Arts Council of Pakistan Karachi

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی‎

Press Release & Updates 2022

December

احمد شاہ ،اعجازفاروقی پینل بلامقابلہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں، کمشنر کراچی محمد اقبال میمن

مجھے اعتماد کا ووٹ ملا ،ان کا بھی شکریہ جنہیں امیدوار نہیں ملے، صدر آرٹس کونسل محمداحمد شاہ

کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے انتخابات برائے سال 2023-2024ءکے نتائج کے حوالے سے پریس کانفرنس آڈیٹوریم IIمیں ہوئی جس میں کمشنر کراچی و چیف الیکشن کمشنر محمد اقبال نے بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنرڈسٹرکٹ ساﺅتھ سعید لغاری بھی موجود تھے، کمشنر کراچی محمد اقبال میمن نے کہاکہ اس نتائج کا پوری دنیا کو پہلے سے معلوم تھا، میں بحیثیت چیف الیکشن کمشنر احمد شاہ ،اعجاز فاروقی پینل کو بلامقابلہ جیت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، انتخابات 18 دسمبر کو ہونے تھے مگر مذکورہ پینل کے مدمقابل کوئی نہیں تھا، انہوں نے احمد شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی کاوشیں ایسی ہوں گی کہ لوگوں نے عزت دی، ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم مساوی طور پر حق رائے دہی چاہتے ہیں، بلا مقابلہ منتخب ہونا بھی جمہوریت کا خوبصورت عمل ہے اور جن لوگوں نے سوچا کہ الیکشن پر اخراجات ہوں گے یہ اچھی سوچ ہے، انہوں نے کہاکہ ادیب ہمیں سیکھاتے ہیں کہ معاشرے کو آگے کیسے لے کر چلنا ہے، جو ذمہ دار لوگ ہیں وہ اس ذمہ داری کو نبھاتے رہیں گے، میں ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ احمد شاہ ،اعجاز فاروقی پینل سے لوگ محبت کرتے ہیں، جو لوگ معاشرتی تقریب کے لیے کام کر رہے ہیں اگر ان کی پذیرائی نہیں کریں گے مطلب ہم زندہ قوم نہیں ہیں، ہم میں آگے بڑھنے کی لگن ہے، مجھے خوشی ہے ہم پڑھے لکھے لوگوں سے محبت کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ آرٹس کونسل کراچی اتنے پروگرام کراتی ہے کہ ایک کیلنڈر مرتب ہونا چاہیے، کراچی فنون لطیفہ کا حب بن چکا ہے، ہمیں مثبت باتیں کرنی چاہیے، انہوں نے کہاکہ مجھے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی پر فخر ہے، لاہور آرٹ کا محور تھا ہم نے اسے اوورٹیک کرلیا ہے، آج وہ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ اتنے کام کیسے کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کا تعاون ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور آگے بھی رہے گا، بلامقابلہ منتخب ہونے والوں میں محمد احمد شاہ (صدر)، منور سعید (نائب صدر)، اعجاز احمد فاروقی(سیکریٹری)، نورالہدیٰ شاہ (جوائنٹ سیکریٹری)، قدسیہ اکبر(خازن) جبکہ گورننگ باڈی میں سید اسجد بخاری، قیصر سجاد، ہما میر، اخلاق احمد، سید شہزاد رضا نقوی، سید ساجد حسن، عنبرین حسیب ، غازی صلاح الدین، محمد ایوب شیخ، نصرت حارث، فرخ تنویر، اور شہنازوزیر اعلیٰ شامل ہیں۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ ایسا ادارہ ہے جس میں ساڑھے چھ ہزار ووٹر ہیں جس میں سے ایک ہزار صحافی ہیں، کوئی کھڑا نہیں ہوا، پچھلے انتخابات میں سو سوا سو ووٹ مخالفت میں پڑ جاتے تھے لیکن اب انہوں نے بھی یہی سوچا کہ آرٹس کونسل کام کر رہا ہے یہ مجھ پر اور میرے ساتھیوں پرایک اعتماد ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصد لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا، میں نے جو وعدے کیے تھے اس سے کہیں زیادہ کام کیا ہے، ادارے کو اس سے بھی آگے لے جانا چاہتے ہیں، انہوں نے کہاکہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ جب بھی اس ادارے کے بارے میں سنیں گے یہ ایسے ہی رواں دواں رہے گا، انہوں نے کہاکہ اس بار گورننگ باڈی میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں ، بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد مجھ پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے، کووڈ اور سیلاب میں جس طرح آرٹس کونسل کراچی نے کام کیا سب آپ کے سامنے ہے، اسی وجہ سے ممبران کا اعتماد بھی زیادہ ہوگیا، انہوں نے کہاکہ ہم کل جناح کلچرل کمپلیکس کا افتتاح بھی کریں گے اور اردو کانفرنس کو عالمی سطح پر لے کرجارہے ہیں۔

ACP Election: Ahmed Shah Ejaz Farooqi Panel Elected Unopposed for 2023-24, Commissioner Karachi

I got a vote of confidence, thanks also to those who did not get candidates, President Arts Council Muhammad Ahmed Shah

The Arts Council of Pakistan held a press conference in Auditorium II regarding the results of the Karachi elections for the year 2023-2024 in which Commissioner Karachi and Chief Election Commissioner Muhammad Iqbal gave a briefing. Deputy Commissioner District South Saeed Laghari was also present on this occasion. Commissioner Karachi Muhammad Iqbal Memon said that the whole world already knew the results. The elections were to be held on December 18 but there was no one in opposition.

We have said earlier that we will have equal voting rights. Want, to be elected unopposed is also a beautiful process of democracy and those who thought that there will be expenses on election is a good idea, they said that writers teach us how to take the society forward, The responsible people they will continue to fulfill this responsibility, I always see that people love Ahmed Shah, Ijaz Farooqui panel, people who are working for social events, if they don’t accept them, then we are not a living nation. “We have the passion to move forward. I am happy. We love educated people,” he said that a calendar should be compiled, Karachi has become the hub of arts, we should talk positively, he said, I am proud of Arts Council of Pakistan Karachi, Lahore was the axis of art, we have overtaken it. Today they are asking us how we do so many things, He said that the cooperation of the Sindh government is always with you and will continue to be in the future. , Ejaz Ahmad Farooqui (Secretary), Noorulhuda Shah (Joint Secretary), Qudsia Akbar (Treasurer) while Syed Asjad Bukhari, Dr. S.M Qaiser Sajjad, Dr. Huma Mir, Akhlaq Ahmed, Syed Shahzad Raza Naqvi, Syed Sajid Hassan, Dr. Ambreen Haseeb Amber, Ghazi Salahuddin are in the Governing Body. Salahuddin, Dr. Muhammad Ayoub Sheikh, Nusrat Haris, Farrukh Tanveer, and Shahnaz are included. President Arts Council Muhammad Ahmad Shah said, “I thank all of them. This is an organization that has 6 and a Half Thousand voters, one thousand of whom are journalists. No one stood up. In the previous elections, only one hundred votes were against.” But now they also thought that the Arts Council is working. It is a vote of confidence in me and my colleagues. It means that 100 percent of the people voted for us, more than the promises I made. What has been done, want to take the institution even further, he said, I promise you, whenever you hear about this institution, it will continue like this, he said, this time the Governing Body. I have made some changes, after being elected unopposed, a heavy responsibility has been imposed on me, the way the Arts Council Karachi worked in Covid-19 and during the flood are all in front of you, that’s why the confidence of the members has also increased, he said that we will also inaugurate the Jinnah Cultural Complex tomorrow and are taking the Urdu conference to the Global level.


4th December 2022

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کا ’’اختتامی اجلاس‘‘

احمدشاہ نے کراچی میں بڑے پیمانے پر علمی و ادبی سرگرمیوں کی بنیاد رکھ کر قابل قدر کام کیا ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری

احمد شاہ اس بے ادبی کے دور میں علم و ادب کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں، معروف مزاح نگار انور مقصود

پندرھویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے پر تمام مہمانوں اور حاضرین کاشکریہ ادا کرتا ہوں، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے جاری پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ’’اختتامی اجلاس‘‘ کے مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری تھے جبکہ اجلاس میں کمشنر کراچی محمد اقبال میمن، سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز فاروقی اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین سمیت معروف شاعر، ادیب اور دیگر نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں، اجلاس سے گورنر سندھ اور سہیل وڑائچ نے بھی خطاب کیا، اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر ہما میر نے پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کا مختصر جائزہ پیش کیا اور کانفرنس کی شاندار کامیابی پر محمد احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی، اس موقع پر اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے 14 قراردادیں پیش کی گئیں جن کی حاضرین نے ہاتھ کھڑا کر کے منظوری دی ، ان قراردادوں میں اردو کو سرکاری زبان بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر جلد از جلد عملدرآمد ، ملک میں لائبریری کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات ، کتابوں کی اشاعت کے لئے پرنٹ پیپر کی دستیابی ، جدید ذرائع ابلاغ تک نئی نسل کی رسائی ، جامعات میں تراجم کے اداروں کا قیام ، ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات ، شدت اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات ، کشمیر اور دیگر جگہوں پر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کی حمایت، نوجوانوں کو ملک کے ثقافتی ورثے کا محافظ بنانے اور ان کی فکری رہنمائی ، جنوبی ایشیا میں ترقی و خوشحالی کے لیے وسائل کی ہتھیاروں کی تیاری کے بجائے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کرنے ، جنوبی ایشیا کے ادیبوں ، فنکاروں اور سائنس دانوں کے درمیان رابطے آسان کرنے اور آرٹس کونسل کراچی میں عالمی اردو کانفرنس سمیت دیگر علمی و ادبی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے متعلق قراردادیں شامل تھیں۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے عالمی اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ احمدشاہ اور ان کے ساتھیوں نے کراچی میں بڑے پیمانے پر علمی و ادبی سرگرمیوں کی بنیاد رکھ کر قابل قدر کام کیا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،اس طرح کے پروگرام لوگوں کو باہم جوڑنے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں بھی آرٹس کونسل کراچی اسی طرز پر شاندار علمی و ادبی کانفرنسیں اور دیگر پروگرام منعقد کرتی رہے گی۔اختتامی اجلاس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ نے تمام مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا، قبل ازیں اختتامی اجلاس میں معروف مزاح نگار انور مقصود نے “اکیسویں صدی کا پاکستان” کے حوالے سے مخصوص دلچسپ انداز میں کہا کہ آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ نے جتنے بڑے بڑے کام کئے اس کے لیے تمغہ امتیاز کی ضرورت نہیں تھی، یہ تمغہ اس سے کہیں کمتر کاموں پر بھی مل جاتا ہے ،وہ اس بے ادبی کے دور میں علم و ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں ، پاکستان میں غریب حکمرانوں سے کہتے ہیں ہمیں بدنام نہ کریں باہر جا کر اپنے لئے مانگیں، پہلے عالمی اردو کانفرنس میں ہندوستان سے شاعر اور ادیب آتے تھے اب صرف دھمکیاں آ رہی ہیں، پاکستان میں بہت غربت اور بدحالی ہے کسی کو احساس ہی نہیں ہم کیا کر رہے ہیں، احمد شاہ صاحب کہتے ہیں لوگوں کو خوش کرو میں کہتا ہوں حکومت کا کام مجھ سے کیوں کراتے ہیں،اجلاس سے قبل سندھی کلچر ڈے کی مناسبت سے سندھ کی روایتی موسیقی بھی پیش کی گئی جس کے دوران پر جوش شائقین نے مقبول سندھی گیتوں کی دھنوں پر رقص کیا اور سندھ کلچرل ڈے منایا۔

“Concluding Session” of Fifteenth Aalmi Urdu Conference in Arts Council of Pakistan, Karachi.

KARACHI ( ) Governor of Sindh Kamran Khan Tessori was the chief guest of the closing session of the fifteenth Aalmi Urdu Conference, while Commissioner Karachi Muhammad Iqbal Memon, Secretary Arts Council Prof. Ejaz Farooqui and other members of the governing body including well-known poets, writers and other prominent personalities were also present in the meeting. Governor Sindh and Sohail Waraich also addressed the meeting, while organizing the meeting, Dr. Huma Mir gave a brief overview of the fifteenth Aalmi Urdu Conference and congratulated Muhammad Ahmad Shah and his team for the great success of the conference. On this occasion, 14 resolutions were presented for the promotion of Urdu language and literature, which were approved by the audience with a show of hands. These include Measures for the promotion of library culture, implementation of supreme court ruling for enforcement of
constitution article regarding Urdu as national language availability of print paper for publication of books, access of new generation to modern media resources, establishment of translation institutions in universities, measures to improve the education system in the country, elimination of violence and extremism in Kashmir and other places Condemning human rights violations, supporting democracy and freedom of expression, making the youth custodians of the country’s cultural heritage and guiding them
intellectually, instead of preparing weapons, provision of resources for development and prosperity in South Asia and people’s welfare facilitating communication between writers, artists and scientists of South Asia and continuing other academic and literary activities including the International Urdu Conference at the Arts Council Karachi. In the closing session, the President of Arts Council of Pakistan Ahmed Shah thanked all the guests and attendees, earlier in the closing session, well-known comedian Anwar Maqsood said in a particularly interesting way regarding “Pakistan of the 21st Century” that Arts Council Karachi President Ahmed Shah did not need a Tamgah-e-Imityaz for the great works he did, this medal is given even for lesser works. Poor people of Pakistan say to rulers, don’t defame us, go out and ask for yourself, earlier, poets and writers from India used to come to the Aalmi Urdu Conference, now only threats are coming, there is a lot of poverty and misery in Pakistan. We don’t know what are we doing,
Ahmad Shah Sahib says, please the people, I say why do you want me to do the work of the government? Earlier people danced to the tunes of popular Sindhi songs and celebrated the Sindh Cultural Day at the Arts council karachi.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری روز ’’اکیسویں صدی میں فنون کی صورتحال‘‘ پر سیشن کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری روز ’’اکیسویں صدی میں فنون کی صورتحال‘‘ کے موضوع پر عکسی مفتی، اسٹیفن ایم لیون، نیلوفر عباسی، بی گل، شاہد رسام، خالد احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ نظامت کے فرائض کیف غزنوی نے ادا کئے۔ معروف افسانہ نگار و شاعر عکسی مفتی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کے جدید دور میں ہمیں 5th جنریشن وار کا مقابلہ کرنا ہوگا، اپنی ثقافت و روایات کو برقرار رکھنے کے لئے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی دھرتی، لباس،زبان اور ثقافت کو پیار کرنے سے ہم ایک قوم بن سکتے ہیں کیونکہ پچیس سال کے دوران آگے بڑھنے کے شوق میں ہماری ثقافت، موسیقی، آرٹ، تعمیرات اور دستکاری کا فن پیچھے رہ گیا ہے جوکہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، جس کے قصور وار ہم سب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث ہم خطرات میںمبتلا ہوگئے اور اس کے ہم سب قصور وار ہیں لہٰذا ماضی کی ثقافت اور آرٹ کو بچانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار بخوبی ادا کرنا ہوگا۔ عکسی مفتی نے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ اور ان کی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار ہونے والی عالمی اردو کانفرنس پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد سے اردو ادب کی مختلف جہتوں پر گفتگو کا شاندار موقع میسر آیا۔ معروف آرٹسٹ و مجسمہ ساز شاہد رسام نے کہا کہ موجود زمانے میں بھیڑ چال کی وجہ سے اپنا ماضی بھولتے جارہے ہیں مگر نشیب و فراز کے باوجود ہم سب کو آگے کی جانب بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان میں فائن آرٹ تنزلی کی نہیں بلکہ ترقی کی جانب گامزن ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ منفی رجحان کے بجائے مثبت رجحان کو اجاگر کرے۔ بی گل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں فنون کی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے، سوشل میڈیا نے فنون پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں لیکن اس کے باوجود ٹیلی وژن کی اپنی اہمیت برقرار ہے کیونکہ پاکستان کے 65 فیصد علاقوں میں پاکستان ٹیلی وژن رسائی کا واحد ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ٹیلی وژن کا ختم ہوجانا ایک المیہ ہے اگر ہم علاقائی میڈیا کو بحال رکھتے تو آج جن رجحانات سے سابقہ ہے وہ نہیں ہوتا کیونکہ علاقائی میڈیا پاکستانی عوام کو ایک لڑی میں پروتا ہے ۔ معروف اداکارہ نیلوفر عباسی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب چیزیں بدل جاتی ہیں اور توقع ہے کہ اگلے دس برس میں مزید تیزی سے تبدیلیاں آئیں گی لہٰذا ہمیں مستقبل قریب میں آنے والی تبدیلیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہوگا۔ اسٹیفن ایم لیون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں فنون کی تمام اصناف پر تبدیلیاں ضرور آئی ہیں اس کے نقصانات اپنی جگہ مگر جدید ٹیکنالوجی کے باعث ہمارے غم اور خوشیاں ایک دوسرے کے لئے مشترکہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل میڈیا کے دور میں ایک بڑا تضاد سامنے آیا ہے کہ وہ باتیں جو شہروں میں قابل توجہ نہیں ہوتیں وہ دیہاتوں میں معیوب سمجھی جاتی ہیں۔ خالد احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنون میں تبدیلیوں کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ آرٹ جوانوں، بوڑھوں اور ادھیڑ عمر کے لوگوں کے لئے مختلف ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آرٹس عمروں کی تخلیق سے بالاتر اور یکساں ہوتا ہے۔

UAC-4 th Day – English News 08

Arts Council of Pakistan held a session on “Situation of Arts in 21st Century” on the fourth and last day of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference in Karachi.


Karachi ( ) On the fourth and last day of the 15th Aalmi Urdu Conference in Karachi Uxi Mufti, Stephen M. Levin, Nelofar Abbasi, B.Gul, Shahid Rasam, Khalid Ahmed expressed their views on the topic of “Situation of Arts in the 21st Century”. while Kaif Ghaznavi performed the administrative duties. Well-known fiction writer and poet Uxi Mufti said that in the modern era of technology, we have to fight the 5th generation war, showing responsibility to maintain our
culture and traditions, our land, clothes, language and culture. We can become a nation by loving it because in our rush to move forward for twenty-five years, our culture, music, art, architecture and crafts have been left behind, for which we are all guilty. . He further said that due to the use of technology, we have been exposed to dangers and we are all guilty of it, so we all have to play our role to save the culture and art of the past. Uxi Mufti while congratulating Arts Council President Ahmed Shah and his team on the success of the Aalmi Urdu Conference said that holding the conference provided a great opportunity to discuss various aspects of Urdu literature. Renowned artist and sculptor Shahid Rasam said that in the present age, people are forgetting their past because of their tricks, but despite the setbacks, we all have to move forward. He said that it is gratifying that fine art in Pakistan is not going towards decline but progress. It is the responsibility of the media to highlight the positive trend instead of the negative trend. Bee Gul while speaking said that the situation of arts has changed in the 21st century, social media has left a profound impact on arts but despite this television still has its importance because Pakistan television reaches 65% of the areas of Pakistan. He said that the demise of regional television is a tragedy, if we had restored the regional media, the current trends would not have happened, because the regional media linked the people to each other. Renowned actress Neelofar Abbasi said that everything changes with time and it is expected that there will be more rapid changes in the next ten years, so we have to prepare
ourselves for the changes that are coming in the near future. Stephen M. Levin said that in the 21st century, there have been changes in all genres of art, its losses are in place, but due to modern technology, our sorrows and joys have been shared for each other. He said that in the
era of global media, a big contradiction has emerged that things which are not noticeable in cities are considered bad in villages. Khalid Ahmed said that despite the changes in the arts, it would be wrong to say that art is different for young, old and middle-aged people, whereas the reality is that Art is above the creation of ages.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے اختتامی روز معروف شاعر افتخار عارف کی کلیات پر گفتگو

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میںپندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری روز “سخن افتخار۔ کلیات افتخار عارف” کے سیشن میں مقبول و معروف شاعر افتخار عارف نے کہا کہ میں کوئی درویش وغیرہ نہیں بس ایک ambitious سا آدمی ہوں ، میں نے اپنے لیے زندگی کا ایک دائرہ بنایا جس کا تعلق کسی مسلک یا گروپ سے نہیں، انہوں نے حاضرین کی فرمائش پر اپنی مقبول غزلوں اور نظموں سے انتخاب بھی پیش کیا اور اپنی کلیات کے لیے تقریب کے انعقاد پر آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر ڈاکٹر نعمان الحق ، ناصر عباس نیر اور ظفر مسعود نے افتخار عارف کی شاعری پر اظہار خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے انجام دیئے، ظفر مسعود نے کہا کہ بینک آف پنجاب کو “کلیات افتخار عارف”اسپانسر کرنے کا شرف حاصل ہوا جو ہمارے لیے فخر کی بات ہے، گوپی چند نارنگ نے انہیں نئی تنہائیوں کا درد مند شاعر کہا اس سے بہتر ان کی تعریف نہیں ہو سکتی ، افتخار عارف نے اپنی شاعری میں بے مثال پیغام دیئے ہیں، انہوں نے کہا کہ فضائی حادثے میں معجزانہ طور پر بچ جانے کے بعد جس کیفیت سے گذرے اس میں افتخار عارف کی شاعری نے بہت حوصلہ اور سہارا دیا، ناصر عباس نیر نے کہا کہ ہر دور پر کسی بڑے شاعر کا سایہ ہوتا ہے ہمیں فخر ہے کہ ہمیں افتخار عارف کا دور ملا ، افتخار عارف کی کلیات میں خواب کو زندگی کے مرکزی استعارے کے طور پر پیش کیا گیا پھر اس کے ساتھ دعا کا استعارہ بھی ہے، انہوں نے کلیات افتخار عارف سے منتخب حصے سنائے اور کہا کہ ان سے باطل قوتوں سے نبرد آزما ہونے کی قوت ملتی ہے ، افتخار عارف کی شاعری میں تخلیقی رو نمایاں نظر آتی ہے ، ان کی شاعری سے غزل اور نظم کے فرق کا پتہ چلتا ہے ، افتخار کی نظم میں مختلف قسم کی نغمگی ہے ،افتخار عارف وہ بڑے شاعر ہیں جو دو ادوار کے درمیان ہیں اور انہیں ملانے کا غیر معمولی کام کر رہے ہیں، ڈاکٹر نعمان الحق نے کہا کہ کلیات افتخار عارف کی اشاعت تاریخی واقعہ ہے، ان کی زندگی کے شخصی پہلو میں ہجرتیں شامل ہیں،جبکہ شاعرانہ پہلو انتہائی منفرد اور دلکش ہے، وہ نہایت فنکاری سے اپنی بات اوروں تک پہنچانے میں کمال رکھتے ہیں، اکثر لگتا ہے وہ ہمیں اپنا ہمراز بنا کر بات کر رہے ہیں جس سے قاری کو ان سے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے، ان کی نظمیں تخیل اور تدبر کو امکانی پہلو عطا کرتی ہیں۔

UAC-4 th Day News No.7

On the concluding day of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference in Arts Council of Pakistan, Karachi, a talk on the well-known poet Iftikhar Arif was held.

