قبل ماہانہ بیٹھک میں اشتیاق بشیر اور سلمان علوی بھی پرفارم کرچکے ہیں جیسے ممبران آرٹس کونسل اور کراچی شہرکے زندہ دل لوگوں کی جانب سے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ماہ اپریل کی بیٹھک میں گلوکارہ حمیرا چنہ اپنی آواز کا جادو جگائیں گی
 
خبر نمبر ۲
کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں’’ سندھ تھیٹر فیسٹیول ‘‘ 15اپریل سے 30اپریل تک جاری رہے گا۔اپنی نوعیت کے منفرد 15 روزہ اس فیسٹیول میں اردو اور سندھی کے معروف اور نامور تھیٹر گروپس ،ہدایتکار،ڈرامہ نگارکے علاوہ نوجوان ڈرامہ نگار اور ہدایتکار بھی شر کت کر یں گے۔ جس میں میں 9 ڈرامے سندھی زبان میں جبکہ 7ڈرامے اردو زبان میں پیش کئے جا ئیں گے ۔سندھ تھیٹر فیسٹیول کا افتتاح15اپریل کی شام6بجے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کریں گے۔واضح رہے فیسٹیول میں ڈرامہ دیکھنے والوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور یہ ڈرامے لوگوں کو مفت دیکھائے جائیں گے لیکن داخلے کے لئے آرٹس کونسل سے ایڈوانس کوپن شناختی کارڈ دیکھا کرحاصل کئے جا سکتے ہیں۔ سندھ تھیٹر فیسٹیول کے یہ ڈرامے روزانہ رات 8بجے پیش کئے جائیں گے۔