fbpx
Tue. Sep 17th, 2019

Press Release, May 2017

Arts Council of Pakistan Karachi

Press Release

May 2017


 23rd May 2017

ٓآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی اورماہنامہ دنیاادب کی جانب سے نوجوان شعراءکے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا گیا۔جس کی صدارت ڈاکٹر پیر زادہ قاسم نے کی ۔مہمان شعراءمیںثبین سیف اوروجیہ ثانی شامل تھے۔اس موقع پر ڈاکٹرپیرزادہ قاسم نے کہا کہ فنون لطیفہ میں شاعری کو ہمیشہ اولیت حاصل رہی ہے۔ آرٹس کونسل ادب اور ادبیوں کے لئے بہت کام کررہا ہے ۔ نوجوان نسل میں بہت اچھے شاعر اورشاعرہ سامنے آرہی ہیں،اس طرح کے پروگرام سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ آرٹس کونسل کی یہ اچھی کوشش ہے میں اس پر احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو مبارک با د پیش کرتا ہوں۔ثبین سیف اوروجیہ ثانی کی شاعری بہت خوبصورت ہے ۔ان دونوں نے بہت کم عرصے میں ادبی منظر نامے پر اپنی ایک جگہ بنا لی ہے۔تقریب میں ڈپٹی اسپیکرسندھ اسمبلی سیدہ شہلا رضا ،آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر محمد احمد شاہ ،سہیل احمد ،پروفیسر اوج کمال اوردیگر مہمانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

 22nd May 2017

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستا ن کراچی اور دبستان فروغِ خطاطی ملتان اور آرٹ پوائنٹ اسکول آف کیلی گرافی اینڈ فائن آرٹس کراچی کے زیر اہتمام موجدِ خطِ ابن کلیم احسن نظامی کی یاد میں محفل رعنائی بروز منگل، 23 مئی 2017ء، شام 6 بجے، منظر اکبر ہال میں منعقد کی جارہی ہے، جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی ہونگے جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر فاطمہ حسن، سید معراج جامی، پیر سید اعزاز الدین شاہ، احمد انور ( آرٹسٹ)، ملک نواز احمد اعوان ( خطاط)، علامہ مفتی بدالدین اور محمد مختار علی (شاعر و خطاط) شامل ہیں، تقریب میں تمام شرکاء محفل میں ابن کلیم کی خطاطی کا فن پارہ پیش کیا جائے گا۔

 18th May 2017

کراچی(    ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف مصور اقبال مہدی کی نویںبرسی کے موقع پر ان کی صاحبزادی لیزا مہدی اور اقبال مہدی کی بنائی گئی پینٹنگز ، پین اور ڈرائنگز کی نمائش کاافتتاح پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری ،آصفہ بھٹو زرداری اور ر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مشترکہ طور پر کیا۔اس موقع پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ،سنیئر وزیر نثاراحمد کھوڑو ، وزیر ثقافت سردار علی شاہ،سینیٹر سعید غنی،ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلہ رضا،نجمی عالم،وقار مہدی،راشد ربانی بھی موجود تھے۔نمائش میں بھٹو خاندان کی تصاویر خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ نمائش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے پورٹریٹ کی رونمائی بھی بلاول بھٹو اور آصفہ نے کی اور اقبال مہدی اور لیزا مہدی کے آرٹ اور فن کو سراہا۔
Pictures: 

8th May 2017

  کراچی () ممتاز ستار نواز اور موسےقار استاد رئےس خان کے انتقال پر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ اور گورننگ باڈی نے گہرے افسوس کا اظہار کےا، محمد احمد شاہ نے کہا کہ استاد رئےس خان نے پاکستان کی مےوزک انڈسٹری میں لازوال کام کےا ہے ان کی مرتب کی گئی دھنیں ہمےشہ زندہ رہےں گی آرٹس کونسل عنقرےب ان کی ےاد میں تعزےتی اجلاس منعقد کرے گی۔