Karachi ( ) On the fourth and last day of the Aalmi Urdu Conference, in the session of “Sukhan-e-Iftikhar. Kuliyat Iftikhar Arif”, popular and well-known poet Iftikhar Arif said that I am not a dervish etc. I am just an ambitious man, I have a life for myself and I have formed a circle that does not belong to any sector or group, he also presented selections from his popular ghazals and poems at the request of the audience and thanked Arts Council President Ahmad Shah for organizing the event for his Kuliyat. Dr. Noman-ul-Haq, Nasir Abbas Nayyar and Zafar Masood
expressed their views on the poetry of Iftikhar Arif while the moderator duties were performed by Dr. Ambreen Haseeb Ambar.Zafar masood said it is a matter of pride for us that Bank of Panjab sponsored the Kuliyat of Iftikhar Arif. He said Iftikhar Arif’s poetry gave me a lot of encouragement and support in the situation I went through after being miraculously saved, in an air crash Nasir Abbas Nayyar said that every era has the shadow of a great poet. We are proud that we are breathing in iftikhar Arif`s era, he recited selected parts from Kuliyat-e- Iftikhar Arif and said that he gets the strength to fight against false forces, the creative
spirit is prominent in Iftikhar Arif’s poetry, the difference between ghazal and verse can be seen from his poetry. Iftikhar Arif is a great poet who is between two eras and is doing an extraordinary job of combining them, Dr. Noman-ul-Haq said that the publication of Kuliyat-e-Iftikhar Arif is a historical event , the personal side of his life includes migrations, while the poetic side is very unique and charming, he is very artistic in conveying his message to others, often it seems that he is talking to us as his own companion. The reader feels connected to him, his poems give a sense of possibility to imagination and resourcefulness.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ’’اکیسویں صدی میں سندھی ادب اور زبان‘‘ کے موضوع پر سیشن کا انعقاد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے جاری پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ’’اکیسویں صدی میں سندھی ادب اور زبان‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن میں اعلان کیا گیا کہ عالمی اردو کانفرنس کی طرح عالمی سندھی کانفرنس کا انعقاد بھی زیر غور ہے۔ سندھی ادب کا خطے میں بہت اہم کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار سندھی ادیبوں اور دانشوروں نے ’’ اکیسویں صدی میں سندھی ادب اور زبان ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن سے نورالہدی شاہ، مدد علی سندھی، جامی چانڈیو، یوسف خشک، زید پیرزادو نے خطاب کیا۔ سیشن کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ایوب شیخ نے سر انجام دیئے۔ ڈاکٹر ایوب شیخ نے بتایا کہ عالمی سندھی کانفرنس کا انعقاد زیر غور ہے۔ مقررین نے کہا کہ نوجوان سندھی افسانہ نویس ناول نویس اور شاعر بہت ہی زبردست ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ سندھی ادب جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہے۔ آج گوگل سندھی ترجمہ کر رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں سندھی زبان کو پھر بھی بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ سندھی زبان ختم ہوجائے گی۔ سندھ کے نوجوان تخلیق کار مایوس نہیں ہیں۔ معروف ڈرامہ نویس نورالہدی شاہ کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جو ادب اپنی زمین سے جڑی ہوئی ہے اس ادب کو اپنی زمین سے کوئی بھی نہیں اکھاڑ سکتا۔

UAC-4 th Day – English News 06

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری پندرھویں عالمی اردو کانفرنس میں سیشن ’’نیا میڈیا نئے تقاضے‘‘ کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے سیشن ’’نیا میڈیا نئے تقاضے‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے معروف صحافیوں نے کہا کہ میڈیا ہی نہیں ٹیکنالوجی ہر شعبہ میں تبدیلی لائی لیکن ہماری سوسائٹی کے کسی بھی طبقے نے اس کی افادیت سمجھنے کی کوشش نہیں کی سوائے ایک جماعت کے۔ یوٹیوب اور جدید میڈیا کی یلغار صرف پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے اور اس میں وقت گزرنے کے ساتھ بہتری آئے گی۔ عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یوٹیوبر بہت معروف ہو رہے ہیں اور لوگ ان کے پیچھے جاتے ہیں۔میں بھی یوٹیوبر ہوں کیوں کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ لوگوں تک پہنچنا ہے جو میرے خلاف جھوٹ تھا اس کا توڑ میں نے یوٹیوب کے ذریعے دیا۔ آج بھی لوگ سچ سننا چاتے ہیں سچ کو پسند کرتے ہیں۔ سکرات کو سچ کی تلاش میں زہر پینا پڑا۔ میڈیا کو جدید تقاضوں کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ جب قانون کے خلاف اور آمریت ہو تو صحافی کو سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔اویس توحید نے کہا کہ سوشل میڈیا نے پاکستانی صحافت کو بہت بڑا چیلنج دیا ہے۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں امریکا جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی تبدیلی آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا میڈیا اب غیر جانب دار نہیں رہا اور ہر میڈیا پرسن پارٹیوں اور شخصیات کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے زمانے میں سچ وہ ہے جو لوگ چاہتے ہیں اسی وجہ سے میںزیادہ جانبدار ہو گیا یعنی کسی نہ کسی پارٹی کا حصہ بن چکا۔ میڈیا ہائوس پارٹیوں کے ساتھ تقسیم ہوئے جس سے غیرجانب داری متاثر ہوئی۔ نوجوان صحافی عبداللہ سلطان نے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کو کیسے الگ کریں جب کہ ماضی میں تھوڑا سا شبہ بھی ہوتا تھا تو خبر روک لی جاتی تھی۔ ماضی میں میڈیا پر نشر کرنے کے لیے الفاظ کا بھی سنسر ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گائوں میں بیٹھا ہوا چرواہا صرف بکریوں کو چروا کر سو نہیں جاتا بلکہ ایک یوٹیوب چینل کھولا ہوا ہے یہ تبدیلی ہے اور یہ مثبت تبدیلی ہے۔ابصا کومل نے کہا کہ اب قارئین اخبار نہیں پڑھتے بلکہ اپنے موبائل پر سرخی بھی کافی ہوتا ہے۔ بلاغر تو ہر چیز پر مختصر وقت میں اسٹار جرنلسٹ بن جاتا ہے جب کہ ہم خبر کی درست یا غلط ہونے پر بحث کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ زیادہ تر یوٹیوب پر یقین کرتے ہیں صحافی کا کام حکومتوں کو ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دینا نہیں بلکہ خبر دینا ہے۔جاوید سومرو نے کہا کہ پہلے بی بی سی کی سیربین 13 ملین افراد اس کو دیکھتے تھے۔ وہ پروگرام بند کر دیا گیا۔ جب سے ڈیجیٹل سسٹم شروع کیا ترجیحات تبدیل ہو گئی، اب ہم سوچتے ہیں کہ ہیڈ لائن کیا لگائیں کہ لوگ فوری دیکھیں۔ اب اس پر سوچنا پڑے گا کہ اگر کسی جگہ کچھ غلطی ہو رہا ہے تو اس کو درست کیا جائے لیکن اس سے سوسائٹی میں بہتری بھی آئی ہے۔انہوں نے کہا الزامات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ہونا چاہیے تاکہ کچھ بہتری پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ یہ ساری دنیا کا مسئلہ ہے یہ روکا نہیں جا سکتا بلکہ دیکھنے والوں پر میسر ہے کہ وہ کس کو پسند کرتے ہیں لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بہتر ہو گا۔

Session “New Media New Demands” held at 15 th Aalmi Urdu Conference Arts Council of Pakistan Karachi.

KARACHI ( ) A Session “New Media New Demands” held at 15 th Aalmi Urdu Conference Arts Council of Pakistan Karachi, speaking in the session renowned journalists said that not only media, technology has brought change in every sector, but any section of our society can understand its usefulness. Not tried except for one party. The invasion of YouTube and modern media is not only Pakistan’s problem but the whole world’s problem and it will improve with time. Aasma Shirazi said that YouTubers are becoming very popular and people are following them. I am also a YouTuber because we decided to reach people and break the lies against me through YouTube. Even today people want to hear the truth and love the truth. Sukrat had to drink poison in search of truth. Media should be used according to modern requirements. When there is a dictatorship and against the law, the journalist should support the truth. Awais Touheed said that social media has given a great challenge to Pakistani journalism. It is not only Pakistan but also developed society like America has changed. He said that today’s media is no longer neutral and every media person has become associated with parties and personalities. He said that in the age of social media, the truth is what people want, that’s why I became more biased, i.e. I became a part of some party. Media houses were divided with parties which affected neutrality. Talking about the topic, the young journalist Abdullah Sultan said that now the biggest difficulty is how to separate the truth from the lie, whereas in the past, if there was even a little suspicion, the news was withheld. In the past, words were also censored for broadcasting in the media, but this is not the case anymore. He said that the shepherd sitting in the village does not sleep only after herding the goats, but a YouTube channel has been opened, this is a change and it is a positive change. happens. A blogger becomes a star journalist in no time on anything while we are debating whether the news is right or wrong. He said that people mostly believe in YouTube. Journalist’s job is not to advise governments to sit together, but to give news. Javed Soumro said that earlier BBC Serbia was watched by 13 million people. That program was discontinued. Since the digital system started the priorities have changed, now we think about what to put the headline that people see immediately. Now it has to be thought that if something is wrong somewhere, it should be corrected, but it has also improved the society. He said that there should be legislation to prevent accusations so that some improvement can be made. He said that this is not only Pakistan but this is the problem of the whole world, it cannot be stopped but it is up to the viewers to choose whom they like but my personal opinion is that it will get better with time.

UAC-4 th Day – English News 03

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے سیشن کا انعقاد


کراچی ( )آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے روز معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی یادوں کو تازہ کرنے کے لئے معروف ادیبہ اور شاعر زہرا نگاہ اور افتخار عارف کی صدارت میں ’’مشتاق احمد یوسفی۔ یادیں باتیں‘‘ کے عنوان سے سیشن منعقد ہوا جس کی نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیئے۔ اس موقع پر پاکستان کے معروف ادیب شاعر، فنکار سمیت شعبہ طب میں عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ادیب رضوی بھی موجود تھے۔ زہرا نگاہ اور افتخار عارف نے مشتاق احمد یوسفی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے نہ صرف عہد یوسفی دیکھا بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھ کر ان کے ساتھ یادگار وقت گزارا، ان کی یادیں اور ملاقاتیں ہماری زندگی کا سرمایہ ہے کیونکہ ان سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ افتخار عارف نے کہا کہ اردو زبان میں مزاح نگاری کا جو معیار مشتاق احمد یوسفی نے قائم کیا اس تک پہنچنا دوسروں کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ مشتاق احمد یوسفی نے معرکۃالآراء کتابیں تصنیف کیںمگر عملی زندگی میں وہ نہایت سنجیدہ اور بردبار شخصیت کے مالک تھے، وہ انگریزی ادب سے دلچسپی رکھنے کے ساتھ کلاسیکل میوزک کے شیدائی اور تھیٹر کے بھی دلدادہ تھے۔ افتخار عارف نے ان کی طرز تحریر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی کا اسلوب اور شگفتگی قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے کیونکہ وہ جملوں کے اختتام پر ایسے کمال کے الفاظ تحریر کرتے تھے جس کو پڑھنے کے بعد قاری حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتااور چند لمحوں بعد اس سے لطف اندوز ہوتا۔ افتخار عارف نے مزید کہا کہ مشتاق احمد یوسفی نے پاکیزہ زندگی گزاری وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے تاہم انہوں نے ہمیشہ مسلک و مذہب پر گفتگو سے گریز کیا۔ زہرا نگاہ نے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی الفاظ پر عبور رکھنے کے باوجود الفاظ کی کھوج میں لگے رہتے۔ انہوں نے 700 صفحات پر مشتمل دو سفر نامے لکھے مگر ان سے مطمئن نہ ہونے کے باعث ضائع کردیئے، مشتاق احمد یوسفی ایک اصول پرست انسان تھے اور تعلقات کی بنیاد پر کسی کو رعایت دینا ان کی لغت میں شامل نہ تھا۔ مشتاق احمد یوسفی نے ایک ایسی بھرپور زندگی گزاری جس کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔

On the last day of the ongoing 15th Aalmi Urdu Conference in Arts Council of Pakistan Karachi, a session was organized to pay tribute to the well-known humorist Mushtaq Yousufi.

Karachi ( ) On the fourth day of the Aalmi Urdu Conference of the Arts Council, to pay tribute to the famous Humorist Mushtaq Ahmed Yousufi and to refresh his memories, the famous writer and poet Zehra Nigah and Iftikhar Arif presided over “Mushtaq Ahmed Yousufi” Yaadain Batain session which was moderated by Shakeel Khan. On this occasion, well-known writers, poets and artists of Pakistan, along with Dr. Adeeb Rizvi, world-renowned in the field of medicine, were also present. Zahra Nigha and Iftikhar Arif paid tribute to Mushtaq Ahmed Yousufi in wonderful words and said that it is our good fortune that we not only saw Ahad-e-Yousufi but also sat in his gatherings and spent memorable time with him, his memories and Meetings are the capital of our life because they gave us the opportunity to learn a lot. Iftikhar Arif said that it will not be easy for others to reach the standard set by Mushtaq Ahmed Yousufi of comedy in Urdu language. Mushtaq Ahmed Yousufi wrote Maaraq al-Ara’ books, but in practical life he was a very serious and tolerant personality, he was interested in English literature and was also fond of classical music and theatre. Talking about his writing style, Iftikhar Arif said that Mushtaq Ahmed Yousufi’s style and wit leaves the reader in awe because he used to write such wonderful words at the end of the sentences that the reader was surprised after reading. He would dive into the sea and enjoy it after a few moments. Iftikhar Arif further said that Mushtaq Ahmed Yousufi lived a pure life, he was bound by fasting and prayer, but he always avoided talking about religion. Zahra Nigah said that Mushtaq Ahmed Yousufi, despite having mastery over words, kept searching for words. He wrote two 700-page travelogues but discarded them as he was not satisfied with them. Mushtaq Ahmed Yousufi was a principled person and giving concessions to someone on the basis of relationships was not in his vocabulary. Mushtaq Ahmed Yousufi lived a life full of what can only be imagined.

UAC-4 th Day – English News 04

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے روز چار کتابوں کی رونمائی

کراچی ( )پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے روز کتابوں کی رونمائی کے سیشن میں چار کتابوں کی رونمائی کی گئی جن میں مسلم شمیم کی کتاب “مسلم نشاطِ ثانیہ کے عناصر خمسہ “، احمد سلمان کی غزلوں کا مجموعہ “جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے” شبیر نازش کی کتاب” ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے” اور غضنفر ہاشمی کی کتاب A nation impisoned in mythsشامل تھیں، نظامت کے فرائض عباس ممتاز نے ادا کیے ، اس سیشن کے دوران مسلم شمیم نے اپنی کتاب مسلم نشاطِ ثانیہ کے عناصر خمسہ پر گفتگو کرتے ہوئے تقسیم ہند سے قبل کے پس منظر اور مسلمانوں کے حالات کو اس کا محرک بتایا اور کہا کہ ہندوستان میں مسلم آبادی علمی و فکری شعور سے دور تھی ایسے میں سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں مدرسہ قائم کیا اور بڑی جدوجہد کے بعد مسلمانوں کی ترقی کی بنیادیں رکھیں اس کے باوجود سرسید کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف نقاد جعفر احمد نے کہا کہ مسلم شمیم نے پانچ نابغہ روزگار شخصیات کے افکار کو مسلم نشاطِ ثانیہ کے طور پر پیش کیا ہے جن میں، غالب، مولانا حالی، سر سید ، علامہ اقبال ، قائد اعظم محمد علی جناح شامل ہیں گو کہ اس فہرست میں تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں آنے والی دیگر شخصیات بھی شامل کی جا سکتی تھیں تاہم انہوں نے بہترین انداز میں اپنی بات کہی ہے ،احمد سلمان نے اپنی غزلوں کے مجموعہ “جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے” سے منتخب غزلیں سنائیں جبکہ معروف شاعر و نقاد خواجہ رضی حیدر نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ احمد سلمان کا پہلا مجموعہ ہے جس میں وہ ایک مستند اور توانا غزل گو شاعر بن کر ابھرے ہیں ، ان کی شاعری میں سماجی اور معاشی مسائل کا احاطہ دلکش انداز میں کیا گیا ہے، وہ اپنا پیغام سننے والوں تک پہنچانے کا فن جانتے ہیں ، ان کے ہاں مضامین کا تنوع معاصر شاعروں سے مختلف ہے، احمد سلمان اپنے خیال کو اجالنے کی زبردست استعداد رکھتے ہیں اور اس سے سامعین کو چونکا دیتے ہیں، وہ استحصال سے پاک اور غیر جانبدار معاشرے کے قیام پر زور دیتے ہیں اور ان کی شاعری اسی مقصد کے گرد گھومتی معلوم ہوتی ہے، مقبول شاعر شبیر نازش نے اپنی کتاب “ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے” شائع کرنے پر آرٹس کونسل کراچی کا شکریہ ادا کیا اور اپنے مجموعہ کلام سے منتخب حصے سنائے ، فہیم شناس کاظمی نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شبیر نازش سحر انگیز لہجے کے شاعر ہیں انہوں نے اپنی غزلوں میں وہ خیال پیش کئے جنہیں ہر کسی کے دل کی آواز کہا جا سکتا ہے ، امریکہ سے آئے ہوئے غضنفر ہاشمی نے اپنی کتابA nation impisoned in myths پر کہا کہ اس کتاب میں امریکیوں کے اس خیال کو پیشِ کیا ہے کہ وہ دنیا سے مختلف اور الگ قوم ہیں اور پوری دنیا اس انفرادیت کے باعث ان کی طرف دیکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ امریکی پبلشر نے اس کتاب کے اچھوتے پن کی وجہ سے ہی اسے شائع کرنا پسند کیا کیونکہ انہوں نے امریکی قوم کے س دعوے پر اٹھنے والے سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کی ہے، سارہ ڈینئیل نے کتاب کے بارے میں کہا کہ اس میں یہ حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ ہی واحد impisoned in mythsنہیں بلکہ جرمنی ، جاپان اور دیگر ممالک بھی اسی طرح کی خصوصیات رکھتے ہیں، سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس کتاب کی پذیرائی کی ہے جس سے اس کے متن کے معیار کا ثبوت ملتا ہے۔

Arts Council of Pakistan Karachi launches four books on the fourth day of the fifteenth
Aalmi Urdu Conference.

