October 21, 2020

Arts Council of Pakistan Karachi

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی‎

2020 :Press Release


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام بزم اساتذہ اردو سندھ کا آٹھواں یوم تاسیس منایا گیا

کراچی ( ) آصف فرخی نے شعروادب کی دنیا پہ اور معاشرے پہ جو تاثر چھوڑا ہے وہ بے مثال ہے ، وہ بہت عمدہ افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ نقاد بھی تھے ۔ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ان کا بہت بڑا کردار رہا ،ان خیالات کا اظہار صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ” بزم اساتذہ اردو سندھ “ کے آٹھویں یومِ تاسیس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ آصف فرخی بہت جلدی چلے گئے ،میرا ان سے 40سال پرانا تعلق تھا ۔آصف فرخی کی کہانیاں انگریزی میں دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوئیں ۔وہ بہت اچھے اُستاد بھی تھے ۔ ان کا دنیا سے چلے جانا میرے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں ۔ محفل کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ یوم تاسیس پر کوشش ہم یہی کرتے ہیں کہ کچھ ایسی سرگرمیاں ہو جس سے کچھ سیکھنے کا عمل ہو اور کوشش کرکے نئے لوگوں کو بلاتے ہیں تاکہ وہ آئیں اور تجربے کو سیکھیں اور اپنے اندر ایک چنگاری کو بیدار کریں یہی مقصد ہوتا ہے ۔ جن شخصیات کے بارے میں آج گفتگو کی گئی اُن میں سے ہر ایک شخصیت سے میرے بہت پرانے تعلقات ہیں۔میں آرٹس کونسل اور احمد شاہ کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے ہمیشہ اساتذہ کے لئے جو کام کئے اور کر رہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں ۔ بزم اساتذہ اردو سندھ کے صدر سید اسجد بخاری نے جو یہ محفل سجائی ہے اس کی بہت ضرورت تھی۔تقریب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا کہ بزم اساتذہ اردو سندھ کا یہ آٹھواں یومِ تاسیس ہے ۔ بزم اساتذہ اردو سندھ اعلیٰ ثانوی مدارس سے جامعات تک اساتذہ اردو کے حوالے سے کام کرتی ہے جس کا بنیادی مقصد فروغِ اردو کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے کو بہتر بنانا ہے ۔ اس موقع پر بزم اساتذہ اردو سندھ کے صدر سید اسجد بخاری اور محفلِ صدر ڈاکٹر ظفر اقبال نے اساتذہ کو ایوارڈ پیش کیے۔ اساتذہ میں شازیہ ظہور، صفدر علی خان انشاء،پروفیسر نجمی حسن اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نظم و اشعار بھی پڑھ کر سنائے ۔


کراچی آرٹس کونسل میں معروف سماجی رہنما اقبال علوی کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد
مظلوم انسانیت اور معاشرتی انصاف کے حصول کے لئے تاحیات جدوجہد جاری رہے گی ، سماجی رہنما اقبال علوی