6th May 2017
کراچی ( )صوبائی وزیر ثقافت سردار علی شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل نے ڈانس فیسٹیول کا انعقاد کر کے ثقافتی پروگراموں کی نئی تاریخ رقم کی ہے ۔رقص ہماری ثقافت کا حصہ ہے مگر اس کے اظہار کے انداز ضرور مختلف ہیں۔موئن جو داڑو میں پانچ ہزار سال قبل بھی رقص کے نشانات پائے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ سیہون میں دھماکے کے بعد صورت حال انتہائی ناگفتہ بد تھی مگر ہم نے اس شب دھمال کا آغاز کردیا تاکہ دنیا بھر میں یہ پیغام واضح انداز میں پہنچ جائے کہ پاکستان زندہ دل لوگوں کا ملک ہے ،پر امن ملک ہے جسے جان بوجھ کر بدنام کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔رقص فطرت کا حصہ ہے جو ہم سب کے اندر موجود ہے جو عمل فطری ہو اس سے دور کیا رہا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ دو روزہ کراچی ڈانس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں جرمن قونصلٹ اور ان کی اہلیہ کے علاوہ آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی اور اراکین آرٹس کونسل کی فیملیز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل مسلسل قومی ثقافتی تقریبات کا کا انعقاد کرکے فخر محسوس کرتا ہے۔ 150 سے زائد آرٹسٹ دو روزہ ڈانس فیسٹیول میں حصہ لے رہے ہیں۔جس میں لاہور ، اسلام آباد ، کراچی، پشاوراور گلگت بلتستان کے فنکار شامل ہیں۔ ڈانس فیسٹیول کے پہلے روز کتھک ،صوفی، ڈھول ڈنڈیا،گلگت بلتستان فوک، فشر مین ڈانس پیش کیا اس موقع پر Group DJ. John نے میڈم نورجہاں کو ان کے گانوں پر ڈانس کرکے ٹریبیوٹ بھی پیش کیا ۔واضح رہے یہ ڈانس فیسٹیول ملکی و علاقائی سطح کا پہلا ڈانس فیسٹیول ہے جن میں رقص کی مختلف صف سے تعلق رکھنے والوں کو ملک کے ہر علاقے سے مدعو کیا گیا ہے۔پرفارمنس سے قبل’’ رقص اور اس کی مشکلات ‘‘کے موضوع پر بحث و مباحثہ کا سیشن بھی منعقد کیا گیا۔ جس میں شیما کرمانی ،ماہر رقاص وہاب شاہ اور ماہر کتھک رقص عدنان جہانگیر نے تبادلہ خیال کیا جبکہ ماروی مظہر نے میز بانی کے فرائض انجام دیئے۔
Pictures:

5th May 2017
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا ہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے ممبران کے لئے منعقد سالانہ کلچر پروگراموں میں ہر ممکن تعاون و اشتراک فراہم کیا جائے گا کیونکہ کراچی پریس کلب میرا پرانا ادارہ ہے اور میں دونوں اداروں میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا آرٹس کونسل میں صحافیوں کی ممبر شپ کیلئے آئین میں خصوصی ترمیم کی گئی اور پہلی مرتبہ صحافی کی حیثیت سے ممبرشپ جاری کی گئی میں نے اپنے دور میں کثیر تعداد میں صحافیوں کو ممبر شپ دی کیونکہ میں سمجھتا ہو ں کہ صحافت بھی ادب کا حصہ ہے۔ ان خیا لا ت کااظہار انہوں نے آرٹس کونسل کی پریس اینڈ پبلی کیشن کمیٹی کی جانب سے کراچی پریس کلب کے عہدیداران و ممبران گورننگ باڈی کے اعزاز میں دےئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر کراچی پریس کلب سراج احمد اور سیکریٹری مقصود یوسفی نے بھی خطاب کیا جبکہ کراچی پریس کلب اور آرٹس کونسل کے ممبران کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل کے دروازے صحافیوں کے لئے کھلے ہیں اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کی جائے گی دونوں اداروں کو مشترکہ کوشش کرنا چاہئے تاکہ شہر میں ادب و ثقافت کو فروغ حاصل ہو۔ کراچی پریس کلب کے سیکریٹری مقصود یوسفی نے کہا کہ کراچی پریس کلب کے ممبران آرٹس کونسل کو اپنا دوسرا کلب سمجھتے ہیں محمد احمد شاہ نے کراچی آرٹس میں کلچر،علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر آرٹ کونسل کو ایک متحرک ادارے میں تبدیل کردیا ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ہم نے اس سے قبل بھی محمد احمد شاہ کے ساتھ ان کے کام کی وجہ سے بھر پور ساتھ دیا اب بھی تعاون جاری رہے گا کیونکہ احمد شاہ شہر میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ پریس کلب کے صدر سراج احمد نے کہا کہ آرٹس کونسل کو پریس کلب کے اشتراک سے بڑے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں تاکہ دونوں اداروں کے ممبران کو فائدہ حاصل ہو، انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کو پریس کلب کے سالانہ اور بڑے پروگراموں میں تعاون کرنا چاہئے، کراچی پریس کلب شہر میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا ہم ان سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں اہم اس میں آرٹس کونسل کا تعاون درکار ہے۔ پریس اینڈ پبلی کیشن کے چیئرمین بشیر سدوزئی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
Picture: 
 