Karachi ( ) On the fourth day of the 15th Aalmi Urdu Conference, four books were launches in the book launch session, including Muslim Shamim’s book “Elements of Muslim Nishat-e-Saniya Ke Elama Khamsa”, Ahmad Salman’s collection of ghazals “Joh Hum Peh Ranj”. All were included in Shabir Nazish’s book “Hum Teri Ankh Se Hijra Wale” and Ghazanfar Hashmi’s A Nation Impisoned in Myths. Nizamat duties were performed by Abbas Mumtaz. While discussing the elements of Khamsa, author said that the background before the partition of India and the conditions of the Muslims were its motivation and said that the Muslim population in India was far from intellectual and intellectual consciousness. Despite the fact that Sir Syed was criticized for laying the foundations for the development of Muslims after the struggle, well-known critic Jafar Ahmad, while commenting on the book, said that Muslim Shamim presented the ideas of five geniuses as Muslim Nishat-i-Saniya. Among them, Ghalib, Maulana Hali, Sir Syed, Allama Iqbal, Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah are included Other figures from before and after the partition of India could have been included in the list, but they have spoken their best. While well-known poet and critic Khawaja Razi Haider commented on the book and said that this is Ahmed Salman’s first collection in which he has emerged
as an authentic and energetic ghazal poet, his poetry covers social and economic issues in a charming manner. He knows the art of conveying his message to the listeners, his diversity of subjects is different from contemporary poets, Ahmad Salman has a great ability to express his ideas and shock the audience with it. Emphasizing the creation of an exploitation-free and neutral society and his poetry seems to revolve around this goal, the popular poet Shabbir Nazish has been awarded the Arts Council Karachi for publishing his book “Hum Teri Ankh Se Hijrat Nahi Wale”. Expressing his gratitude and reciting selected passages from his collection of words, the scholar Kazmi, commenting on the book, said: Shabir Nazish Sahar. Ghazanfar Hashmi, who came from America, said in his book A nation impisoned in myths that in this book, the idea of ​​Americans Presenting that they are a different and separate nation from the world and the whole world looks up to them because of this uniqueness, he said that the American publisher chose to publish the book because of the untouchability of the book as they Sarah Daniels said about the book that it clarifies the fact that America is not the only one
impisoned in myths, but also Germany, Japan and other countries. With a variety of features, political analysts have praised the book as a testament to the quality of its text.

UAC-4 th Day – English News 02

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے روز مصنف، ناول نگار اور صحافی شوکت صدیقی کی یاد میں ’’ شوکت صدیقی کی زندگی کے سو سال‘‘ پر سیشن کا انعقاد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے و آخری روز مصنف، ناول نگار اور صحافی شوکت صدیقی کی یاد میں ’’ شوکت صدیقی کی زندگی کے سو سال‘‘ کے نام سے سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ظفر صدیقی، ادیب شکیل عادل زادہ، شاعر و ایڈیٹرمحمود شام، ناول نگار،ادیب اور صحافی نذیر لغاری نے گفتگو کی۔ نظامت کے فرائض فاضل جمیلی نے انجام دیے، صحافت، افسانے اور ناول نگاری میں نام کمانے والے شوکت صدیقی کے حوالے سے ان کے صاحبزادے ظفر صدیقی کا کہناتھا کہ وہ بطور والد بہت بہترین انسان تھے وہ ترقی پسند سوچ کے حامل انسان تھے بطور والد تو وہ اچھے انسان تھے ہی لیکن انہوں نے صحافت میں بھی کمال کر دکھایا۔ وہ ہمیں سماجی اور سیاسی شعور سے بیدار رکھنے کی کاوش میں رہتے تھے۔ صحافی نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ شوکت صدیقی بڑے قلم کار تھے، خدا کی بستی میں وہ عام حالاتِ زندگی کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں، اس ناول میں انہوں نے عام حالاتِ زندگی کو عام اور روایتی طور پر بیان کیا، جو مقبولیت کی بلندی پر گیا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت صدیقی ناول کی دنیا میں الگ مقام بنا گئے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ تین مشہور ناول میں شوکت صدیقی کا لکھا ناول خدا کی بستی سر فہرست ہے تو غلط نہ ہوگا۔ نذیر لغاری نے کہا کہ شوکت صدیقی ذہین انسان تھے وہ ناول میں ان حالات اور باتوں کو ذہن نشین کر لیتے تھے، حتیٰ کہ وہ ان باتوں کو پانچ سال بعد ہی کیوں نہ کسی ناول یا افسانے میں استعمال کریں۔ شاعر و ایڈیٹر محمود شام کا شوکت صدیقی کے حوالے سے کہنا تھا کہ شوکت صدیقی کے لیے الفاظ ڈھونڈنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شوکت صدیقی کے کام کو دیکھتے ہوئے انتظامی اور حکومتی سطح پر ڈاک کی ٹکٹ ان کے نام منسوب کرنی چاہیے، ان کی تحریروں کو جمع کر کے مجموعے کی شکل میں شائع کرنا چاہیے، محمود شام کا کہنا تھا کہ جس وقت شوکت صدیقی نے لکھنا شروع کیا اس وقت عام آدمی کو لکھنے کی اجازت تھی لیکن کسی صحافی کے لیے یہ زرہ مشکل کام ہوتا تھا، شوکت صدیقی نے اس وقت میں ہمت کا مظاہرہ کیا ناول نگاری کی دنیا میں قدم بڑھائے،جانگلوس ان کی اسی کاوش کا ثمر ہے، اس کی خاص بات یہ ہے کہ شوکت صدیقی جانگلوس کے لیے لکھتے اور ہم فوراً اسے شائع کردیتے ، اور اس طرح یہ مسلسل شائع ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت صدیقی کہانی کے آدمی تھے، وہ کہانیاں بہت عمدہ طریقے سے لکھتے تھے ’’اداس نسلیں‘‘ بھی ان کی خوبصورت تحریروں میں سے ہے۔

On the fourth day of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference in Arts Council of Pakistan, Karachi, a session was held on “100 years of Shaukat Siddiqui’s life” in memory of author, novelist and journalist Shaukat Siddiqui.

Karachi ( ) On the fourth and last day of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference in Karachi, a session was organized in the memory of the author, novelist and journalist Shaukat Siddiqui “Shaukat Siddiqui’s 100 Years of Life” in which Zafar Siddiqui, Writer Shakeel Adilzada, poet and editor Mehmood Sham, novelist, writer and journalist Nazir Laghari spoke. Fazil Jameeli performed the duties of moderator. Regarding Shaukat Siddiqui, who earned a name in journalism, fiction and novel writing, his son Zafar Siddiqui said
that he was a very good person as a father. He was a person with progressive thinking. He was a good person but he also excelled in journalism. He tried to keep us awake with social and political consciousness. Journalist Nazir Laghari said that Shaukat Siddiqui was a great writer, in Khuda ki Basti he seems to give importance to the ordinary life conditions, in this novel he described the ordinary life conditions in a normal and traditional way, which is the height of popularity. He said that Shaukat Siddiqui has become a special place in the world of novels, if it is said that among the three famous
novels written by Shaukat Siddiqui, Khuda ki Basti is on the top list, then it will not be wrong. Nazir Laghari said that Shaukat Siddiqui was an intelligent person, he used to keep these situations and things in mind in the novel, even if he used these things in a novel or fiction even after five years. Poet and editor Mehmood Sham said regarding Shaukat Siddiqui that it is not possible to find words for Shaukat Siddiqui. He said that looking at the work of Shaukat Siddiqui, postage stamps should be attributed to him at the administrative and government level, his writings should be collected and published in the form of a collection. Mahmood Sham said that when Shaukat Siddiqui started writing at that time a common man was allowed to write but it was a difficult job for a journalist. The highlight of it is that Shaukat Siddiqui would write for Janglos and we would publish it immediately, and so it started to be published continuously. He said that Shaukat Siddiqui was a man of stories, he used to write stories very well.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز کا آغاز ’’اکیسویں صدی میں اردو تنقید‘‘ کے موضوع پر سیشن میں فکشن ، غزل ، تانیثی تنقید پر گفتگو سے ہوا

کراچی ( ) عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے روز اکیسویں صدی میں اردو تنقید کے موضوع پر سیشن میں ڈاکٹر تحسین فراقی نے کہا کہ تنقید ایک پراسرار عمل ہے جس کے اسرار کو سمجھنا مشکل کام ہے ، البتہ ایک اچھا تخلیق کار اچھا تنقید نگار بھی ہو سکتا ہے ، تخلیق ستارے کو آفتاب بنانے کا جاں گسل عمل ہے، تنقید کے لیے بنیادی چیز متن تک پہنچنا ہے جس کیلئے تخلیقی پس منظر کا وسیع فہم رکھنا ضروری ہے، تنقید کا معاملہ اتنا سادہ نہیں بلکہ نہایت گہرا اور عمیق معاملہ ہے جس میں تمام متعلقہ امور پر غور ضروری ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں تنقید میں مابعد نوآبادیات کا بہت چرچا ہے جبکہ نوآبادیاتی نظام کا وجود ابھی تک برقرار ہے ، ہمیں تھوڑا آگے بڑھ کر عصری صورت حال کا احاطہ کرنا چاہیئے ، فراقی صاحب کے ہمراہ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے کہا کہ سچ ایک ہی ہے متبادل سچ نہیں ہو سکتا، مغرب اور مشرق کے طرزِ فکر میں ہمیشہ سے جنگ رہی ہے ،اکیسویں صدی میں ہمارے ہاں تنقید کی مبادیات پر ہی بات ہو رہی ہے جبکہ ہندوستان میں اس پر ٹھوس کام ہوا، اردو میں پہلے غزل گو ہوا کرتا تھا اب غزل گا ہوتا ہے، پروگرام کی نظامت کے فرائض اقبال خورشید نے انجام دیے، ناصر عباس نیر نے کہا کہ اکیسویں صدی میں نظری تنقید زیادہ کی گئی جس میں مغرب سے ادبی سرقہ کو ہدف بنایا گیا ہے، انسانی سرگرمیوں میں سب سے موثر لکھنے کی سرگرمی ہے، جس کے پانچ بنیادی پہلو ہیں ، تنقید بھی ایک اہم سرگرمی ہے، تنقید نگار اپنی رائے قائم کرتے ہیں اور اسے آگے پیش کرتے ہیں، نائن الیون اور اسلامو فوبیا کے بعد مغرب سے نفرت میں اضافہ ہوا، خالص انٹیلیکچول ہر چیز کے بارے میں ایماندارانہ رائے ظاہر کرتا ہے، بیسویں صدی میں جدیدیت، روایت پسندی کو تنقید کا موضوع بنایا گیا، 1970 کے بعد اس رجحان میں تبدیلی آنا شروع ہوئی، اکیسویں صدی میں تنقید فلسفہ ادب پر بحث کرتی ہے یعنی ادب کو فلسفہ کے طور پر دیکھنا، شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی داستانوں کی کتاب کے ذریعے اس کی بنیاد رکھی جو بیسویں صدی کی تنقید سے بالکل مختلف ہے، اردو فکشن پر تنقید کے موضوع پر قاسم یعقوب نے کہا کہ لٹریچر کو دیکھنے کا انداز گزشتہ عشروں کے دوران بدلا ہے، اکیسویں صدی کی اردو فکشنل تنقید میں مخصوص طرز اپنایا گیا، نقاد جب کہانی پر نظر ڈالتا ہے تو کہانی کے اندر جانے کے بجائے اس کے باہر رہتا ہے اور اس کی اصل تک نہیں پہنچ پاتا، پاکستان میں نئے ناولوں پر بہت کم بحث ہوئی ہے جبکہ باہر اس پر بہت کام ہوا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ، ناول نگار خود میدان میں آگئے اور خود فکشن کی انٹر پریٹیش شروع کر دی،فکشن تنقید کی آج اہم ضرورت یہ ہے کہ سن 2000 کے بعد جو کچھ ہوا اور جتنا اس پر لکھا گیا اس کا احاطہ کیا جائے، نجمہ عثمان نے اکیسویں صدی میں تانیثی تنقید کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صدی میں اردو تنقید کا جائزہ لینے کیلئے گزشتہ صدی کے دوران ہونے والے تنقیدی نظریات کو سامنے رکھنا ہو گا، پاکستان اور ہندوستان میں تانیثی تنقید پر بہت کام ہوا ہے جبکہ یورپ اور امریکہ میں اس پر اتنا کام نہیں ہوا ، فہمیدہ ریاض اور ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنی کتاب میں تانیثی نکتہ نظر کی کئی جہتیں پیش کی ہیں، دیگر لکھنے والوں نے بھی اس پر بہت کام کیا،اکیسویں صدی میں اردو غزل پر تنقید کے حوالے سے ضیاء الحسن نے کہا کہ غزل پر تنقید نہ ہونے کا شکوہ کیا جاتا ہے حالانکہ غزل پر تنقید کی تاریخ بھی اردو تنقید کی تاریخ کے برابر ہے ، 125سال سے غزل پر تنقید ہو رہی ہے ، ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ ہم غزل کو ہی شاعری سمجھ بیٹھے ہیں اور شاعری کی دیگر اصناف کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، اکیسویں صدی میں غزل پر تنقید کی اہم ترین کتاب ڈاکٹر شمیم حنفی نے لکھی ہے جو قاری کے وجود میں اترتی چلی جاتی ہے اور اس پر غزل اور اس کی مبادیات کے پہلو وا ہوتے ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ جدید اردو غزل اور کلاسیکی اردو غزل میں بنیادی طور پر کیا فرق ہے۔

Discussion on fiction, ghazal, literary criticism in the session on Urdu criticism in the 21st century was held that Arts council of Pakistan Karachi.

Karachi ( ) In the session on Urdu criticism in the 21st century on the fourth day of the Aalmi Urdu Conference, Dr. Tahseen Firaqi said that criticism is a mysterious process, the mystery of which is difficult to understand, but a good creator can also be a good critic. Creation is a slow process of making a star a sun. The main thing for criticism is to reach the text, for which it is necessary to have a broad understanding of the creative background. The matter of criticism is not so simple but a very deep and
profound matter in which all It is important to consider the relevant issues, unfortunately we have a lot of discussion of post-colonialism in criticism while the existence of the colonial system is still intact, we should go a little further and cover the contemporary situation. Dr. Raouf Parekh said that the
truth is the same, there can be no alternative truth, there has always been a war between the West and the East, in the twenty-first century we are talking about the basics of criticism, while in India solid work has been done on it, The session was moderated by Iqbal Khursheed in which Nasir Abbas Nayyer said that in the 21st century, more and more theoretical criticism has been done targeting plagiarism from the literature that has been writer in the West. Hatred of the West increased after 9/11 and Islamophobia, however pure intellectuals express honest opinions about everything, in the twentieth century Modernism and traditionalism was made the subject of criticism, after 1970 this trend started to change, in the
21st century, criticism discusses the philosophy of literature, that is, seeing literature as philosophy, Shams-ur-Rahman Farooqi in his book of stories laid. The foundation for it, which is completely different from the criticism of the twentieth century, on the subject of criticism on Urdu fiction, Qasim
Yaqoob said that the way of looking at literature has changed during the last decades, a specific style has been adopted in the Urdu fictional criticism of the twenty-first century. When the critic looks at the story,
instead of going inside it, They remains outside it and does not reach its origin. There has been very little discussion on new novels in Pakistan, while there has been a lot of work on it outside, interestingly, novelists themselves came into the field and started the interpretation of fiction themselves, the critical need of fiction criticism today is to cover what happened after 2000 and what was written on it, Najma Usman said regarding the feminist criticism in the 21st century that in order to evaluate the Urdu criticism in the current century, We need to go to what happened during the last century. Critical theories have to be put forward, a lot of work has been done on feminist criticism in Pakistan and India, while not so
much work has been done on it in Europe and America, Fehmida Riaz and Dr. Fatima Hassan have presented many dimensions of feminist perspective in their book and other writers also worked on it a lot.
Regarding the criticism of Urdu Ghazal in the twenty-first century, Zia-ul- Hassan said that it is suspected that there is no criticism of Ghazal, although the history of criticism of Ghazal is equal to the history of Urdu criticism. Yes, ghazal has been criticized for 125 years, our general mood has become that we consider only ghazal as poetry and other genres of poetry are ignored, the most important book of criticism on Ghazal in the 21st century has been written by Dr. Shamim Hanafi, which continues to
descend into the reader’s existence and reveals the aspects of Ghazal and its foundations.


3rd December 2022

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے منعقدہ پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کے پہلے سیشن ’’اکیسویں صدی میں اردو شاعری‘‘ کا انعقاد

شاعر اپنی زمین اور مٹی سے جڑا ہوا ہوتا ہے، افتخار عارف

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے منعقدہ پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کے پہلے سیشن ’’اکیسویں صدی میں اردو شاعری‘‘ کے حوالے سے نشست کی صدارت افتخار عارف اور امجد اسلام امجد نے کی جبکہ ’’اردو نظم کا تانیثی تناظر‘‘ پر صوفیہ لودھی، ’’مغربی دنیا میں اردو شاعری‘‘ اشفاق حسین، ’’اردو غزل کا موضوعاتی اور اسلوبی جائزہ ‘‘ ضیاء الحسن، ’’اردو غزل کا طرز احساس‘‘ خالد محمود سنجرانی، ’’اردونثری نظم کے شعراء کا تصور عورت ‘‘تنویر انجم اور ’’اردو رباعی‘‘ پر عنبرین حسین عنبر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ شکیل جاذب نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ افتخار عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو کا علاقہ اب بہت وسیع ہوگیا ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کسی صوبے یا علاقے میں رہیں اور وہاں کی زبان کے اثرات آپ پر نہ ہوں۔ شاعر اپنی زمین اور مٹی سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے زمانے میں بہت ادیب اور بڑے بزرگ تھے آنے والے زمانے میں ادیبوں اور سننے والوں کی تعداد کتنی اور کیسی ہوگی اور کیسا ادب لکھا جائے گا یہ نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ غزل معدوم ہورہی ہے مگر پھر کوئی نیا شاعر آتا ہے اور محفل لوٹ لیتا ہے، اب بھی نوجوان شعراء اچھی غزل لکھ رہے ہیں مگر جو غیر معیاری شاعری کررہے ہیں تو ان کے ساتھ ساتھ ان کی تعریف کرنے والے بھی کوئی اچھا کام نہیں کررہے۔ امجد اسلام امجد نے کہا کہ موضوع اگر اکیسویں صدی کے بجائے بیسوی صدی کے حوالے سے ہوتا تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ بیسوی صدی کی شاعری اپنے امکانات دکھاچکی ہے۔ اکیسویں صدی کے اچھے شاعروں نے بھی اپنا آغاز بیسوی صدی میں ہی کیا تھا ہم اکیسویں صدی میں صرف یہی دیکھ سکتے ہیں کہ کن چیزوں کی تقلید کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج شاعری کررہے ہیں وہ بہت اچھے ہیں اور سننے والے بھی بہت اچھے مگر آئندہ سالوں میں جو سننے والے ان کو ملیں گے وہ آج جیسے نہیں ہوں گے، یہ ایک سوچنے والی بات ہے۔ قبل ازیں صوفیہ لودھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عورت کو شدت پسندی نے متاثر کیا ہے مگر چونکہ عورت میں ہر طرح کے حالات سے نبردآزما ہونے کی طاقت ہے اور اسی طاقت نے اسے مضبوط کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے مسائل کو خواتین شاعرات نے اپنا موضوع بھی بنایا ہے جس دن خواتین کو انسان کا درجہ مل جائے گا وہ دن خواتین کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اشفاق حسین نے کہا کہ مغربی شاعری یہاں کی شاعری کی توسیع ہے اور اسے بڑھانے کا عمل بھی ہے، چاہے امریکا ہو یا کینیڈا وہاں جو شاعر شعر کہہ رہے ہیں وہ غزل کی روایت سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔ ضیاء الحسن نے کہا کہ گزشتہ دور میں غزل کی زبان نکھری ہے اس دور میں ابھرنے والے شاعروں نے غزل کی وسیع زبان کا زیادہ بہتر استعمال کیا ہے، ان شاعروں نے مختلف ادوار میں غیر تخلیقی عناصر کو رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزل میں زبان کا درست استعمال اہم ہے مگر اصل بات زبان کا تخلیقی اظہار ہے۔ نئے شاعر زبان کے اس تخلیقی اصول کو سمجھ رہے ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزل کی زبان ہمیشہ اردو کی بول چال کی زبان کے قریب رہی ہے۔ خالد محمودسنجرانی نے کہا کہ ہم اس وقت عالمگیریت کا سامنا کررہے ہیں، اکیسویں صدی کا طرز احساس یہ ہے کہ کہیں اندر سے ہمیں ایک آواز آرہی ہے کہ اکیسویں صدی کے آدمی کا رجحان مقامیت کی طرف زیادہ ہورہا ہے، اتنے عرصے تک ہم نے عالمگیریت کو دیکھ لیا مگر اب ہم اپنی مٹی اور مقامیت کی طرف لوٹ رہے ہیں۔تنویر انجم نے کہا کہ بیشتر شاعروں کے یہاں عورت کی موجودگی اب بھی نہیں ہے مگر غیر موجود بھی تحریر میں اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا کہ موجود، کئی شاعرات نثری نظموں کو پیش کررہی ہیں، پنجاب میں یہ تعداد زیادہ ہے۔ عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ جدید غزل کے رجحان کی طرح رباعی میں انگریزی الفاظ کا استعمال ہے، رباعی میں بھی ہمیں نسائی شعور ملتا ہے۔ جوش ملیح آبادی نے رباعی میں ہمیں مالا مال کیا ہے اور اس صنف میں بہت عمدہ مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی رباعی میں زندگی کے تمام موضوعات شامل ہیں مگر رباعی پھر بھی معدوم ہورہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک بہت مشکل فن ہے۔

The third day of the ongoing 15th International Urdu Conference at the Arts Council of Pakistan Karachi began with the session “Urdu Poetry in the 21st Century”.