کراچی ( ) جب تک آپ کے دل میں خلوص نہیں ہوگا آپ کی زبان میں اثر نہیں ہوگا اور جب زبان میں اثر ہوگا تو آپ کا مشن آگے بڑھے گا اور یہی تجربہ ہم نے گزشتہ 60 سالوں میں کیا اورآپ نے دیکھا کہ کس طرح ترقی پسند تحریک آگے بڑھی۔ان خیالات کا اظہار اقبال علوی نے آرٹس کونسل آف پاکستان میں اپنے اعزاز میں اعتراف خدمت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اقبال علوی نے کہاکہ میری خوشی قسمتی ہے کہ میری زندگی کے آخری سالوں میں تقریب پذیرائی میرے لیے منعقد کی۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ اقبال علوی ہر انسان کے د ±کھ درد میں شامل رہتے ہیں، ارتقائ کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اقبال علوی جیسے لوگ اسٹیج پر کم اور پس پردہ زیادہ کام کرتے نظر آتے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اقبال علوی کی تمام زندگی سماجی و سیاسی کاموںمیں گزری انہوں نے بڑے خلوص کیساتھ یہ سارے کام انجام دیے ۔ منظور رضی نے کہاکہ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ زندگی میں ہی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروںکو وہ پذیرائی مل رہی ہے جن کہ وہ حق دار ہیں۔کرامت علی نے کہاکہ اقبال علوی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمت کبھی نہیں ہارنی چاہیے، ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا جو کام آپ صحیح سمجھتے ہیں ا ±سے آپ ہر حال میں جاری رکھیں۔ سلیم شیخ نے کہاکہ اقبال علوی صاحب ایک نظریاتی آدمی ہیں اور آج تک سماجیت کے نظریہ پر قائم ہیں، ا ±ن کی سوچ ہمیشہ اس معاشرے کے لوگ جو ظلم کی چکی میں پسے ہوئے تھے ان کے لیے تھی، ان کی 70سالہ زندگی کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر مرزا علی حیدر نے کہاکہ اقبال علوی نے جو سماجی خدمات اپنی زندگی میں دکھائی ہیں ہم اس سے بے حد متاثر ہوئے اور زندگی کے اس حصہ میں بھی کسی نہ کسی روپ میں ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں اور مستقل جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔ پروفیسر انیس زیدی نے کہاکہ اختلاف ہمیشہ زندہ انسان میں ہوتے ہیں اور اختلاف انسانی زندگی میں آگے بڑھنے کی علامت ہے، آج بھی ہم اقبال علوی کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آج بھی ہم پیچھے ہیں، یہ وہ انسان ہیں جنہوں نے ترقی پسند انسان دوستی پر لوگوں کو آمادہ کیااور آج بھی ان کا یہ پیغام جاری ہے، ارتقاءتنظیم کی صدر ڈاکٹر ہما غفار نے کہاکہ آج بھی اقبال علوی کے چاہنے والے بہت ہیں، شہر میں علمی، ادبی پروگرام، کانفرنسز ہوں یا جلسے جلسوس ہم انہیں اپنے درمیان پاتے ہیں۔تقریب میں عثمان بلوچ،اختر حسین ایڈووکیٹ ،ڈاکٹر ٹیپو سلطان ودیگر نے بھی خطاب کیا،تقریب کے آخر میں ڈاکٹر اقبال علوی کو شیلڈ دی گئی جبکہ سندھ کا روایتی تحفہ اجرک بھی پیش کیاگیا۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ادیب و شاعر امجد اسلام امجد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب کا اہتمام 
ہم نے مغرب کی پیروی کرتے ہوئے اپنی اقدار کھو دیں،نئی نسل کا اردو زبان سے رشتہ بنائے رکھنے کے
لئے کوششیں کرنا ہونگی، امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد جیسے لوگ ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کرنا ہم سب کا فرض ہے ، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) کسی بھی قسم کی مصروفیت مجھے شاعری سے کبھی دور نہ کرسکی ۔جب ٹی وی کے لئے لکھتا تھا تب بھی شاعری کی کتابیں لکھتا رہتا تھا ۔ ہم نے مغرب کی تقلید کرتے ہوئے اپنی اقدار کھو دیں۔ کوشش ہے کہ آنے والی نسل کا اردو سے رشتہ بنا رہے، ان خیالات کا اظہار معروف ادیب و شاعر امجد اسلام امجد نے کراچی آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز میں رکھی گئی تقریب میں کیا۔امجد اسلام امجد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کراچی آرٹس کونسل نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب کا انعقاد کراچی آرٹس کونسل میں کیا ، تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے ادا کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امجد اسلام امجد نے کہا کہ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اردو میں اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے ۔بچوں کو سکھایا جارہا ہے کہ ترقی صرف انگریزی زبان میں ہی کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہماری فلم انڈسٹری کو کبھی انڈسٹری کا درجہ دیا ہی نہیں گیا ۔امجد اسلام امجد نے اپنی مشہور غزلیں اور نظمیں سنا کر محفل کو چار چاند لگا دیئے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ امجد اسلام امجد جیسے لوگ روشنی کا مینار ہیں یہ جب بھی آتے ہیں ہمیں سیراب کرکے جاتے ہیں ۔ایسی ادبی شخصیات کی پذیرائی کرنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔ آرٹس کونسل کی یہ روایت رہی کہ ایسی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقاریب کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مزید کہا کہ خوش قسمتی ہے کہ امجد اسلام امجد ہماری دعوت پر آئے ۔بہت دنوں بعد عمدہ شاعری سننے کو ملی۔تقریب میں نامور فنکاروں منور سعید، طلعت حسین، معروف مصنفہ حسینہ معین سمیت دیگر مشہور شخصیات نے شرکت کی ۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ”کراچی تھیٹر فیسٹیول 2020 “ کا تیسرا روز