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف کراچی کے زیر اہتمام سندھ تھیٹر فیسٹول اختتام کو پہنچ گیا، سندھ تھیٹر فیسٹول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ معاشرے کا انتہا پسندی کا جواب کلچر کو فروغ دے کر کیا جاسکتا ہے حکومت سندھ نجی اداروں کے اشتراک سے صوبے بھر میں کلچر کے فروغ کے مختلف پروگراموں کا انعقاد کررہی ہے آرٹس کونسل آف پاکستان کے اشتراک سے سندھ تھیٹر فیسٹول اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اس کی کامیابی پر آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی خصوصاً محمد احمد شاہ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ محمد احمد شاہ کلچر کے سپاہی ہیں اور انسانیت کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں کراچی میں ثقافتی، ادبی و سماجی سرگرمیوں کے فروغ میں ان کی گرانقدر خدمات ہیں جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ بہت جلد آرٹس کونسل کے اشتراک سے تھیٹر کی سریس شروع کریں گے جو کراچی کے شہریوں کے لئے ایک بہترین تفریح و تعلیمی پروگرام ہوگا۔ آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل میں پہلی مرتبہ ادب و ثقافت کے نئے نئے برانڈ متعارف کرائے گئے ہیں اور سندھ تھیٹر فیسٹول اس سال کا نیا برانڈ ہے جو ہر سال کیا جائے گا۔ انہو ں نے کہا کہ کلچر لوگوں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ ہے اور جس معاشرے میں لوگوں کو خوشیاں میسر نہ ہوں وہاں مایوسی پھیلتی ہے یہ تھیٹر سندھی اور اردو کھیلوں پرمشتمل تھا جس میں سندھی ڈرامے اردو بولنے والوں نے اور اردو ڈرامے سندھی بولنے والوں نے بڑی دلچسپی سے دیکھے اور انہیں پسند کیا اور یہی یکجہتی کی مثال ہے انہو ں نے کہا کہ آرٹس کونسل آف پا کستان کراچی معاشرے میں علم و ادب اور ثقافت کی ترقی کے لئے شب و روز کوشاں ہے اور روزانہ کئی پروگرامز منعقدہوتے ہیں شاعروں ادیبوں کی کتابوں کی رونمائی ، معاشرے، موسیقی اور دیگر پروگراموں میں نوجوان اپنے سینئر کے ساتھ سیکھنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے موجودہ وزیر سید سردار علی شاہ ثقافت کی ترقی کے لئے شب و روز کوشاں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ وزیر ثقافت کی تقرری ایک درست اقدام تھا۔ اس موقع پر ڈراموں کے ڈائریکٹروں کو ایوارڈز دیا گیا جن میں ریاض سومرو، زرقہ ناز، ایوب ڈار، اکبر اسلام، پارس منصور، علی روشن، ناز سہتو، عظمیٰ سبیل، فہیم یحیےٰ، رفیق احسانی، بازلہ مصطفی، رفیق آبڑو، شاجہاں، انور چودھری اور دیگر شامل تھے۔