A poet is connected to his land and soil, poet Iftikhar Arif said.

Karachi ( ) The first session of the third day of the 15th World Urdu Conference organized by the Arts Council of Pakistan Karachi was chaired by Iftikhar Arif and Amjad Islam Amjad while “Feminist Perspective of Urdu Poetry” presented by Sofia Lodhi, “Urdu Poetry in the Western World” presented by Ashfaq Hussain, “Thematic and Stylistic Review of Urdu Ghazal” presented by Ziaul Hasan, “Emotional Style of Urdu Ghazal” presented by Khalid Mahmood Sanjrani, “Imagination of Women in Urdu Poetry” by presented by Tanveer Anjum and “Urdu Rubai” presented by Ambreen Haseeb Ambar. Shakeel Jazeb performed the duties of moderator. Iftikhar Arif said in his presidential address that the area of ​​Urdu has become very wide now, it is not possible that you live in a province or region and the influence of the language there is not on you. A poet is connected to his land and soil. He said that in my time, there were many writers and great elders. It is not known how many writers and listeners there will be in the coming era and what kind of literature will be written. He said that it is often heard that ghazal is disappearing, but then a new poet comes and steals the show, young poets are still writing good ghazals, but those who are writing substandard poetry, along with them Appreciators are not doing any good either. Amjad Islam Amjad said that if the topic was about the twentieth century instead of the twenty-first century, it would have been better because the poetry of the twentieth century has shown its potential. Even the good poets of the 21st century started in the 20th century. We can only see what is being imitated in the 21st century. He said that the people who are writing poetry today are very good and the listeners are also very good, but the listeners they will meet in the coming years will not be the same as today, this is a thought-provoking matter. Earlier, Sophia Lodhi said in her address that women have been affected
by extremism, but because women have the strength to deal with all kinds of situations and this strength has made her strong. she said that women poets have also made women’s problems their subject, the day women get the status of human beings, that day will be helpful in solving women’s problems. Ashfaq Hussain said that western poetry is an extension of the poetry here and it is also a process of expanding it, whether it is America or Canada, the poets who are writing there are connected with the Ghazal
tradition. Zia-ul-Hasan said that the language of ghazal in the past period is rich, the poets who emerged in this period have made better use of the broad language of ghazal, these poets rejected the non-creative elements in different periods. He said that the correct use of language in Ghazal is important, but the real thing is the creative expression of language. New poets are realizing this creative principle of language which is a welcome thing. He said that the language of Ghazal has always been close to the colloquial language of Urdu. Khalid Mahmood Sanjrani said that we are facing globalization at the moment, the feeling of the 21st century is that somewhere inside we are hearing a voice that the trend of the 21st century man is becoming more towards localism, for so long we have had globalization. but now we are returning to our soil and locality. Tanveer Anjum said that most poets still do not have the resence of women, but the absence is as important in the writing as the presence, many prose poets. Presenting poems, this number is higher in Punjab. Anbarin Haseeb Anbar said that like the trend of modern ghazal, English words are used in Rabai, we also find feminine consciousness in rubai. Josh Malihabadi has enriched us in rubai and this genre contains many excellent articles. He said that today’s rubai includes all the topics of life, but riba’i is still disappearing and the reason is that it is a very difficult art.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے تیسرے روز کا پہلا سیشن ’’ اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب‘‘ کا انعقاد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے تیسرے روز کا پہلا سیشن ‘‘ اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب ‘‘ معروف صحافی اور ادیب محمود شام کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ بچوں کے ادب کے بارے میں اس سیشن سے نعیم الدین کنول ، سلیم مغل ، عبدالرحمان مومن، سیما صدیقی اور ثنا غوری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مقالے پڑھے۔ سیشن کی نظامت کے فرائض علی حسن ساجد نے سر انجام دیئے، سیشن سے خطاب کرتے ہوئے نعیم الدین کنول نے بچوں کی شاعری پر بات کی اور بچوں پر لکھی ہوئی اپنی نظمیں پڑھ کر سنائیں۔ سیما صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے ادیبوں نے بچوں کے لیے افسانے لکھے ہیں۔ بچوں کے لیے جو بھی لکھا جائے وہ بچوں کی ذہنی سطح پر آکر لکھا جائے تاکہ اس کہانی میں بچوں کی دلچسپی برقرار رہے۔ بچوں کے لیے مشکل الفاظ کے بجائے آسان الفاظ لکھے جائیں۔ ثناء غوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں بچوں کو ٹیکنالوجی اور یوٹیوب کے ذریعے متوجہ کیا جائے، اب بچہ پرانے ’’چندا ماموں‘‘ اور ’’بھوتوں کی کہانیاں‘‘ نہیں سننا چاہتا۔ آج کا بچہ سائنس کی بات کرتا ہے اس کو سائنسی کہانیاں چاہئیں۔ اب کارٹون میں روبوٹ دکھایا جاتا ہے۔ ہمیں آج اپنے موضوعات بدلنے ہوں گے۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سلیم مغل نے کہا کہ بچوں کو کہانی سنانا اور کہانی پڑھانا بہت ضروری ہے کیونکہ کہانی بہت اہم ہے اگر کہانی اہم نہیں ہوتی تو دنیا بھر کے مونٹیسوری اسکولوں کا مضمون نہ ہوتا۔ عبدالرحمان مومن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی بچوں کا ادب اتنا ہی اہم ہے جتنا بیسویں صدی میں تھا۔ فرق اتنا ہے کہ آج کا بچہ ادب کو ٹیکنالوجی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ صدارتی خطاب کے دوران محمود شام نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے ادیبوں نے بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا ہے بچوں کے ادب کا مطلب ہے کہ مستقبل کے لئے ہم سوچتے ہیں۔ آج کے بچے کو بڑا ہوکر کل کا بڑا آدمی بننا ہے۔ مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ رواں سال بچوں کے ادب کے لیے حوصلہ افزا رہا دو رسائل پر پی ایچ ڈی کی گئی ہے۔ پہلی بار اسلام آباد میں سرکاری سطح پر بچوں کے ادب پر تین روزہ کانفرنس ہوئی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال سرکاری سطح پر بچوں کے ادب پر ایوارڈز دیئے جائیں گے۔

Session Children literature was held at 15 th Aalmi Urdu Conference .

KARACHI ( ) Arts Council of Pakistan Karachi held the first session of the third day of 15 th Aalmi Urdu Conference “Children’s Literature in the 21st Century” under the chairmanship of well-known journalist and writer Mehmood Sham. Naeemuddin Kanwal, Salim Mughal, Abdul Rahman Momin, Seema Siddiqui and Sana Ghori expressed their views and read papers from this session on children’s literature. Ali Hassan Sajid presided over the session, while addressing the session, Naeem uddin Kanwal spoke about children’s poetry and read out his poems written on children. Seema Siddiqui while addressing said that great writers have written fiction for children. Whatever is written for children should be written at the mental level of children so that children’s interest in the story remains. Easy words should be written for children instead of difficult words. In his speech, Sana ghori said that in the 21st century, children should be attracted by technology and YouTube, now the child does not want to listen to the old “Chanda Mamoon” and “ghost stories”. Today’s child who talks about science needs science stories. Robots are now shown in cartoons. We have to change our topics today. Speaking at the session, Salim Mughal said that it is very important to tell stories and teach stories to children because stories are very important. If stories were not important, Montessori schools around the world would not be a subject. Abdul Rahman Momin while addressing said that even in the 21st century children’s literature is as important as it was in the 20th century. The difference is that today’s child sees literature with technology. During the
presidential address, Mehmood Sham said that all the great writers of the world have created literature for children. Children’s literature means that we think for the future. The child of today has to grow up to be the man of tomorrow. Answering various questions, the speakers said that this year, PhD has been
done on two magazines which are encouraging for children’s literature. For the first time, a three-day conference on children’s literature was held at the official level in Islamabad. The Prime Minister has announced that awards for children’s literature will be given at the official level every year.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تحت پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز “اردو کی نئی بستیاں” کے عنوان سے سیشن کا انعقاد

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تحت پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز “اردو کی نئی بستیاں” کے عنوان سے منعقدہ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کینیڈا سے آئے ہوئے معروف شاعر اشفاق حسین نے کہا کہ پاکستان کی طرح یورپ اور شمالی امریکہ میں توانا اردو شعر و نثر لکھنے والوں کی موجودگی کے باعث اردو کی نئی بستیاں آباد رہیں گی اور اردو فروغ پاتی رہے گی، امریکہ ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں اردو زبان وادب کے فروغ میں اردو مرکز لندن کا بہت بڑا کردار ہے یہاں سے اردو بولنے والوں کو باہم رابطے کا موقع ملا اور فروغ ادب میں مدد ملتی رہی ، اس نشست کے دوران امریکہ سے سعید نقوی ، برطانیہ سے اکرم قائم خانی اور ڈاکٹر قیصر زیدی، جرمنی سے عشرت معین سیما اور آسٹریلیا سے تہمینہ راؤ نے گفتگو میں حصہ لیا جبکہ نظامت کے فرائض غضنفر ہاشمی نے ادا کیے، ڈاکٹر سعید نقوی نے کہا کہ بہت سے تخلیق کاروں نے بیرون ملک اپنا ادبی سفر شروع کیا ، مقامی طور پر جگمگانا آسان ہے مگر خود کو منوانے کے لیے اردو کی پرانی بستیوں سے تعلق ضروری ہے ، کووڈ کے دوران جب فزیکل رابطے کی سہولیات دستیاب نہیں تھیں،برقی نشستیں انتہائی کامیاب رہیں، نیو یارک اور دیگر امریکی ریاستوں میں اردو بھی پڑھائی جاتی ہے ، اکرم قائم خانی نے کہا کہ اردو کو چاہنے والے پاکستان سے باہر بھی موجود ہیں اور انتہائی فعال ہیں، برطانیہ میں افتخار عارف اور دیگر شخصیات نے اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے بہت کام کیا، برطانوی شہروں میں فیض صاحب کی شاعری پر شاندار پروگرام گزشتہ گیارہ سال سے جاری ہیں ، آن لائن مشاعرے منعقد ہو رہے ہیں ، تہمینہ راؤ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی تمام ریاستوں میں اردو ادب پر بہت زیادہ کام ہو رہا ہے، وہاں اردو کا مستقبل روشن ہے، مختلف اداروں کے زیر اہتمام مشاعروں اور ادبی نشستوں کا اہتمام باقاعدگی سے ہو رہا ہے، اسکولوں میں بھی اردو کی تعلیم دی جاتی ہے، پیٹرن یارک شائر ادبی فورم ڈاکٹر قیصر زیدی نے کہا کہ برطانیہ میں اردو ادب کی طویل تاریخ ہے ، ترقی پسند تحریک کا آغاز بھی برطانیہ میں ہوا ، بیرون ملک اردو کی نئی بستیاں نہایت زرخیز ہیں ، شاعری ، تحقیق اور تنقید پر وہاں بھرپور کام ہو رہا ہے ، بیشتر لوگوں نے ہجرت کے کرب کو دلکش انداز میں پیش کیا ہے ، ڈاکٹر عشرت معین سیما نے کہا کہ جرمن سرزمین اردو کے حوالے سے بیحد زرخیز ثابت ہوئی ہے، وہاں اردو کی صورت حال مختلف حصوں میں تقسیم ہے جن میں تحقیق و تنقید، شعر و شاعری، نثر نگاری اور دیگر اضافہ شامل ہیں، اب وہاں جامعات میں اردو بطور ادب پڑھانے کی بات ہو رہی ہے، برلن سے بون تک ہر جگہ اردو کی ترویج و ترقی پر کام ہو رہا ہے۔

Session “Urdu ki Nai Bastiyan” was held at 15 th Aalmi Urdu Conference.

Karachi ( ) On the third day of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference under the Arts Council of Pakistan, Karachi, a session titled “Urdu Ki Nai Bastian” was held. While presiding over the session Ashfaq Hussain, a well-known poet from Canada, said that like Pakistan, Europe and North America Due to the presence of talented Urdu poets and prose writers, the new Bastian of Urdu will continue to settle and Urdu will continue to flourish. The speakers got a chance to interact and help in promoting literature. During this session, Saeed Naqvi from America, Akram Qaim Khani and Dr. Qaiser Zaidi from Great Britain, Ishrat Moin Seema from Germany and Tehmina Rao from Australia participated in the discussion. While hazanfar Hashmi performed the duties of moderator, Dr. Saeed Naqvi said that many creators started their literary journey abroad, it is easy to shine locally, but to convince oneself, connection with the old towns of Urdu is necessary. , virtual session have been extremely successful during Covid, Akram Qaim
Khani said that those who love Urdu are also present outside Pakistan and are very active. The wonderful programs have been going on for the past eleven years, online mushairas are being organized, Tehmina Rao while participating in the conversation said that a lot of work is being done on Urdu literature in all the states of Australia, the future of Urdu is bright there. , mushairas and literary meetings organized by various organizations are being organized regularly, Urdu is also taught in schools, Patron Yorkshire Literary Forum Dr. Qaiser Zaidi said that Urdu literature has a long history in Britain, progressive. The movement also started in Britain, the new settlements of Urdu abroad are very fertile, there is a lot of work being done there on poetry, research and criticism, most of the people have presented the pain of
migration in a charming way, Dr. Ishrat Moin Seema. she said that the German land has proved to be very fertile with regard to Urdu, the situation of Urdu there is divided into different parts And now there is talk of teaching Urdu as a literature in the universities, from Berlin to Bonn, work is being done on the promotion and development of Urdu. Uxi Mufti book “Muhammad (PBUH) in modern times” was launched in the fifteenth Aalmi Urdu Conference in Arts Council of Pakistan, Karachi.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری پندرھویں عالمی اردو کانفرنس میں عکسی مفتی کی ’’ Muhammad (PBUH) in modern times ‘‘ کتاب کی تقریب رونمائی

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز چوتھے سیشن میں عکسی مفتی کی کتاب’’ Muhammad (PBUH) in modern times ‘‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔کتاب پر افتخار عارف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا اور نظامت کے فرائض سلیم مغل نے ادا کئے۔ افتخار عارف نے کتاب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صاحب ِ کتاب اس کتاب کا پہلا حصہ اللہ کے نام سے قلم بند کرچکے ہیں اور یہ کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دوسرا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت پر بہت ساری کتابیں لکھی جاچکی ہیں اس کتاب پر بھی علماء کی اپنی اپنی رائے ہوگی، ہمارے لئے ہر زمانے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشعل راہ ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت نگاری کے بہت سے تقاضے ہیں ہمیں سوالوں سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سوالوں سے گریز وہ کرے جو کوئی بات چھپانا چاہتا ہو یا اس کے جواب کو مخفی رکھنا چاہے۔ عکسی مفتی نے کوشش کی ہے کہ وہ ہر سوال کا جواب دیں بالخصوص وہ سوال جو مغرب میں اٹھائے گئے ہیں۔مبین مرزا نے کہا کہ عکسی مفتی نے مذکورہ کتاب کا نام بہت متوجہ کرنے والا رکھا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری حیثیت میں جو انسانی زندگی ہے اور انسانی معاملات ہیں بالخصوص اس معاشرے میں جو بدو معاشرہ تھا تو ایسے معاشرے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو اس لئے بھیجا گیا کہ وہ انسانیت کو جوڑنے کی بات کریں۔ عکسی مفتی کی یہ کتاب بھی اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسلام کے بارے میں دلچسپی پائی جاتی ہے اور یہ مزید بڑھ رہی ہے، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو سمجھنا چاہتے ہیں اس لئے عکسی مفتی نے اس کتاب کو تحریر کیا جو اہل مغرب کو اسلام کے بارے میں بتائے گی۔ صاحب کتاب عکسی مفتی نے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس میں انگریزی میں لکھی گئی میری کتاب کی رونمائی رکھنے کے لئے میں احمد شاہ اور افتخار عارف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میری یہ کتاب مسلمین اور مومنین کے لئے نہیں لکھی گئی بلکہ یہ کتاب میں نے منکرین کے لئے لکھی ہے تاکہ انہیں قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری یہ کتاب اپنے ملک کے ان طالب علموں کے لئے بھی لکھی گئی ہے جو انٹرنیٹ سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

Karachi ( ) In the third day and fourth session of the Fifteenth Aalmi Urdu Conference

Organized by the Arts Council of Pakistan Karachi, the launch ceremony of the book “Muhammad (PBUH)
in modern times” by Uxi Mufti was held. Mubeen Mirza expressed his views on book and the duties moderators were perform by Saleem Mughal. Iftikhar Arif, expressing his opinion on the book, said that the author of the book has penned the first part of this book in the name of Allah and this book is the second part regarding Muhammad (PBUH). He said that many books have been written on the biography of scholars will have their own opinion on this book as well, for us, Muhammad (PBUH) is and will be a beacon of light in all times. He said that there are many requirements of biography, we should never avoid questions because those who want to hide something or want to hide the answer should avoid questions. Uxi Mufti has tried to answer every question, especially the questions that have been raised in the West. Mubeen Mirza said that Uxi Mufti has named the above book very attractive. The human nature of Muhammad. In the human life and human affairs, especially in this society which was a Bado society, in such a society, the personality of Muhammad (PBUH) was sent to talk about connecting humanity. This book by Uxi Mufti is also written in the same background. He said that there is an interest in Islam in the West and it is increasing, they want to understand the personality of Muhammad (PBUH), so Uxi Mufti wrote this book to inform the people of the West about Islam. I will tell. Sahib-e-Kitab Uxi Mufti said that I am especially grateful to Ahmed Shah and Iftikhar Arif for launching my book written in English at the Aalmi Urdu Conference. He said that this book of mine was not written for Muslims and believers, but I have written this book for the unbelievers so that they can have full knowledge of the Qur’an and Muhammad (PBUH). He further said that this book of mine is also written for the students of my country
who study from the internet.