کراچی ( )سندھ تھیٹر فیسٹول میں ڈرامہ ’’ ادھوری زندگی’’بیلا، باس اور بُلّی‘‘ اور ’’شیری‘‘ پیش کیا گیا جسے شائقین نے بے پناہ پسند کیا۔ ڈرامہ ادھوری زندگی میں بتایا گیا کہ زندگی کی خواہشات انسان کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑتیں اور یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات پوری کرنے کی جدوجہد میں اپنی زندگی کے اہم لوگوں اور موقعوں کو کھو دیتا ہے لیکن بہت سے خواہشات ایسی ہوتی ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوتی۔ معاشرے کی تلخیوں، غربت اور زندگی کی خواہشات کے حصول کی تگ و دو کی کہانی پر مبنی ڈرامہ ’’ادھوری زندگی‘‘ کی تحریر و ہدایات رفیق احمد ابڑو کی تھیں ڈرامہ سندھی زبان میں پیش کیا گیا۔ بچوں کے لئے مرتب کردہ ڈرامہ ’’بیلا، باس اور بُلّی‘‘ معروف اداکار وہدایتکار خالد انعم کی جانب سے پیش کیا گیا جس میں بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لئے بھی دلچسپی رکھی گئی ڈرامے میں خصوصی گیت بھی پیش کئے گئے۔ ڈرامے کی کہانی میں بچوں کی نفسیات، ان کے مسائل اور ان کی خواہشات کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں موضوع بنائی گئیں جن کی جانب توجہ دینا والدین اور اساتذہ کے لئے بہت ضروری ہے یہی بچے اس ملک کا معمار ہیں اس لئے ان کی پرورش میں ان کی خواہش کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے جبکہ ڈرامہ ’’شیری‘‘ میں تحریک نسواں کی جانب سے پیش کیا گیا جو معروف ناول نگار جمیلہ ہاشمی کی ایک مختصر کہانی پر مبنی تھا۔ اس ڈرامے میں ایک ایسی عورت کی کہانی پیش کی گئی جو اکیلے اس دنیا میں اپنی زندگی گزار رہی ہے لیکن اس کی زندگی میں آنے والے مسائل، لوگوں کے تبصرے، معاشرے کے مخصوص تنگ سوچ اور نظریے اس کے راہوں میں مشکلات کے انبار لگا دیتی ہے۔ ان کا سامنا کرنا ایک اکیلی عورت کے لئے کتنا دشوار اور کٹھن ہے اور وہ کن مشکلات سے گذرتی اور کیا محسوس کرتی ہے ان تمام باتوں کو کہانی کی صورت میں پیش کیا گیا۔
Picture:
کراچی ( )سید مشتاق راجہ کا ناول مٹی کے دےئے کے تقریب پذیرائی 3؍ مئی 2017 بروز بدھ، شام 6 بجے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے گراؤنڈ فلور میں منعقد ہوگی جس کی صدارت میئر کراچی وسیم اختر کریں گے مہمان خصوصی ڈاکٹر فاروق ستار، مہمان اعزازی عبدالحسیب خان ، مہمان گرامی آفاق سعید، سید نیر رضا، عمران اسلم خان، فرید احمد شیخ اور نرگس خان ہونگی جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں معید انور، شاکر علی، وسیم سومرو، قادر بخش سومرو، نغمانہ شیخ اور شاہدہ اسرار کنول شامل ہیں ۔ نظامت کے فرائض علی حسن ساجد انجام دیں گے۔
کراچی( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی آڈیو وویژل کمیٹی کے زیراہتمام’’تھیٹر‘‘ کے حوالے مکالماتی فورم ’’کل آج اور کل‘‘ کے عنوان سے پروگرام گزشتہ شب منعقد ہوا۔اس موقع پر صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل تھیٹر کے فروغ کے لئے بہت کام کررہا ہے ،تھیٹر فیسٹول پہلے بھی ہوا۔ابھی دوسرا ہورہا ہے۔ہماری کوشش ہے کہ اچھے تھیٹر کے ساتھ ساتھ ایساکام کیا جائے جس سے تھیٹر سے وابستہ افراد خوش حال ہوسکے۔احمد شاہ نے کہا کہ آرٹس کونسل میں کلچر کے ساتھ ساتھ فن کاروں کی فلاح وبہبود کے لئے بہت کام کیا جا رہا ہے۔ آرٹس کونسل کی نئی بلڈنگ میں کراچی کا سب سے جدید اسٹیوڈیو تیار کیا جارہا ہے۔آرٹس کونسل عنقریب اپنا پرڈوکشن ہاوس بھی قائم کررہا ہے۔آرٹس کونسل کسی سے مقابلے کے لئے کا م نہیں کرے گابلکہ فن اور فن کاروں کی بہتری کے لئے کام کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تھیٹر ایک شاندار ماضی کے ساتھ حال میں بھی بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔ہم نے اس پروگرام کو اس لئے منعقد کیا کہ کل، آج اور کل کے بارے میں گفتگو کی جاسکے۔اس موقع پر طلعت حسین، شیماکرمانی، خالد انعم، زین احمد، اکبر اسلام، بازیلہ ،سجیرا لدین،عظمی سبین،یونس خان شامل ہیں۔ طلعت حسین نے کہا کہ کراچی میں ایک زمانے میں بہت اچھا تھیٹر ہوتا تھا لیکن پھر کمرشل ڈرامہ شروع ہوا۔تھیٹر ہا ل ختم ہوگے ،ابھی دوبارہ آرٹس کونسل اور ناپا نے تھیٹر ہال قائم کئے ہیں جس سے تھیٹر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔محمد اقبال لطیف نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی میں ہر ماہ ایک فورم منعقد کیا جاتا ہے جس کا مقصد فن و آرٹ کے مختلف شعبوں کا جائزہ لینا ہے اور نوجوانوں کو آگہی دینا ہے کہ کس طرح انہیں مختلف شعبوں میں آگے بڑھنا ہے اور کیسے اس میں بہتری لانی ہے۔ یہ فورم اسی سلسلے کا دوسرا فورم ہے۔ تھیٹر کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے ،کراچی میں تھیٹر کے کیا حالات ہیں،تھیٹر کیساہو رہا ہے کس طرح کا ہورہا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔شہناز صدیقی نے کہا کہ تھیٹر کا زوال اس وقت ہوا جب آرٹسٹوں نے مصنف کی جگہ لے لی۔تو تھیٹر کا زوال شروع ہوا۔ بازیلہ نے کہا کہ ہمارے یہاں تھیٹر کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔معاشرے کو اپنی رائے تبدیل کرنا ہو گی پھر ڈرامہ اور تھیٹر ترقی
کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پاکستان فوٹو گرافرایوسی ایشن کی نمائش کی اختتامی تقریب گزشتہ روز ہوئی ۔تصویری نمائش میں جج کے فرائض فرح کمال نے انجام دئیے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اقبال لطیف نے کہا کہ فوٹو گرافرز نے اپنی تصاویر سے آرٹس کونسل کے پروگراموں کو پوری دنیا میں روشناس کروا۔ہمارے ملک میں فوٹو گرافرز کے پاس اچھاسازوسامان نہ ہونے کے باوجود وہ عالمی معیار کا کام کررہے ہیں۔فرح کمال نے کہا کہ اخبار کا فوٹو گرافر صرف تصویر نہیں بلکہ کسی بھی واقع کی خبر بھی دے رہا ہوتا ہے ،جو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل کام ہے۔فوٹو گرافی کے مقابلے میںنقیب الرحمن نے پہلی،شعیب احمد نے دوسری اور حامد حسین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