2nd December 2022

خبر نمبر۔4

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام پندرھویں عالمی اردو کانفرنس میں ”یادرفتگاں“ سیشن کا انعقاد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام پندرھویں عالمی اردو کانفرنس میں ”یادرفتگاں“ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ادب،شاعری،افسانہ نگاری اور صحافت سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، یادرفتگاں میںشمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، فرہاد زیدی، گوپی چند نارنگ، امداد حسینی، فاروق قیصر(سرگم) کی یادیں تازہ کی گئیں، ادیب امداد حسینی کے ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سحر امداد کا کہنا تھا کہ امداد حسینی اپنے دور کے بڑے اور اہم ادیب میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے بارہ سال کی عمر سے شاعری کی دنیا میں قدم رکھا انہوں نے اپنی کتاب دھوپ رنگ سے شہرت حاصل کی دھوپ رنگ کی مقبولیت کا انداز اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ امداد حسینی کو اس کتاب کی مقبولیت کے پیش نظر سال 2014ء میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان کی کتاب” دھوپ کرن“ ان کی شہرت کا باعث ہے، صحافی اور ادیب فرہاد زیدی کے حوالے سے ان کے صاحبزادے حسن زیدی نے بات کرتے ہوئے کہاکہ فرہاد زیدی بطور صحافی اپنا مقام رکھتے تھے اگرچہ ابتدا میں انکی ماہانہ تنخواہ دفتر میں موجود چائے فراہم کرنے والے ملازم سے بھی کم تھی اس کے باوجود وہ صحافت کو اپنا اہم کام اپنی ذمہ داری کے طور پر ادا کرتے تھے۔حسن زیدی کا کہنا تھا کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن میں انکی شخصیت کے عناصر کو بیان کر سکوں،وہ اصول پسند اور متاثر کن شخصیت کے حامل انسان تھے،ہرخاص عام انکے دوستوں کی لسٹ میں شامل تھا ، ناصر عباسی صاحب کی جانب سے ادیب شمیم حنفی کی یاد میں اظہار رائے کرتے ہوئے انکا کہنا تھا شمیم صاحب کے حوالے آرٹس کونسل کے اسٹیج پر کھڑے ہو کر بات کرنا میرے لئے ذرا مشکل ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں شمیم صاحب نے ایک عمر گزاری ہے آپ ریڈیو میں نامہ نگاری کرتے تھے انہوں نے کہا یہ میرے لئے افسردہ کر دینے والی بات ہے کہ آج آپ ہم میں موجود نہیں ہیں لیکن انکے لکھے ہوئے ڈارمے اپنی جدت اور منفرد ہونے کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں،اپکی تحریر فلسفیانہ اور جدیدیت کے تصور کی حامل ہے، انکل سرگم سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے مرحوم فاروق قیصر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اداکار ،ہدایتکار ارشد محمود کا کہنا تھا اکٹربکڑ ،انکل سرگم جیسے شاہکار فاروق قیصر کی شاہکار سوچ کی ہی تخلیق ہو سکتی ہے وہ بہترین والد،شوہر اور دوست تھے، وہ عمدہ انسان اور منفرد انداز بیان رکھنے والے انسان تھے،گوپی چند کے حوالے سے حمید شاہد کا کہتا تھا کہ یہ وہ شخصیت تھے جن کے بارے میں الفاظ ڈھونڈنا مشکل ہے،وہ ایک مکمل شخصیت کے حامل تھے انکی تعریف کن لفظوں میں کروں انکی تعریف کے لئے کتاب تحریر کرنی پڑے گی۔

UAC-2nd Day – English News 04

Arts Council of Pakistan Karachi organizes session “Yaad Raftgaan” in memory of departed writers.

KARACHI ( ) “Yaad-e-Raftagaan” session was organized in the 15th Aalmi Urdu Conference in which a large number of people associated with literature, poetry, fiction and journalism participated. , Farhad Zaidi, Gopi Chand Narang, Imdad Hussaini, Farooq Qaiser (Sargam) were recalled. Talking about the literature of writer Imdad Hussaini, Sahar Imdad said that Imdad Hussaini was considered one of the great and important writers of his time. He entered the world of poetry from the age of twelve and gained fame with his book Dhup Kiran. He was awarded with the award in the year 2014. His book “Dhup Kiran” is the cause of his fame. Talking about journalist and writer Farhad Zaidi, his son Hassan Zaidi said that Farhad Zaidi had his place as a journalist although initially. Even though his monthly salary was less than that of a tea serving employee in the office, he made journalism his main job Hassan Zaidi said that I do not have the words to describe the elements of his personality, he was a principled and impressive person, especially his friends In the list, Nasir Abbasi expressed his opinion on the memory of writer Shamim Hanafi and said that it is difficult for me to stand on the stage of the Arts Council regarding Shamim, this is the place where Shamim Sahib has spent a lifetime, you used to write in radio, he said, it is a sad thing for me that today you are not present in us, but the dramas written by him are still alive today because of their innovation and uniqueness. His writing has a philosophical and modern concept, while talking about the late Farooq Qaisar, who reached the heights of fame with Uncle Sargam, actor-director Arshad Mehmood said Akar-bakar, the masterpiece of Farooq Qaisar, like Uncle Sargam, is a masterpiece thought. He was the best father, husband and friend that could ever be created. Hameed Shahid used to say that these were personalities about whom it is difficult to find words, he had a complete personality.


1st December 2022

کراچی ( )جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا ہے کہ اقبال نے ہمیں بحیثیت قوم جو نظریہ دیا تھا اس کی طرف ہمیں واپس لوٹنا ہوگا۔ اقبال کے مخاطب ہماری قوم کے نوجوان ہیںانہیں قوم کو آگے لےکر چلنا ہے تبھی ہم ترقی پذیری سے چھٹکارا پاسکیں گے۔ بدقسمتی سے ہم اقبال کا پڑھایا ہوا سبق بھول بیٹھے ہیں اور ہماری خودی و خود داری مشکوک ہوگئی ہے۔ یہ بات انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کے پہلے روز کے دوسرے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس سیشن میں تحسین فراقی، نعمان الحق اور سہیل عمر نے بھی خطاب کیا اور اقبال اور قوم کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا کہ ہماری قوم کو اس وقت سیلاب کی وجہ سے جس بدترین صورتحال کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ احمد شاہ اور آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کے تمام اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پندرھویں عالمی اردو کانفرنس کا بہترین انداز میں انعقاد کیا اور شہر کراچی میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ تحسین فراقی نے کہا کہ اقبال بساط عالم پر ایک عطیہ الٰہی تھے ان کا فیض آج بھی فیض جاریہ ہے۔ اقبال کا کلام اپنے اندر آفاقی سچائیاں سموئے ہوئے ہے۔ ان کے اولین مجموعے سے لےکر ارمغان حجاز تک ایک ہی پیغام ملتا ہے اور وہ پیغام خودداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی ترقی اور ارتقاءمیں بنیادی کردار تقدیر اور تدبیر کے عناصر کا ہے۔ اقبال کو یہ شعور ابتداءہی سے تھا اور ان کی تمام شاعری اسی پیغام کی تشریح کرتی نظر آتی ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کہ اقبال کا دو تہائی کلام فارسی زبان میں ہے اور ہم فارسی سے نابلد ہیں۔ اقبال کے کلام سے فلسفہ حیات اخذ کرنے میں یہ بڑی رکاوٹ ہے، ہم نے فارسی کو بھلا کر اپنا بہت بڑا تہذیبی نقصان کیا ہے۔ اگر ہم اقبال کے فلسفہ خودی کو سمجھ لیتے اور اسے اپنا شعار بناتے تو یہ کبھی ممکن نہ تھا کہ ہماری قوم کشکول لےکر دنیا بھر میں پھرتی اور اس کا یوں مذاق اڑتا۔سہیل عمر نے کہا کہ اقبال کو اپنی قوم کا درد تھا اور وہ اس کی سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی حالات کو سدھارنا چاہتے تھے۔ انہوں نے قوم سے اپنے تعلق کی جہات کی وضاحت اپنے اشعار کے ذرےعے کردی ہے۔ اقبال کا فلسفہ حیات فکر انسانی کے لئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ، مغربی استعمار کے زمانے میں اسلامی تہذیب کو درپیش خطرناک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے اپنی قوم کو خودداری اپنانے کا درس دیااور اندھی تقلید سے روکا، یہ ایک سنگین چیلنج تھا جس کا مقابلہ اقبال جیسا بڑا شاعر ہی کرسکتا تھا۔ اقبال کا کلام ہمیشہ لازوال رہے گا کیونکہ اس کی معنویت آج اور کل کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ نعمان الحق نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری قوم اقبال سے دور ہوتی جارہی ہے حالانکہ ان کا کلام اور پیغام انسانی تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری سے ایک منظم فلسفیانہ نظام کشید کرنا کار لاحاصل ہے کیونکہ ان کے یہاں گونا گونی پائی جاتی ہے۔ ملت سے فرد کے ربط کا جتنا خوبصورت اظہار اقبال کرتے ہیں وہ کہیں اور نہیں ملتا


کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پندرہویں سالانہ عالمی اردو کانفرنس جو اردو ادب کا سب سے بڑا میلہ ہے کا افتتاح جمعرات کی شام وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم I میں کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے خصوصی طور پر شرکت کی جب کہ مجلس صدارت میں زہرا نگاہ ، اسد محمد خاں،انور مقصود، افتخار عارف،کشور ناہید، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی،رضی احمد، اشفاق حسین، رﺅف پاریکھ، منور سعید، نورالہدیٰ شاہ، یوسف خشک ایلکس بیلم،ناصر عباس نیئر موجود تھے جبکہ بڑی تعداد میں اردو کے قدر دانوں کی شرکت سے اردوکانفرنس کو چار چاند لگادےئے گئے۔ اس موقع پر آرٹ کونسل کے احاطے میں کتابوں کی نمائش اور فوڈ کوڈ بھی لگایا گیا۔ آرٹ کونسل کے اندر ایک میلہ کا سماں ہے جو چار دن تک جاری رہے گا۔ عالمی اردو کی پہلی کانفرنس 2008ءمیں منعقد ہوئی تھی، اس کے بعد تسلسل کے ساتھ یہ کانفرنس منعقد ہورہی ہے اور اس میں بتدریج ترقی ہی ہورہی ہے، اب اس کانفرنس میں پاکستان کے علاقائی زبانوں سندھی، بلوچی، پشتوں، سرائیکی، پنجابی کو بھی شامل کردیاگیا ہے جب کہ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے سینکڑوں دانشوروں، ادیبوں، شاعروں کے علاوہ غیر ملکی مندوبین بھی شرکت کررہے ہیں، اس کانفرنس میں کل 46 سیشن ہوں گے۔ پہلے روز افتتاحی اجلاس کے بعد ”اقبال اور قوم“، ”اردو کا شاہکار ادب“ اور قوالی ”آہنگ خسروی“ معروف قوال ایازفرید، ابو محمد نے امیر خسرو کا کلام پیش کیا۔


Chief Minister Sindh Syed Murad Ali Shah has said that the Arts Council of Pakistan Karachi has become the biggest center of Culture in Pakistan at this time. He said that the Aalmi Urdu Conference, scholars of Urdu language come from all over the world, this also increases the cultural activities.

Karachi ( ) For the better use of Faizi Rahmeen, there is no other organization better than the Arts Council, which can use it for its original purpose. They will decide after fulfilling the legal requirements. Addressing the conference as the chief guest, he said that the president and officials of the Arts Council deserve congratulations for organizing this world’s biggest international Urdu conference in Sindh. He said that the message of love and peace always goes from our province. The assembly of this province had passed the resolution of Pakistan and the message of love is spread throughout Pakistan from here. Syed Murad Ali Shah said that in 15 years, some things were done for the development of the province which were not done in other provinces. The People’s Party is also patronizing the Arts Council in making it the culture center of Pakistan. He said that the people of this province are very loving and the message of love has always gone from here to the whole country. When the environment is insolent, we are never rude even in such an environment. Minister of Culture and Education Sindh. Syed Sardar Shah said that Ahmed Shah has made the Arts Council a true cultural center of Pakistan where the art and culture of Pakistan has been revived. Where Sindh has not left the finger of Shah Latif and Sachal Sarmast, Anwar Maqsood and Anwar Shaoor have also held the steps.. We need people’s support. He further said that for the first time in Sindh, teachers are being appointed for the promotion of music and art for government schools, we need your support so that we can create an enlightened society. Zahra Naigh, said that it is a pleasure to see all of you and sometimes I wonder if this city can show us such a beautiful scene. Pakistan is suffering from various problems these days, but the common man cannot understand these problems. Holding the Urdu conference in the midst of rising inflation is a brave act. He further said that rising inflation and declining reputation have not only broken the back but also broken the pride of man. In such circumstances, organizing the Aalmi Urdu Conference is a great achievement of Ahmed Shah. He said that the behavior of our previous governments has not been fair to our regional languages, there are many gems hidden in these regional languages, all these regional languages are rich in literature and culture. she said that language is a pillar in the development of nations, freedom of opinion is of great importance, but at this time it is a very difficult time for freedom of opinion. she said that there are many questions but the answer is not available. President of Arts Council of Pakistan Ahmed Shah said that people from all over the subcontinent came and settled in this city, Pakistan had a goal of peace and tranquility in an enlightened society. He said that neither atomic bomb nor any weapon is greater than culture. The upcoming Pakistan Literature Festival will be held in Gwadar, Lahore, Islamabad, Muzaffarabad, Peshawar, Gilgit-Baltistan, USA, Canada and other countries as well. He said that this province leads the country in terms of culture. The Art Council of Pakistan Karachi has built a cultural center in District Central with the support of the Sindh government. Famous humorist Anwar Maqsood said that Ahmad Shah has been in this building for a long time. When I gave it, he said that you nominate someone, I will hand it over to him, but I could not nominate anyone. The writer is aware of the power of his words, the writer wants to be told and written fearlessly in front of the cruel world. Dr. Alex Belum , who came from Great Britain, said that I am proud to participate in the World Urdu Conference. Different languages are spoken all over the world and language is the best medium of communication.


Press Release:

From the office of Chairman Arts Council/Commissioner Karachi Division:

No. CK/GNS/ACP/2022-1064… Dated: 01-12-2022


22 November 2022

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جنرل باڈی اجلاس 27 نومبر 2022 کو آرٹس کونسل کے اوپن تھیٹر ہال میں منعقد ہو گاجس میں ممبران ہی شرکت کر سکیں گے۔ بعد ازیں عشائیہ اور محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے


Nov 16, 2022

32 سال بعد حیدر آباد میں عوامی تھیٹر فیسٹول کے انعقاد پر آرٹسٹوں کا احمد شاہ کا شکریہ

حیدرآباد میں آخری ثقافتی پروگرام 1992 میں منعقدہوا تھا.

اب مہران آرٹس کونسل آباد اور ثقافتی پروگرام تسلسل کے ساتھ ہوں گے احمد شاہ

حیدرآباد ( )32 سال بعد عوامی تھیٹر کی بحالی پر حیدرآباد کے عوام خصوصا آرٹسٹوں، ادیبوں اور شاعروں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے کراچی میں فن و ثقافت کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دی اور اب 32سال بعد عوامی تھیٹر کی بحالی حیدرآباد میں صحت مند سرگرمیوں کا آغاز ہے، پیر کی شام تھیٹر فیسٹول کے افتتاحی تقریب کے موقع پر اسٹیج فن کاروں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے الگ الگ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی محمد احمد شاہ سے ملاقات اور تھیٹر فیسٹول کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ فن کاروں نے کہا کہ حیدرآباد میں مہران آرٹس کونسل میں آخری تھیٹر 1992 میں منعقد ہوا تھا اور اس کے بعد آج تک اس طرح کا کوئی ثقافتی پروگرام نہیں ہوا۔ مہران آرٹس کونسل بنجر ہو چکی تھی اب اس کی تزئین و آرائش اور بحالی سے آرٹسٹ بہت خوش ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ کراچی کی طرح اب حیدرآباد میں بھی احمد شاہ کی سرپرستی میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں جاری رہیں گی۔ ادیبوں اور شاعروں نے کہا کہ حیدرآباد میں بھی کراچی کی طرح عالمی اردو کانفرنس منعقد کی جائے۔آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر محمد احمد شاہ نے سندھ کے ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے تمام شہروں میں جہاں آرٹ اینڈ کلچر کا انفراسٹرکچر ہے وہاں تھیٹر فیسٹول اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوں گے اس کا افتتاح 14نومبر 2022ئ کو حیدرآباد سے کر دیا گیا ہے، حیدرآباد آرٹس کونسل کو بھی بحال کیا جا رہا ہے، سندھ کی دونوں اکائیوں کو قریب لا کر سندھ میں محبت کو فروغ دینے کا کام شروع کیا ہے جو سندھ کی اصل ثقافت ہے۔احمد شاہ نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہی نہیں اہم کلچرل شہر ہے جہاں سندھی اور اردو بولنے والوں کی کثیر آبادی رہائش پذیر ہے ماضی میں سازش کے تحت دونوں آبادیوں کے درمیان نفرت پیدا کی گئی دونوں کے دلوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے اس کے لیے کلچر بہترین پل کا کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جمع کریں گے یہ آخری پروگرام نہیں اب یہاں مسلسل کلچرل پروگرام ہوتے رہیں گے۔حیدرآباد کے آرٹسٹوں کا شکریہ جو انہوں نے ہمارا استقبال کیا۔۔ حیدرآباد کی کلچرل اور فلائی تنظیموں کو بھی ساتھ ملائیں گے۔کام سو فیصد میرٹ پر ہو گا ہر آرٹسٹ کی عزت برابر ہو گی سندھ کی دھرتی میری ماں ہے میرے والد ہجرت کر کے یہاں آئے تھے اسی مٹی نے ہمیں پناہ دی انہوں نے مہران آرٹس کونسل میں ایک کمیٹی قائم کی جائے گی۔ ممبر شپ کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔انہوں نے کہا سندھ کے وزیر ثقافت سید سردار شاہ چاتے ہیں کہ یہ سارے ادارے آباد ہوں ان کے ویڑن کے مطابق یہ آرٹسٹوں آدیبوں، شاعروں کے تعاون سے ہی آباد ہوں گے۔

Artistes thank Ahmed Shah for holding Awami Theater Festival in Hyderabad after 32 years.

The last cultural program in Hyderabad was held in 1992.

Hyderabad ( ) The people of Hyderabad, especially the artists, writers and poets expressed their happiness on the restoration of Awami Theater after 32 years and thanked the President of Arts Council of Pakistan Karachi Ahmed Shah and said that he has promoted art and culture in Karachi. The revival of public theater after 32 years is the beginning of healthy activities in Hyderabad. Stage artistes, writers, poets and journalists, separately met with President Arts Council, on the occasion of the opening ceremony of theater festival on Monday evening and thanking him for organizing the theater festival. Artists said that the last theater held at the Mehran Arts Council in Hyderabad was in 1992 and no such cultural program has been held since then. The Mehran Arts Council had become barren, now the artists are very happy with its renovation and restoration. They expressed hope that like Karachi, literary and cultural activities will continue in Hyderabad under the patronage of Ahmed Shah. Writers and poets said that a Almi Urdu conference should be held in Hyderabad like Karachi. President of Arts Council of Pakistan Muhammad Ahmad Shah while talking to the writers, poets and artists of Sindh said that in all the cities of Sindh where art And there is infrastructure for culture, there will be theater festivals and cultural programs. It has been inaugurated on November 14, 2022 from Hyderabad. Ahmed Shah said that Hyderabad is not only the second largest city of Sindh but also an important cultural city where a large population of Sindhi and Urdu speakers reside. Culture can serve as the best bridge for the need to connect the hearts of the two populations that have created hatred. He said that we will gather everyone, this is not the last program, now there will be continuous cultural programs here. Thanks to the artists of Hyderabad who welcomed us. The cultural and fly organizations of Hyderabad will also be brought together. The work will be done on 100% merit. Every artist will have equal respect. The land of Sindh is my mother. A committee will be set up in the Arts Council. Elections will be held after the membership. He said that Sindh Culture Minister Syed Sardar Shah wants all these institutions to be settled.


Tue, Nov 15, 2022

  مہران آرٹس کونسل حیدر آبادکے ہال کوپاکستان انڈسٹری کے معروف اداکار مصطفی قریشی کے نام سے منسوب کر دیا گیا

کراچی(  ) صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار شاہ نے صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ کی تجویز پر مہران آرٹس کونسل کے تھیٹر ہال کا نام ملک کے معروف فن کار مصطفی قریشی کے نام سے منسوب کر دیا۔ پیر کی شام مہران آرٹس کونسل میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے دس روزہ تھیٹر فیسٹول کے افتتاحی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احمد شاہ ایسے ڈکٹیٹر ہیں کہ ہر کوئی ان کی بات خوشی مان لیتا ہے۔ مصطفی قریشی کا تعلق حیدر آباد سے جنہوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں متعارف کرایا، آج اس ہال کو ان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے سٹار کے انتقال کے بعد اس کی پذیرائی کی جاتی ہے، مصطفی قریشی صاحب ابھی حیات ہیں اور یہ سن کر کے اس ہال کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے یقینا خوش ہوں گے۔ یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہے

The hall of Mehran Arts Council  Hyderabad was named after the renowned artist of Pakistan Film Industry Mustafa Qureshi

KARACHI ( ) Provincial Education and Culture Minister Syed Sardar Shah has named the theater hall of Mehran Arts Council Hyderabad after the country’s well-known artist Mustafa Qureshi on the suggestion of Muhammad Ahmad Shah, President of Arts Council of Pakistan Karachi. Addressing the opening ceremony of the 10-day theater festival on behalf of the Arts Council of Pakistan Karachi on Monday evening at the Mehran Arts Council as the chief guest, he said that Ahmed Shah is such a dictator that everyone listens to him with pleasure. Mustafa Qureshi belongs to Hyderabad who introduced the name of Pakistan to the world, today this hall is named after him. Mustafa Qureshi is still alive and he will be happy to hear that this hall has been named after him. This is an acknowledgment of their services


Tue, Nov 15, 2022

مہران آرٹس کونسل حیدر آباد کی رونقیں بحال ، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے مہران آرٹس کونسل حیدر آباد میں دس روز سندھ تھیٹر فیسٹیول کا آغاز

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے حیدرآباد میں” سندھ  تھیٹر تھیٹر فیسٹیول 2022″ کا اہتمام مہران آرٹس کونسل میں کیا گیا۔دس روزہ سندھ فیسٹیول کا افتتاح وزیر ثقافت سندھ سید سردار علی شاہ اور صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کیا ۔ سندھ تھیٹر فیسٹیول میں جوائنٹ سیکریٹری اسجد بخاری ،اراکین گورننگ باڈی شکیل خان ،چئیرمین میڈیا اینڈ پبلی کیشن بشیر سدوزوئی ،چیف کور آرڈینیٹر شاہ نواز بھٹی اور حیدر آباد کے فن کاروں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ثقافت و تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ احمد شاہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔سندھ صدیوں سے محبت کی سر زمین رہی ہے حیدر آباد شہر کی ہم آہنگی میں دراڑ آ گئی تھی۔حیدرآباد ثقافتی سینٹر ہے۔میرا بچپن حیدرآباد کی گلیوں میں گھومتے گزرا۔میں حیدرآباد کی ثقافتی سرگرمیوں کا امین رہا ہوں سندھ کا انتظامی دارالحکومت کراچی لیکن ثقافتی دارالحکومت  حیدر آباد ہے ۔سندھ کی دھرتی ہماری ماں ہے ۔تھیٹر ایک حسین روایت رہی ہے۔مہران آرٹس کونسل ثقافتی سرگرمیوں سے محروم رہا ہے ۔آرٹس کونسل کراچی کلچر کا سب سے بڑا ادارہ بن چکا ہے۔احمد شاہ کا یہ احسن اقدام ہے کہ وہ فنکاروں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ہم مزید کلچرل پروگرامز کا انعقاد کریں گے ۔تمام آرٹس کونسلز کو ایک ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں۔آرٹس کونسل کراچی محمکہ ثقافت مل کر ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ہماری کوشش ہے فنکاروں کو روز گار ملے۔کام ملتا رہے گا ان کا گھر چلتا رہے گا۔احمد شاہ اس جدید دو رکا آدمی ہے جسے سب قبول کرتے ہیں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم تھیٹر بھی کریں گے ،کلاسیکل میوزک  بھی کریں گے دھمال بھی ڈالیں گے ہم ان سب لوگوں کو ایک جگہ لائیں گے ہم نے سندھ کے تمام آرٹسٹوں کو ایک جگہ لانا ہے ہم سے جوکچھ ہوگا ہم کریں گے۔ سندھ ہماری ماں ہے اس نے ہمیں پناہ دی اس نے تعلیم دی عزت دی۔ یہ ہمارا اور سردار علی شاہ کا ویژن تھا۔ثقافتی پروگرامز کا دائرہ کار وسیع کر رہے ہیں۔سکھر، لاڑکانہ ،میرپور خاص کی آرٹس کونسلز کو فعال کر رہے ہیں۔اس کام کا آغاز مہران آرٹس کونسل حیدرآباد سے کر رہے ہیں۔یہ پہلا سندھ تھیٹر فیسٹیول ہے۔یہاں میوزک فیسٹیول اور لٹریری فیسٹیول بھی کریں گے۔اس شہر کو نظر لگ گئی تھی۔ایک زمانے تک یہاں حالات خراب رہے۔ہمیں دلوں کو جوڑنا ہے ´ثقافت واحد چیز ہے جو دلوں کو جوڑ سکتی ہے۔حیدر آباد تاریخی شہر ہے۔یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے گا۔دس روزہ سندھ تھیٹر فیسٹیول میں پانچ سندھی زبان کے تھیٹر جبکہ پانچ اردو زبان کے تھیٹر پیش کیے جائیں گے۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرایو ب شیخ نے انجام دیے

The splendor of Mehran Arts Council Hyderabad has been restored, Arts Council of Pakistan Karachi has started a ten-day Sindh Theater Festival at Mehran Arts Council Hyderabad.

KARACHI ( ) Arts Council of Pakistan Karachi organized “Sindh Theater Festival 2022” in Hyderabad at Mehran Arts Council. Sindh Culture Minister Syed Sardar Ali Shah and President Arts Council Mohammad Ahmad Shah inaugurated the ten-day Sindh Theatre  Festival. Joint Secretary Asjad Bukhari, Members Governing Body Shakeel Khan, Chairman Media and Publication Bashir Sadozai, Chief Coordinator Shah Nawaz Bhatti and a large number of citizens including artists of Hyderabad participated in the Sindh Theater Festival. Sindh Culture and Education Minister Syed Sardar Ali Shah said that I am grateful to Ahmed Shah for taking up this task. Hyderabad is the cultural center. My childhood was spent roaming in the streets of Hyderabad. I have been a trustee of the cultural activities of Hyderabad. The administrative capital of Sindh is Karachi, but the cultural capital is Hyderabad. The land of Sindh is our mother. Arts Council has been deprived of cultural activities. Arts Council Karachi has become the biggest institution of culture. It is a good initiative of Ahmed Shah that he is working for artists. We will organize more cultural programs.we . Want to connect the all arts  councils together Our effort is that the artists get employment. The work will continue and their house will continue. Ahmed Shah is a great man who is accepted by all.President Arts Council of  Pakistan Karachi Muhammad  Ahmed Shah said that  We will also do theatre, we will do classical music, we will also do Dhamaal. We will bring all these people together. We want to bring all the artists of Sindh together. Sindh is our mother, she gave us shelter, she gave us education, she gave us respect.We are expanding the scope of cultural programs. We are activating the Arts Councils of Sukkur, Larkana, Mirpur Khas. We are starting this work with Mehran Arts Council Hyderabad. This is the first. Sindh Theater Festival. Music Festival and Literary Festival will also be held here. We have to connect hearts. Culture is the only thing that can connect hearts. Hyderabad is a historical city. This series will continue like this. In the ten-day Sindh Theater Festival, five Sindhi language theaters and five Urdu language theaters will be present.


Nov 12, 2022,

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی تھیٹر اکیڈمی کی جانب سے اطالوی تھیٹر پلے”The Virtuous Burglar“کا پیش کیا گیا

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی تھیٹر اکیڈمی کی جانب سے اطالوی ڈائریکٹر Dario Fo کاتھیٹر پلے”The Virtuous Burglar“ اسٹوڈیو II میں پیش کیاگیا۔ اٹیلین ڈائریکٹرDario Fo کا تحریر کردہ پلے آرٹس کونسل کراچی میں انگریزی زبان میں پیش کیاگیا۔پلے کی ہدایت کاری ڈائریکٹر اسد گوجر نے دی۔جبکہ تھیٹر میں آرٹس کونسل تھیٹر اکیڈمی کے طلباءنے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فن کاروں میں بلال احمد،شیزاخان،مصطفی شاہ،ملائکہ حیدر،شیرل جون،حسون رافع،ارمغان کتھری شریک تھے ۔ شائقین کی بڑی تعداد نے فنکاروں کی زبردست پرفارمنس کو بے حد سراہا۔ واضح رہے کہ تھیٹر ” The Virtuous Dario“ 13نومبرتک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری رہے گا

Italian theater play “The Virtuous Burglar” was presented by Arts Council of Pakistan Karachi Theater Academy.

KARACHI ( ) Arts Council of Pakistan Karachi’s Theater Academy of presented theater play “The Virtuous Burglar” by Italian director Dario Fo at Studio II. play written by Italian director Dario Fo was presented in English language at Arts Council Karachi. The play was directed by director Asad Gojar. While in the theatre, the students of Arts Council Theater Academy showed the essence of acting. Bilal Ahmed, Shizza Khan, Mustafa Shah, Malaika Haider, Sheryl John, Hassoon Rafi, Armaghaan Kathri participated. A large number of fans appreciated the great performance of the artistes. It should be noted that the theater “The Virtuous Burglar” will continue on November 13 at the Arts Council of Pakistan Karachi.


Nov 11, 2022

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف مجسمہ ساز انجم ایاز کے خوبصورت فن پاروں پر مبنی نمائش کا انعقاد

کراچی ()آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف مجسمہ ساز انجم ایاز کے خوبصورت فن پاروں پر مبنی نمائش کا اہتمام جون ایلیاءلان میں کیاگیا۔ نمائش کا افتتاح معروف دانشور و ادیب انور مقصود اور صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے کیا۔مجسمہ ساز انجم ایاز نے پتھروں کو تراش کر ان پر اسمائے حسنیٰ کنندہ کیے ہیں۔صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے نمائش میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انجم ایاز بہت بڑے فنکار ہیںانجم ایاز نے پتھروں کو تراش کر ان پر اسمائے حسنیٰ تراشے ہیں ۔یہ بہت ہی زبردست کام ہے جو انہوں نے کیا ہے۔انجم ایاز کا مشکور ہوں کہ انہوں نے نمائش کے لیے آرٹس کونسل کا انتخاب کیا۔مختلف پتھروں کی قسموں پر اللہ کے نام تراشے ہیں۔یہ ایک مشترکہ کاوش ہے آرٹس کونسل اور انجم ایاز کی۔ یہ نمائش تین دن جاری رہے گی ۔انور مقصود نے نمائش سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ انجم ایاز کوجانتے ہیں جو لوگ آرٹ کو جانتے ہیں جنہیں آرٹ کا شوق ہے وہ سب انجم ایاز کو مانتے ہیں۔انجم ایاز کا تعلق امروہہ سے ہے۔امروہہ کا کوئی آدمی خطاطی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔امروہہ خطاطی کے بغیر ایسا ہے جیسے پاکستان بغیر پاک فوج کے۔ان کی والدہ ان کو کہا کرتی تھی کہ صرف خطاطی کرو۔ہیرا پتھر سے نکالا جاتا ہے انجم نے ہیروں سے پتھر نکالا ہے انہوں نے بہت جلدی بخشش کا سامان تیار کر دیا ہے ۔پاکستان میں اس قسم کے پتھر بھی موجود ہیں۔اللہ نے ہماری زمین پر بے شمار نعمتیں رکھی ہیں۔ انجم نے یہ پتھر نہ جانے کہاں سے ڈھونڈ نکالے ہیں۔اس طرح کے پتھر اپنی زندگی میں نہیں دیکھے۔انجم کے فن پارے آ پ کو چین ،جاپان دنیا بھر میں ہر جگہ ملیں گے۔جمی انجنیئرنے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے ہمارے ملک میں اس قدر خوبصورت پتھر ہیں جو ہمیں پتا ہی نہیں۔انجم ایاز نے جہاں بھی نمائش کی میں وہاں گیا۔احمد شاہ نے یہاں ہیرا لگا دیا ہے۔میں احمد شاہ کو دعا دیتا ہوں کہ آرٹس کونسل کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔مجسمہ ساز انجم ایاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انور مقصود اپنی ذات میں ایک ہیں۔میرا واسطہ آرٹس کونسل کے ساتھ پرانا ہے۔میں احمد شاہ کو دعا دیتا ہوں انہوں نے آرٹس کونسل کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔احمد شاہ نے فن کے لیے بہت کام کیا ہے میں نے پتھروں کو تراشنا شروع کیا اور ان پر اسمائے حسنی تراشے۔ہمارے ملک میں ہر قسم کا پتھر موجود ہے۔

Arts Council of Pakistan Karachi organized an exhibition based on the beautiful works of renowned sculptor Anjum Ayaz.

Karachi () Arts Council of Pakistan Karachi organized an exhibition based on the beautiful works of renowned sculptor Anjum Ayaz in Jaun  Eliy Lawn . The exhibition was inaugurated by the well-known intellectual and writer Anwar Maqsood and the president of Arts Council Karachi Muhammad Ahmad Shah. Sculptor Anjum Ayaz carved the stones and put names of Allah on them. President Arts Council Karachi Muhammad Ahmad Shah spoke at the exhibition. He said that Anjum Ayaz is a great artist. Anjum Ayaz has carved stones and carved names of Allah on them. This is a great work that he has done. I am grateful to Anjum Ayaz for choosing the Arts Council for the exhibition. The names of Allah are carved on different types of stones. This is a joint effort of the Arts Council Karachi and Anjum Ayaz. This exhibition will continue for three days. Anwar Maqsood, expressing his views on the exhibition, said that those who know Anjum Ayaz, those who know art, who are fond of art, all believe in Anjum Ayaz. Anjum Ayaz belongs to Amroha. No man of Amruha can live without calligraphy. Amruha without calligraphy is like Pakistan without Pakistan Army. His mother used to tell him to do calligraphy only. They have prepared the material of forgiveness very quickly. There are also such stones in Pakistan. Allah has placed many blessings on our land. You will find Anjum’s works of art everywhere in China, Japan, and all over the world. Jimmy Engineer, speaking from the ceremony, said that It is surprising that there are so many beautiful stones in our country which we don’t know about. Wherever Anjam Ayaz exhibited, I went there. Ahmed Shah planted a diamond here. Sculptor Anjum Ayaz expressed his opinion and said that Anwar Maqsood is one of his own. I have an old relationship with the Arts Council. I pray to Ahmed Shah. Ahmad Shah has done a lot of work for art. I started carving stones and engraved names on them. There are all kinds of stones in our country.


Nov 5, 2022

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے اشتراک سے کشمیری حریت رہنما
“مولانا عباس انصاری “کے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے اشتراک سے کشمیری حریت رہنما
“مولانا عباس انصاری “کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سول سوسائٹی کے اراکین نے کہا کہ حریت رہنماوں کی لازوال قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ حریت کانفرنس کے سابق چیئر مین مولانا عباس انصاری سمیت حریت کانفرنس کے ان رہنماﺅں نے شیخ عبداللہ کے سیکولرازم کے آگے۔ بند باندھ کر جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی بروقت رہنمائی کی اور نوجوانوں کو اسلامی معاشرے اورتحریک آزادی کو کشمیر سے مسلک کیا۔ اجلاس سے سابق اراکین سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، میجر (ر) قمر عباس،، مجلس وحدت مسلمین کے علامہ باقر عباس زیدی،پی ٹی آئی کے رہنما اسرار عباسی، کالم نویس و تجزیہ نگار بشیر سدوزئی، حافظ امجد، حیدر امام،سید شاہد حسین، علامہ وحید یونس، علامہ قاری ادریس، منوج چوہان، اویس ربانی، نازیہ علی، جمشید حسین، ریحانہ عزیز، نسرین میمن، دعا ذبیر، عباس کشمیری، فرحان علی ایڈوکیٹ، زاہد حسین ایڈوکیٹ، شاہدہ علی، نبیل حسین سمیت سول سوسائٹی کے دیگر اراکین نے خطاب کیا۔ جب کہ مولانا عباس انصاری مرحوم کے صاحبزادے سجاد انصاری نے سری نگر سے ٹیلی فون پرخطاب بھی کیا۔شرکائے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک نئے تاریخی موڑ میں داخل ہو چکا ہے جہاں کشمیری عوام کو ایک طرف بھارت کی جارحیت اور درندگی کا سامنا ہے وہاں ساتھ ساتھ عالمی سامراجی قوتوں کی جانب سے نت نئی سازشوں کا سامنا بھی ہے۔ مقررین نے کہا کہ طاقت ور ممالک کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اس سے اشارے ملتے ہیں کہ جس کا مقصد کشمیر کو تقسیم اور مسئلہ کشمیر کو سبوتاز کرنا ہے۔ مقررین کاکہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا بہانہ بنا کر کشمیری عوام کی امنگوں کے بر خلاف بھارت کے ساتھ الحاق کرانے کی کسی گھناونی سازش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی مسئلہ کشمیر پر بنائے گئے سیاہ منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مقررین نے کہا کہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا ہے چاہے وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں یا پھر آزاد خود مختار ہو جائیں، دنیا کی کسی طاقت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کریں۔ مقررین نے مزید کہا کہ فلسطین کا مسئلہ بھی فلسطینی عوام کے ہاتھ میں ہے تاہم دنیا کی کسی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ فلسطین سے متعلق کوئی فیصلہ کرے جس میں فلسطین کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہ ہو۔ مقرین نے مولانا عباس انصاری، سید علی گیلانی اشرف صحرائی اور دیگر حریت رہنماوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیری حریت رہنماوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور آنے والی نسلوں کو تاریخ ساز حریت رہنماوں سے آشنا کرتے رہیں گے

Kashmiri Hurriyat leader in collaboration with Palestine Foundation Pakistan at Arts Council of Pakistan Karachi
Conducting  condolence reference of “Maulana Abbas Ansari”.

KARACHI ( ) Kashmiri Hurriyat leader in collaboration with Palestine Foundation Pakistan in Arts Council of Pakistan Karachi Addressing the condolence reference of “Maulana Abbas Ansari”, leaders of various political and religious parties and civil society members said that the eternal sacrifices of Hurriyat leaders cannot be forgotten. Hurriyat Conference’s former chairman Maulana Abbas Ansari along with the leaders of
Hurriyat Conference in front of Sheikh Abdullah’s secularism. He guided the youth of Jammu and Kashmir in a timely manner and inculcated the Islamic society and freedom movement from Kashmir to the youth. Former members of Sindh Assembly Mahfooz Yar Khan, Major (retd) Qamar Abbas, Allama Baqir Abbas Zaidi of Majlis Wahdat Muslimeen, PTI leader Asrar Abbasi, columnist and analyst Bashir Sadouzai, Hafiz Amjad, Haider Imam, Syed from the meeting. Shahid Hussain, Allama Waheed Younis, Allama Qari Idris, Manoj Chauhan, Owais Rabbani, Nazia Ali, Jamshed Hussain, Rehana Aziz, Nasreen Memon, Dua Zabeer, Abbas Kashmiri, Farhan Ali Advocate, Zahid Hussain Advocate, Shahida Ali, Nabil Hussain including civil. Other members of the society spoke. While Sajjad Ansari, the son of the late Maulana Abbas Ansari, was also addressed on the telephone from Srinagar. Addressing the participants of the conference, speakers said that the issue of Kashmir has entered a new historical turning point where the Kashmiri people are on one side of India. Aggression and brutality are being faced, along with new conspiracies from the global imperialist forces. Speakers said that talks of mediation on Kashmir by powerful countries indicate that the aim is to divide Kashmir and sabotage the Kashmir issue. The speakers said that any heinous conspiracy to annex India against the aspirations of the Kashmiri people cannot be accepted under the pretext of mediation on the Kashmir issue. The speakers said that the people of Pakistan, political leadership, and civil society will not allow the black plans made on the Kashmir issue to succeed. The speakers said that the fate of Kashmir has to be decided by the Kashmiri people, whether they join Pakistan or become independent, no power in the world has any right to decide the fate of Kashmir. The speakers further said that the issue of Palestine is also in the hands of the Palestinian people, but no state in the world has the right to take any decision related to Palestine that does not reflect the aspirations of the Palestinian people.  Participants paid tribute to the sacrifices and struggle of Maulana Abbas Ansari, Syed Ali Geelani Ashraf Sehrai, and other Hurriyat leaders and said that the people of Pakistan will always remember the Kashmiri Hurriyat leaders and will introduce the future generations to the history-making Hurriyat leaders.


Thu, Nov 3, 2022

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کی جانب سے ہز ہائی نس سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کے 145 ویں یوم ولادت کے سلسلے میں پروقار تقریب کا انعقاد

ہز ہائی نس سلطان محمد شاہ نے تعلیم کی اہمیت کو پرکھ لیا تھا،کمشنر کراچی محمد اقبال میمن

ہز ہائی نس سلطان پہلے امام ہیں جنہوں نے اپنے تمام تر وسائل کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردیے ،سیکریٹری اعجاز فاوقی

ہزہائی سلطان محمد شاہ صفحہ اوّل کے رہنما اور قدآور شخصیت تھے، سید منہاج موسوی

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کی جانب سے ہز ہائی نس سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کے 145 ویں یوم ولادت کے سلسلے میں پروقار تقریب کا انعقاد آڈیٹوریم IIمیں کیا گیا۔ مقررین میں مہمان خصوصی کمشنر کراچی محمد اقبال میمن ، سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی ، لیکچرر پاکستان اسٹڈیز، اُردو یونیورسٹی ، سید منہاج موسوی، ڈائریکٹر کلینیکل سائنس ڈویژن ہمدرد لیبارٹریز ڈاکٹر حنان(علیگ) ، چیئرپرسن شعبہ اردو جامعہ کراچی ڈاکٹر عظمیٰ فرمان ، مشیر بروشسکی ریسرچ اکیڈمی شہناز ہنزئی، مشیر بروشسکی ریسرچ اکیڈمی اور اسسٹنٹ پروفیسر آغا خان ڈاکٹر روبینہ بارولیا اور فدائے مک شامل تھے، اس موقع پر اسماعیلی کمیونٹی نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کمشنر کراچی محمد اقبال میمن نے کہا کہ ہز ہائی نس سلطان محمد شاہ نے روز اول سے ہی تعلیم کی اہمیت کو پرکھ لیا تھا،وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلم امہ کو اقوام عالم میں امتیاز تعلیم کی وجہ سے ہی حاصل ہوسکتا ہے، انہوں نے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کی تعلیم کے لیے بھی آگاہی دی، برصغیر پاک و ہند کی خوشحالی کے لیے عظیم خدمات انجام دینے کے علاوہ عالمی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے حق کی وکالت اعلیٰ سطح پرکی۔ ہز ہائی نس سلطان پہلے امام ہیں جنہوں نے اپنے تمام تر وسائل کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردیے ہیں اور لیڈر وہی ہوتا ہے جو اپنے آگے کی سوچتا ہے، آرٹس کونسل کے سیکریٹری اعجازفاروقی نے کہا کہ ہزہائی نس سلطان محمد شاہ نے مسلم امہ کی تعلیم و ترقی کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں، ان کا پاکستان پر بہت بڑا احسان ہے، انہوں نے کہاکہ ایسی تقاریب منعقد ہونی چاہئیں تا کہ لوگوں کو ان کی جدوجہد کے بارے میں آگاہی ملے۔ ہمیں ایسی شخصیات کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ سید منہاج موسوی نے کہا کہ ہزہائی سلطان محمد شاہ صفحہ اوّل کے رہنما اور قدآور شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت کا اثر ہمیں بر صغیر پاکستان میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو منوایا۔ فدائے مک نے کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی علم بردار ادارہ ہے جو علم و ادب کے فروغ کے لئے پیش پیش ہے، اس موقع پر وادی ہنزہ کی روایتی اور صوفیانہ موسیقی نے سماں باند ھ دیا، اس موقع پر کمشنر کراچی کو روایتی تحائف سمیت گلدستہ پیش کیا اور کیک بھی کا ٹا گیا۔آخر میں داودی بینڈ نے علاقائی دھنوں پر بہترین پرفارمنس پیش کی۔ 

145th birth Anniversary of His Highness Sultan Muhammad Shah Agha Khan 3rd was organized by the Arts Council of Pakistan Karachi

His Highness Sultan Muhammad Shah had assessed the importance of education, Commissioner Karachi Muhammad Iqbal Memon

KARACHI ( ) Arts Council of Pakistan Karachi and Burushaski Research Academy organized a grand ceremony in connection with the 145th birth anniversary of His Highness Sultan Muhammad Shah Agha Khan 3rd  at Auditorium II. Among the speakers, Chief Guest Commissioner Karachi Mohammad Iqbal Memon, Secretary Arts Council Ejaz Farooqui, Lecturer Pakistan Studies, Urdu University, Syed Minhaj Mousavi, Director Clinical Science Division Hamdard Laboratories Dr. Hanan (Alig), Chairperson Department of Urdu, University of Karachi Dr. Uzma Farman, Advisor Burushaski. Research Academy Shahnaz Hanzai, Mushir Burushaski Research Academy and Assistant Professor Aga Khan Dr. Rubina Barolia and Fida-e-muk were also present on the occasion, the Ismaili community also participated in large numbers. Commissioner Karachi Muhammad Iqbal Memon said that His Highness Sultan Muhammad Shah understood the importance of education from the first day. Gave awareness not only for male but also for female education, apart from rendering great services for the prosperity of the Indian subcontinent, he also played an important role in world politics and advocated the rights of the Muslims of the subcontinent at a high level. His Highness Sultan is the first imam who has dedicated all his resources for the welfare of the community and a leader is one who thinks ahead, Arts Council Secretary Ejaz Farooqui said that His Highness Sultan Muhammad Shah He has rendered unparalleled services for the education and development of Ummah, he has done a great favor to Pakistan, he said that such events should be organized so that people can get awareness about their struggle. We should pray for such personalities. Syed Minhaj Mousavi said that His Highness Sultan Muhammad Shah was the leader of the first page and a tall figure. We can see the influence of his personality in the subcontinent of Pakistan. He entertained himself. Fidae-emuk said that the Arts Council of Pakistan Karachi is a leading institution which is in the forefront for the promotion of knowledge and literature. A bouquet was presented along with traditional gifts and a cake was also cut. In the end, Daoodi Band gave an excellent performance on regional tunes

October:

September:

Iآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا متاثرین سیلاب کی امداد کے لیے پاکستان بھر کے مصوروں اور مجسمہ سازوں کے فن پاروں پر مشتمل آرٹ ایگزیبیشن کرنے کا اعلان

فن پاروں کی فروخت سے حاصل ہونیوالی آمدنی فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہو گی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے متاثرین سیلاب کی امداد کے لیے پریس کانفرنس کا انعقادحسینہ معین ہال میں کیاگیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، نائب صدر منور سعید، سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی، ACIAC کے پرنسپل شاہد رسام اور مصور محمد ذیشا ن نے بریفنگ دی، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ پاکستان میں سیلاب کی بھیانک صورت حال ہے، دوہزار پانچ میں جب زلزلہ آیا سندھ میں سیلاب آیا تب بھی آرٹس کونسل نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا، یہ سیلاب ماضی سے زیادہ بھیانک ہے، دو کروڑ روپے آرٹس کونسل کراچی نے فلڈ ریلیف فنڈ میں فوری طور پر دیے تھے ،ٹرک بھر کر راشن کا سامان سندھ کے مختلف علاقوں میں بھیجاجارہاہے، آرٹس کونسل نے رزاق آباد کا کیمپ اپنی نگرانی میں لے لیاتھا، جہاں دو وقت کا پکا پکایا کھانا جا رہا ہے، خشک راشن آرٹس کونسل سے پیک ہو کر جا رہا ہے، انہوں نے کہاکہ ہم سندھ کے مختلف علاقوں میںبا عزت طریقے سے راشن تقسیم کررہے ہیں، مستقبل میں متاثرین کی بحالی کے لیے بھی آرٹس کونسل کام کرے گا، اس سلسلے میں کل آرٹس کونسل میں ایک منفرد آرٹ ایگزیبیشن ہونے جا رہی ہے جس میں پاکستان بھر کے معروف مجسمہ ساز اور مصوروں نے اپنی تخلیقات عطیہ کی ہیں، نمائش میں صادقین کے فن پارے بھی شامل ہیں، فن پاروں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہوگی، دو تاریخ کو ینگ نوجوانوں کے معروف سنگرز عاصم اظہر، آئمہ بیگ، ینگ اسٹنر، نتاشا بیگ سمیت مختلف گلوکار کنسرٹ کریں گے، کنسرٹ کا انعقاد کراچی جیم خانہ میں کیا جائے گا، کراچی جم خانہ کا شکر گزار ہوں کہ فری آف کاسٹ اپنا وینیو دیا ہے، انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے،ACIACکے پرنسپل شاہد رسام نے کہاکہ یہ نمائش اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ فن کاروں کے لیے پروپیگنڈہ کیا گیا کہ بے حس لوگ ہیںجبکہ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی آفت ہو فنکار اپنا بھرپور حصہ ضرور ڈالتے ہیں، فن کاروں نے اپنی ذاتی کلیکشن میں سے فن پارے دیے ہیں جو کہ کبھی ہوتا نہیں ہے، پاکستان بھر کے مختلف شہروں سے آرٹسٹ اپنے شاہکار بھیج رہے ہیں، مختلف لوگ مختلف کام کر رہے ہیں، یہ ایک منفرد نمائش ہونے جا رہی ہے، احمد پرویز آرٹ گیلری نئے انداز سے دیکھیں گے، ہم اپنا کردار ایسے ہی ادا کرتے رہے گے، مصور محمد ذیشان نے کہاکہ فنکار ہونے کے ناطے مجھے یہ احساس رہتا ہے کہ ہم بدلے میں کیا کر رہے ہیں، ہم سب مل کر ایک معاشرہ بنتے ہیں ہم معاشرے کو کیا دے رہے ہیں، اس نمائش میں ہر فنکار اپنا شاہکار نمائش کے لیے 

پیش کرے گا، نمائش سے حاصل ہونے والی امدنی فلڈ ریلیف میں جائے گی، مجھے خوشی ہے کہ میں اس کاز کا حصہ ہوں۔

Arts Council of Pakistan Karachi announced to hold an art exhibition featuring the works of painters and sculptors from all over Pakistan to help flood victims.

The proceeds from the sale of the artworks will be deposited in the flood relief fund, said Arts Council President Muhammad Ahmad Shah

KARACHI ( ) Arts Council of Pakistan karachi organized a press conference to help flood victims in Haseena Moin Hall in which President Arts Council Muhammad Ahmad Shah, Vice President Munawar Saeed, Secretary Arts Council Ijaz Ahmad Farooqui, Principal ACIAC Shahid Painter and artist Muhammad Zeeshan gave a briefing. On this occasion, the president of Arts Council Muhammad Ahmed Shah said that there is a terrible situation of floods in Pakistan. Even when there was an earthquake in Sindh in 2005, Arts Council played its full role. This flood is more terrible than the past. Two crore rupees were immediately given by the Arts Council Karachi to the flood relief fund. Trucks are being filled with rations  are being sent to different areas of Sindh. He said that we are distributing the ration in different areas of Sindh in a respectful manner. For the rehabilitation of the victims in the future. the Arts Council will also work, in this regard, a unique art exhibition is going to be held at the Arts Council  on 30th September In which renowned sculptors and painters from across Pakistan have donated their creations, the exhibition also includes works by Sadiquain. Various singers including renowned singers Asim Azhar, Aima Baig, Young Stunner, Natasha Baig will perform the concert. The concert will be held at Karachi Gymkhana. I am grateful to Karachi Gymkhana for giving Free of Cast its venue, he said that the commissioner Karachi  is also in touch with us and law enforcement agencies also to make security foolproof, ACIAC principal Shahid Rasam said the exhibition is also very important because it has been propagated for artists to be heartless  people while History is a witness that there is any calamity artists contribute their best, artists have given artworks from their personal collection which never happens, artists from different cities across Pakistan are sending their masterpieces, different people. doing different works, this is going to be a unique exhibition, Ahmad Pervez Art Gallery will see in a new way, we will play our role Painter Muhammad Zeeshan said that being an artist I feel what we are doing in return, we all become a society together, what we are giving to the society , the proceeds from the exhibition will go to flood relief, I am glad to be a part of this cause. Art and sculpture exhibition will be held at Ahmed Pervaz Art gallery at 5 pm 

Press Release, Updates and Schedules 2022 , Arts Council of Pakistan Karachi

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تیسری وومن کانفرنس کا اختتام ”خواتین عالمی مشاعرہ“ پر کیاگیا

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز بختاور مظہر نے صباحت زہرا کی تحریر ”چپہ بھر آسمان“ پر ڈرامائی پرفارمنس دی جبکہ معروف اداکار و گلوکارہ کیف غزنوی کی لائیو میوزک پرفارمنس پر شائقین جھومتے رہے ،تیسری وومن کانفرنس کا اختتام ”خواتین عالمی مشاعرہ“ پر کیاگیا، جس کی صدارت شاہدہ حسن جبکہ نظامت کے فرائض عنبرین حسیب عنبر نے کی، مشاعرے میں شریک معروف شاعرہ عشرت آفرین، فاطمہ حسن، تنویر انجم، حمیرا رحمن، رخسانہ صبا، ناصرہ زبیری اور حمیرا راحت نے مشاعرے میں اپنا کلام پیش کیا۔ آن لائن مشاعرہ پڑھنے والوں میں شاہدہ حسن، یاسمین حمید، ڈاکٹر نصرت مہدی،ڈاکٹر ثروت زہرہ،نسیم سید،پرویز جعفری اور حمیدہ شاہین شامل تھیں،مشاعرے میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے ”خواتین عالمی مشاعرہ“ کو سراہا اور اور شاعرات کو ان کا کلام پیش کرنے پر تالیاں بجا کر خوب داد پیش کی۔

Arts Council of Pakistan Karachi concludes 3rd Women’s Conference on “Khawateen Ka Aalmi Mushaira”

Karachi () On the last day of the 3rd Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi, Bakhtawar Mazhar gave a dramatic performance on Sabahat Zahra’s writing “Chapa Bhar Asaman” Audiences flocked to the live music performances of renowned actor and singer Kaif Ghaznavi. The 3rd Women’s Conference concluded with “Khawateen Ka Aalmi Mushaira”, which was presided over by Shahida Hassan and directed by Umbereen Haseeb Anbar. , Fatima Hassan, Tanveer Anjum, Humaira Rehman, Rukhsana Saba, Nasira Zubair and Humaira Rahat presented their speeches in the poetry. Shahida Hassan, Yasmeen Hameed, Dr. Nusrat Mehdi, Dr. Sarwat Zahra, Naseem Syed, Pervaiz Jafari and Hamida Shaheen were among the participants in the online poetry recital.

On the last day of the 3rd Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi, a session on “Role of Women in Creative Media” was held.

To compete with the world, modern trends have to be adopted in dramas, says actress Sania Saeed

Karachi () Arts Council of Pakistan Karachi held a session on the topic of “Role of Women in Creative Media” on the last day of the 3rd 3rd Women’s Conference in Karachi. Sultana Siddiqui said that many times I am scared to face PEMRA, many times I have to face appearances. Today there are 21 dramas a week. When there are too many dramas, some of them will be good and some of them will be mediocre. Yes, incidents of child abuse are broadcast on news channels. Such dramas are banned. Actress Sania Saeed said that it is necessary to talk about stereotypes for many conversations. She said that today there are five dramas, so the script is a bit like that; it takes time to write a good script, there is no tendency to write together in Pakistan, we have to adopt modern trends to compete with the world in dramas. Bee Gul said that When we started, no one took it seriously. We started with TV Telefilm Festival. When we got the award for the first script, my mother said it was not good. I thought that getting the award is very easy. Later It turned out that it was not so easy, I am not writing any fiction, the whole team had to be on one page, they tried to block my way, I did not stop, the series continued and came here. Sabiha Samar while talking said that if you are an engineer or a doctor, you get training. People used to come from outside and give training in Pakistan Television. Film-making is a very serious profession.

Session on “CRIMINAL JUSTICE SYSTEM” held on last day of 3rd Women’s Conference at Arts Council of Pakistan Karachi

Karachi () On the last day of the two-day Third Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi, a session “CRIMINAL JUSTICE SYSTEM” was held in which IG Sindh Ghulam Nabi Memon, Sara Malkani, Zahida Parveen, and Asiya Munir were participated. While Zahra Sehar Viani performed the duties of director. On this occasion, IG Sindh Ghulam Nabi Memon said that our gender discrimination has come in the whole society due to which we are facing problems. That is why we have set a quota for women in the police. Want to give more opportunities to come forward, at first it seemed to me that there is no scope for lady police in the police department, there is a young lady police SP sitting with me, the department is acknowledging. At the occasion Sara Malkani said that “We try to help bring justice to women and children who are victims of domestic violence, sexual violence, and gender-based violence. Special laws have been enacted in Sindh against domestic violence, but the most important thing is to enforce it,” she said. Yes, our criminal justice system includes courts, law enforcement agencies including lawyers, but even today we face many problems in registering our complaints in a police station and if a complaint is registered then investigation There are many flaws in it. Proper investigation is very important. It has been generally observed that when women and girls who are victims of domestic violence need help to save themselves, the police are not there immediately. The police will have to be active to reduce such incidents. Expressing her views, SP Saddar Zahida Parveen said that women victims of domestic violence rarely resort to FIRs. There will be about 10 women in a year who fight against oppression. We need to run an awareness campaign among women. IG Sindh has posted gender-based investigation officers in every police station which is a good move. Sindh Police is working hard to bring justice against the oppression of women. The positive results of which will soon be in front of you. Lawyer Asiya Munir said that even after receiving evidence of sexual and domestic violence, we are not given a proper report. Even if the girls come to testify in court, they are threatened with gestures. Now, these kinds of problems have been largely overcome because of civil society, I have been threatened with death, my husband’s office has been burnt down, but I have not withdrawn my cases. Yes and this passion will last till death.


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز سیشن ”ورکنگ وومن: وومن لیبر اینڈ اکنامک ایمپاورمنٹ ایشو“سے کیا گیا

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز سیشن “ورکنگ وومن: وومن لیبر اینڈ اکنامک ایمپاورمنٹ ایشو” سے ہوا، جس میں سیکریٹری لیبر لئیق احمد خان، فرحت پروین، بشریٰ آرائیں ،زہرا اکبر خان اور سبھاگھی بھیل شریک ہوئیں جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر کرامت علی نے انجام دیے، سیکریٹری لیبر لیئق احمد خان نے کہاکہ گھر میں ایک خاتون جتنا کام کرتی ہے مرد اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ہمیں خواتین کو برابری کی سطح پر لانا ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی جدوجہد میں سندھ حکومت آپ کے ساتھ ہے مشترکہ جدوجہد سے معاشرے میں تبدیلی آسکتی ہے ہم اکٹھے ہیں تو ایک طاقت ہیں آپ کی جدوجہد جاری رہنا چاہیے، انہوں نے کہاکہ آج اتنی بڑی تعداد میں خواتین اپنے حقوق کے حصول کے لیے یہاں موجود ہیں جو خوش آئند ہے، ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانا ہے تاکہ اچھی تعلیم کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جاسکے۔ فرحت پروین نے کہاکہ جب آپ بوڑھے ہوجائیں اور کام نہ کرپائیں تو ا ±س وقت آپ کو ایک سماجی تحفظ حاصل ہو ، علاج اور آپ کے بچوں کی تعلیم ہو، خواتین کی بات کی جائے تو خواتین کا تشدد سے بھی تحفظ ہو اور ہراساں کئے جانے سے بھی تحفظ ضروری ہے، بشریٰ آرائیں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس سماج ،معاشرے،فیلڈ ،آفس اور اپنے گھر میں عزت چاہیے تھی جو ہم نے حاصل کرلی ہے، پولیو اور کرونا میں جب لیڈی ہیلتھ ورکر گھروں کے دروازے پر جاتی تھیں تو اسے دھکے اور گالیاں دے کر دھتکار دیا جاتا تھا، آج خود انہیں عزت دی جاتی ہے جو بڑی کامیابی ہے، زہرا اکبر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں مل کر جدوجہد کرنی ہوگی، ہم جتنا کام کرتے ہیں اتنی اُجرت نہیں ملتی، ہاری خاتون کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، انہوں نے کہاکہ صنفی اور معاشی آزادی کے لیے اپنی آواز کو آگے بڑھانا ہوگا، سبھاگھی بھیل نے کہاکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں، معاشرے میں عورت کا پڑھا لکھا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ تشکیل پاسکے ۔

The second day of the 3rd Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi started with the session “Working Women: Women Labor and Economic Empowerment Issue”.

Karachi () The second day of the third two-day Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi started with the session “Working Women: Women Labor and Economic Empowerment Issue”. Secretary Labor Liaq Ahmed Khan, Zehra Akbar Khan, Bushra Arain, Farhat Parveen and Sabhaghi Bheel participated while Dr. Karamat Ali performed the duties of director. Secretary Labor Liaq Ahmed Khan said that a man cannot imagine working as much as a woman at home; we have to bring women on equal footing. “I assure you that the Sindh government is with you in your struggle. The joint struggle can bring change in the society. We are a force if we are united. Your struggle should continue,” He said. To achieve what is welcome here, we need to further improve our education system so that women can be economically empowered through good education. Farhat Parveen said that when you are old and unable to work, then you have social protection, treatment, and education of your children, when it comes to women, women are also protected from violence and harassment. “We need respect in the society, in the field, in the office, and in our home that we have gained, in Polio and Corona when the Lady Health Worker is at the doorstep,” She said. If she had gone, she would have been pushed and abused. Today, she is being honored, which is a great achievement. Zahra Akbar Khan, while talking, said that we have to struggle together. The woman is paid less than the man, she said, adding that for gender and economic freedom, her voice must be heard. Sabhaghi Bheel said that the government should take steps to empower women. It is important to be educated so that an educated society can be formed.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز ”VIOLENCE AND HARASSMENT“کے عنوان پر مبنی سیشن کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز ”VIOLENCE AND HARASSMENT“پر سیشن کا انعقاد آڈیٹوریم I میں کیاگیا، جس میں امر سندھو، شیماکرمانی، نزہت شیریں، پروین رند نے عورتوں پر ہونے والے تشدد اور ہراساں کرنے سے متعلق اظہارِ کیا، اس موقع پر امبر سندھو نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جو عورتیں اپنا گھر بچانے کے لیے تشدد سہتی ہیں وہ نہ خود کو بچاپاتی ہیں اور نہ اپنے گھر کو،افغانستان اور عراق سے زیادہ پاکستان میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے عورت کا اپنے شوہر، بھائی اور دیور اس کے قاتل ہیں، عورت کسی نہ کسی طرح تشدد کا شکار ہے، ایف آئی آر درج ہونے سے مجرم کی نشاندہی ہورہی ہے مگر ملزمان کا فیصلہ آنے میں 10سال لگ جاتے ہیں ہمیں اپنے جوڈیشری نظام کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ اس کیس میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد سزا مل سکے، شیما کرمانی نے کہاکہ تشدد صرف جسمانی ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی اقسام ہیں جس میں عورت کو اجازت نہیں ملتی جو عورت کا حق ہونا چاہیے، ہمارے معاشرے میں سوشل دباﺅ اور جو سسٹم ہے وہ ہمیں اجازت نہیں دیتے کہ ہم ان کے خلاف کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ عورت مارچ میں ہماری آواز کی ریکارڈنگ تبدیل کردی جاتی ہے یہ بھی ذہنی تشدد ہے، ہراسمنٹ کرنے والا ایک ملزم ہے ہمیں تشدد اور ہراس کرنے والوں کو سامنے لانا ہوگا روزانہ دو سے تین عورتیں اپنی عزت کھو بیٹھتی ہیں ایک سال میں 540عورتیں ریپ کا شکار ہوئیں اور ملزم اب تک آزاد گھوم رہے ہیں۔ نزہت شیریں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئی عورتوں کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا، عورتوں کو اپنے حقوق کے لیے کہاں جانا ہے پتا ہی نہیں، وومن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ہم تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ بہتر نتائج سامنے آسکیں، انہوں نے کہاکہ وومن یونیورسٹیز سے مرد وائس چانسلر کو ہٹاکر خواتین کو تعینات کیا جائے ، انہوں نے کہاکہ کئی کیسز ایسے ہیں جن کے چالان ہی جمع نہیں ہوتے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ عورت کو کس طرح مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکے، تشدد اور ہراسمنٹ کی شکار پروین رند نے کہاکہ ہم طالبات خودکشی نہیں کرتیں، ہمیں ہراسمنٹ پر مجبور کیا جاتا ہے، ڈر کے مارے ہم اپنی تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، بلیک میل اور ہراسمنٹ کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں، مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں میں ایپرل کی صورت میں کفن پہن کر گھر سے نکلتی ہوں، خواتین کو اپنے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ آخر میں امر سندھو نے پروین رند کو اس ظلم اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر سلام پیش کیا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ معرو ف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے پروین رند کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے ذمے لی ، ہال میں موجود تمام خواتین نے ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں کے حق میں کھڑے ہوکر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

On the last day of the 3rd Women’s Conference held in Arts Council of Pakistan Karachi, a session was held on the theme “VIOLENCE AND HARASSMENT”.

Karachi () Arts Council of Pakistan held a session on “VIOLENCE AND HARASSMENT” at Auditorium I on the last day of the two-day 3rd Women’s Conference in Karachi. Speaking on the issue of harassment, Amar Sindhu said that women who are subjected to violence to save their homes do not protect themselves or their homes in Pakistan more than in Afghanistan and Iraq. The death toll is high. The woman’s husband, brother, and brother-in-law are her killers. The woman is a victim of some form of violence. We need to improve our judicial system so that the culprits involved in this case can be punished as soon as possible, “said Sheema Kirmani. Of course, the social pressures and systems in our society do not allow us to stand against them. “Our voice recordings are changed in March. This is also mental violence. The harasser is an accused. We have to bring the perpetrators of violence and harassment to light. Every day two to three women lose their dignity. 540 women in a year.” She was raped and the accused are still at large. Nuzhat Shireen said that “No one can see women moving forward, women don’t know where to go for their rights, the women’s development department needs to be further improved, we are working with all the institutions,” she said. She said that the male vice-chancellor should be removed from women’s universities and women should be appointed. She said that there are many cases where challans are not collected. We need to think about how to empower women so that they can stand up for their rights, said Parveen Rind, a victim of violence and harassment said that I am unable to get an education, blackmailers and harassers are roaming free, I am threatened with death. In the end, Amar Sindhu saluted Parveen Rind for raising her voice against this oppression and violence and assured her full cooperation while renowned poet Dr. Fatima Hassan took the responsibility of Parveen Rind’s education in the hall. All the women stood in favor of the oppressed women and observed a minute of silence.

The second day of the 3rd Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi started with the session “Working Women: Women Labor and Economic Empowerment Issue”.

Karachi () The second day of the third two-day Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi started with the session “Working Women: Women Labor and Economic Empowerment Issue”. Secretary Labor Liaq Ahmed Khan, Zehra Akbar Khan, Bushra Arain, Farhat Parveen and Sabhaghi Bheel participated while Dr. Karamat Ali performed the duties of director. Secretary Labor Liaq Ahmed Khan said that a man cannot imagine working as much as a woman at home; we have to bring women on equal footing. “I assure you that the Sindh government is with you in your struggle. The joint struggle can bring change in the society. We are a force if we are united. Your struggle should continue,” He said. To achieve what is welcome here, we need to further improve our education system so that women can be economically empowered through good education. Farhat Parveen said that when you are old and unable to work, then you have social protection, treatment, and education of your children, when it comes to women, women are also protected from violence and harassment. “We need respect in the society, in the field, in the office, and in our home that we have gained, in Polio and Corona when the Lady Health Worker is at the doorstep,” She said. If she had gone, she would have been pushed and abused. Today, she is being honored, which is a great achievement. Zahra Akbar Khan, while talking, said that we have to struggle together. The woman is paid less than the man, she said, adding that for gender and economic freedom, her voice must be heard. Sabhaghi Bheel said that the government should take steps to empower women. It is important to be educated so that an educated society can be formed.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز “Digital Media Activist”کے عنوان پر مبنی سیشن کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے آخری روز “Digital Media Activist”پر نشست کا اہتمام کیاگیا جس میں محمد معیز، صحافی ماہیم مہر، قرت مرزا، ہدیٰ بھرگری نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض آفرین سحر نے انجام دیے، محمد معیز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی طلاقیں، شادیاں اور نکاح فیس بک پر ہوجاتے ہیں،ایکٹیوزم کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی پالیسی میں بھی بہت ہورہا ہے،امریکہ کی ٹرانسجینٹر نے مزے کی کتاب لکھی ہے،پاکستان کے لوگ اچھے ، اسمارٹ اور بے وقوف بھی ہیں،ہم پاکستانیوں کو شاعری بہت پسند ہے،ہم لوگ جگت باز ہیں ہمیں کامیڈی بہت پسند ہے ۔ صحافی ماہیم مہر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سماءڈجیٹل کو 18 سے 25 سال کی عمر تک کے لوگ دیکھتے تھے،ایک مذاق تھا کہ اگر لائیکس چاہیے ہیں تو ریپ کا لفظ کانٹینٹ میں ڈال دو،اپنے فونز اور فیسز کو پبلک کیا جاتا ہے،مدارس میں جاکر طلبہ کو ٹوئٹر استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے، ڈومیسائل کے مسئلے کو ٹوئٹر مہم کے ذریعے حل کیا گیا یہ سوشل میڈیا کی پاور ہے، قرت مرزانے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عورت مارچ میں لوگ نکلے ہیں اور بیانیہ یہی مارچ تبدیل کرے گا،ردعمل کی بات کریں تو جب آپ پتھر مارتے ہیں پانی میں تو لہریں بتاتی ہیں کہ پتھر کاوزن کتنا تھا ،منزل تو ابھی دور ہے، ہمارے لیے گالی اور تالی دونوں تمغہ ہیں۔ ہدیٰ بھرگری نے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سوشل میڈیا استعمال کرنے پر سیکورٹی کے ایشوز کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ ہم کسی بڑی پریشان سے بچ سکیں۔

Arts Council of Pakistan Karachi hosts session on “Digital Media Activist” on last day of 3rd Women’s Conference

Karachi () the last day of the third two-day Women’s Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi
 A session was organized on “Digital Media Activist” in which Mohammad Moeez, journalist Mahim Mehr, Qurat Mirza, Huda Bhargari spoke while Aafreen Sehar performed the duties of director. Mohammad Moeez while expressing his views said that people Divorce, marriages, and marriages are happening on Facebook, activism, as well as security policy, is happening a lot, Pakistani people are good, smart, and foolish, we Pakistanis We love comedy. Journalist Mahim Mehr said that people between the ages of 18 and 25 used to watch SmaajDigital. Students are taught to use Twitter by going to madrassas. The issue of domicile has been solved through a Twitter campaign. This is the power of social media. Speaking to the session Qurat Mirza said that when you hit a stone in the water, the waves tell you how much the stone causation was, the destination is still far away, for us both abuse and applause are medals. Speaking online, Huda Bhargari said that we have to keep in mind the security issues while using social media so that we can avoid any major trouble.


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ تیسری وومن کانفرنس میں دوسرے سیشن ” GENDER INQUALITY“پرگفتگو

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دو روزہ تیسری وومن کانفرنس میں دوسرے سیشن ” GENDER INQUALITY“پر مہناز رحمن، انیس ہارون، عظمیٰ نورانی اور ہانی بلوچ نے گفتگو کی جبکہ نظامت کے فرائض عظمیٰ الکریم نے انجام دیئے۔ اس موقع پر مہناز رحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے معاشرے میں خود غرضی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے، یہاں طبقاتی نظام ہے، ضروری نہیں کہ اس میں عورتوں کو ہی دبایا جائے بلکہ مردوں میں مزدور طبقہ بھی اس کا شکار ہے، موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے مردوں کو خواتین کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا پڑے گا، اگر عورت باہر جاکر کام کررہی ہے تو مرد کو بھی چاہیے کہ گھر کے کام کاج میں عورت کا ہاتھ بٹائے،انیس ہارون نے کہاکہ ہم عورتیں بہت عاجزی اور کسمپرسی سے کام لیتی ہیں، صبر، گھر گھرستی، بچوں کی تخلیق، دکھ، سکھ ہرچیز کو عورت برداشت کرتی ہے جتنی قوت عورتو ںمیں ہوتی ہے وہ مردوں میں نہیں ہوتی، ہم یہ نہیں کہتے کہ برتر ہیں کم از کم برابری کی سطح پر عورت کو قبول کیا جانا چاہیے، دونوں گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں، آج کے دور میں یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم یہ ابھی تک سمجھ نہیں پائے ہیں کہ عورت کی عزت اور اہمیت کتنی ہے، ہمیں عورتوں کے حقوق کو سمجھنا ہوگا ،عظمیٰ نورانی نے کہاکہ ہمارا آئین تفریق کے خلاف ہے، عورتوں اور مردوں کے درمیان تفریق عورتوں کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جب تک اسے دور نہیں کیا جائے گا کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، ہمارے معاشرے میں بیٹی کی بہ نسبت بیٹا پیدا ہونے پر زیادہ خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، عورت کو گھر کی ماسی سمجھا جاتا ہے، ہمارے ہاں بچیوں کو تعلیم سے روک دیا جاتا ہے ، ہانی بلوچ نے کہاکہ ہم عورتوںمسائل کے ساتھ ساتھ اگر حل کی تدابیر بھی طرف جائیں تو بہت فائدہ ہوگا، دراصل مرد عورت کو ایک چیز کی طرح سمجھتا ہے ،ہمیں سوشل انسٹیٹیوٹ کے ذریعے لوگوں کو آگاہی فراہم کرنی ہوگی تاکہ پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل پاسکے۔

Arts Council of Pakistan Karachi has kicked off its colorful two days 3rd women conference.

 3rd Women’s Conference was inaugurated with a great drum circle performance by the students of the Music Academy.

 We bring the bright face of Pakistan to the world but unfortunately, this bright face cannot be bright until half of the population of Pakistan has full rights, says Arts Council, President Muhammad Ahmad Shah

 A society based on the dead bodies of girls cannot develop, says Noorul Huda Shah

KARACHI – Arts Council of Pakistan (ACP) Karachi has kicked off its colorful two-day 3rd Women’s Conference. President Arts Council Muhammad Ahmed Shah, Zubaida Mustafa, Sultana Siddiqui, Fatima Hassan, Anis Haroon, Noorul Hadi Shah, Qudsia Akbar, Mehnaz Rehman, Prof. Ijaz Farooqi, and others participated while Dr. Huma Mir performed the duties of director. On the first day of the conference, sessions on gender discrimination, women’s health, theater, and musical performances were presented. Speaking on the occasion, Arts Council President Muhammad Ahmad Shah said that we bring the bright face of Pakistan before the world but unfortunately this bright face cannot be bright until half of the population of Pakistan has full rights. He said that a woman was a producer in TV and now she owns the biggest channel in Pakistan with her hard work. This is a success. Greetings to you, the work you have done for the betterment of women and society is commendable, the women before us today are a success story, Sultana Siddiqui said congratulating Ahmad Shah on holding this conference. “Yes, the only institutions that thrive are the ones that move forward with the times. Now the way the programs are being held at the Arts Council is commendable,” she said. Nothing can happen until. “A society cannot develop at home where women are not economically strong. Mind training is desperately needed,” she said. Zubeida Mustafa in her keynote address said that Arts Council for Women’s Rights has been organizing this event for three years now and Ahmad Shah deserves congratulations for this initiative. Increasingly, extremism has intensified in our country. Such measures are essential for the response to extremism. We hope that something is happening to us. The door is now open for women. “Women are also flying vans. The progress that has been made should be seen,” she said. “We are still far behind in the field of education. Women are still being deprived of the jewels of education. Mehnaz Rehman said that this women’s conference was a surprise attack by Ahmad Shah. I congratulate the Arts Council for organizing this wonderful conference. No country can develop unless its women are empowered. Poetess Fatima Hassan said that Ahmad Shah has put a lot of responsibilities on me, I am basically a poet, today I will only do poetry, and he recited his poems to the audience. Well-known writer Noorul Huda Shah said that society which is based on the corpses of girls cannot develop. Women are killed and working women are making bricks. These bricks are used to build our houses. Sadiqa Salahuddin said I belong to the field of education, I see girls they want to be something, girls are not allowed to fulfill their dreams, they are not given the right to choose a spouse. The girls who are under the siege of education from all sides are confident; the future of our daughters is bright, by the university. Seventy-five percent of Achi are girls, girls are now doctors, flying planes said Aijaz Farooqi, if men and women work together then the economy will also develop, all that is needed is to change the ideology said Qudsia Akbar.

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے پہلے روز ”WOMEN’S HEALTH: Physical, Mental“پر سیشن کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دو روزہ تیسری وومن کانفرنس کے پہلے روز ”WOMEN’S HEALTH: Physical, Mental“پر تیسرے سیشن کا انعقاد کیاگیا جس میں صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو، ڈاکٹر عائشہ میاں، ڈاکٹر ہما حسن، ڈاکٹر روبینہ حسین اور حنا امبرین طارق نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض کوثر ایس خان نے انجام دیے۔ صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے کہاکہ ہمیں اپنے سسٹم کو بدلنے کی ضرورت ہے، عورت اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتی جو کہ تشویش ناک بات ہے، ہمیں تمام مسائل کا مل کر حل نکالنا ہوگا جس میں خاندانی منصوبہ بندی سب سے اہم ہے، کمپلین مڈوائف کا سسٹم بنادیا ہے، ہمیں پریشر کو کم کرنا ہوگا، اپنے سسٹم کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، ڈاکٹر عائشہ میاں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگاکہ مریض کے ساتھ کیا مسائل ہیں جس میں خاندانی ہسٹری کو بھی سامنے رکھنا چاہیے، انہوں نے کہاکہ ہم مینٹل ہیلتھ کو ہیلتھ کا حصہ ہی نہیں سمجھتے اگر عورت پیٹ سے ہے تو اس کے آس پاس خوب صورت بچوں کی تصاویر رکھ دی جاتی ہیں بچے کی پیدائش کے دوران ہمیں دماغی طور پر عورت کو خوش رکھنا چاہیے کسی بھی قسم کی دماغی پریشانی ماں اور بچے دونوں کے لیے نقصان دے ثابت ہوسکتی ہے، فیملی فزیشن حنا امبرین طارق نے کہاکہ پاکستان میں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ فیملی میڈیسن کیا ہے ، فیملی فزیشن مریض کا کاونسلر ہوتا ہے، وہ ہر لیول پر مرض کی کاونسلنگ کرتا ہے اگر اسے کوئی مرض ہے یا وہ ڈپریشن کا شکار ہے تو کاﺅنسلنگ سے ہی پتا چلتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، آج کی خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے لیے فیملی میڈیسن کی بجائے انجکشن لگوانے پر انحصار کرتی ہیں ،ڈاکٹر ہما حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عورتیں خود پر توجہ دینا ہی نہیں چاہتیں وہ بچوں میں الجھ چکی ہیں، آج کے دور میں عورت کو پتا ہی نہیں کہ معاشرہ کتنا ترقی کرچکا ہے، خواتین کو اپنے دل کی بات شیئر کرنی چاہیے کونسلنگ کی ضرورت ہے جہاں کسی قسم کی شرم اور جھجھک نہیں ہونی چاہیے، ڈاکٹر روبینہ حسین نے کہاکہ آج بھی عورت ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اس پر ہونے والے ظلم و ستم سامنے نہیں آپاتے، اسلام نے عورتوں کے لیے بہت آسانیاں رکھی ہیں خواتین کو اپنی طاقت کا اندازہ کرنا ہوگا ۔

آرٹس کونسل میں جاری تیسری وومن کانفرنس کے پہلے روز کا اختتام موسیقی،کلاسیکل ڈانسز اور تھیٹر پرفارمنس پر ہوا

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دو روزہ تیسری وومن کانفرنس میں ثمینہ نذیر کا تھیٹر”دریچہ“ پیش کیا گیا، میوزک اکیڈمی کی طالبات نے پڑھنت کی، کلاسیکل ڈانسر فرح یاسمین شیخ اور زاشانے ملک نے زبردست کتھک ڈانس پیش کرکے خوب داد وصول کی جبکہ جون ایلیائ لان میں ACMA the Band نے احسن باری کے ساتھ محفل میں خوب رنگ جمایا، لان میں موجود شائقین زبردست میوزیکل پرفارمنس پر جھومتے رہے ACMA the Band