کراچی ( ) نوجوان ہدایت کاروں کی صلاحیتوں کا زبردست اظہار کرتا ”کراچی تھیٹر فیسٹیول“ آرٹس کونسل کراچی میں جاری ہے ۔ فیسٹیول میں روزانہ کی بنیاد پر دو شوز پیش کئے جارہے ہیں جبکہ تھیٹر کے قدر دانوں کے لئے کراچی آرٹس کونسل تھیٹر اکیڈمی کے طلباءنکڑ ناٹک کی روایت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں ۔ اِسی سلسلے میں فیسٹیول کے آغاز پر تھیٹر اکیڈمی کے طلباءاپنا نکڑ ناٹک ہر ہفتے پیش کریں گے۔ فیسٹیول کے تیسرے روز ہدایت کارہ عظمیٰ سبین کا کھیل” تماشہ“ پیش کیا گیا۔ فنکاروں کی جاندار اداکاری کو شائقین کی جانب سے خوب پزیرائی ملی۔کراچی تھیٹر فیسٹیول کے چوتھے دن بروز اتوار ہدایت کار انجم ایاز کا کھیل ”راحت جان“ پیش کیا جائے گا ۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی کے زیرِ اہتمام عرب امارات میں مقیم منفرد لہجے کی معروف شاعرہ ثروت زہرا کے ساتھ ایک شام کا انعقاد

کراچی ( ) ثروت زہرا کی شاعری میں تنوع ہے ۔ ان کی شاعری کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کے ماحول اور اپنے وطن کے حالات کو پیش نظر رکھ کر الفاظ کو شاعری کی مالا میں پروتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار صدرِ تقریب اور معروف ادیب پروفیسر سحر انصاری نے آرٹس کونسل کراچی میں معروف شاعرہ ثروت زہرا کے اعزاز میں منعقد ایک شام میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چھ مہینوں سے تمام ادبی وثقافتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل تھیں اندازہ نہیں تھا کہ وقت کیسے گزرے لگا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی وقت گزر گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن ادبی کمیٹی ( شعر و سخن) آرٹس کونسل ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ جب بھی ثروت زہرا کی پذیرائی ہوتی ہے مجھے اپنے اندر ایک خوشی محسوس ہوتی ہے، اس دور میں جن شاعرات کا نام پورے اعتماد سے لے سکتے ہیں ان میں ثروت زہرا کا نام سرِفہرست ہے، انہوں نے اپنا منفرد انداز بنایا ہے جس کو وہ اپنی شاعری میں شامل رکھتی ہیں۔ منفرد لہجے کی شاعرہ ثروت زہرا کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں میرے اساتذہ اور میرے سینئرز موجود ہیں ان کی موجودگی سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میرے لیے وقت نکالا اور مجھے سننے آئے۔ اس موقع پر انور شعور، ثروت زہرا، وحید نور اور نگزیب، کامران نفیس، حمیرا راحت سمیت دیگر معروف شعراءکرام نے اپنے شعری مجموعے حاضرین کے گوش گزار کیے جبکہ نظامت کے فرائض راشد نور نے انجام دیے ۔


پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کا شہرہ آفاق ڈرامہ ”ان کہی “ کراچی آرٹس کونسل میں تھیٹر کی صورت 20اکتوبر سے پیش کیا جائے گا
 کراچی (  ) حکومت کی اجازت سے ایس او پی کے ساتھ آرٹس کونسل میں ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جشن آزادی کے کامیاب فیسٹیول کے بعد اب تمام پروگرام معمول کے مطابق ہوں گے ملک کی معروف ادیبہ و رائٹر حسینہ معین کا لکھا ہوا پلے ان کہی 20 اکتوبر سے آرٹس کونسل میں شروع ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ان کہی 2020 تھیٹر کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر حسینہ معین، ساجد حسن، آمنہ الیاس داور محمود اور ثاقب سمیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل نے حکومت کی ہدایت پر ایس او پی پر مکمل عمل کرتے ہوئے سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے ملک کی معروف ادیب و رائٹر حسینہ معین کا لکھا ہوا پلے ” ان کہی ” 20 اکتوبر کو آرٹس کونسل میں شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ان کہی تھیٹر ملتوی کردیا گیا تھا ۔ اب ہمارے ملک میں اس کا زور کم ہو گیا ہے اور حکومت نے بھی زندگی بحال کرنے کی اجازت دی ہے آرٹس کونسل نے ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اور بھی بہت سارے فیسٹیول ترتیب دئے گئے ہیں جن کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ احمد شاہ نے کہا کہ طویل لاک ڈاون کے بعد آرٹس کونسل شہریوں کے لئے بہتر سہولتیں پیش کر رہی ہیں۔ پلے کے ڈائریکٹر داور محمود نے کہا کہ 20 اکتوبر سے ان کہی 2020 شروع ہو گا یہ پرانا والا ان کہی نہیں ہے تاہم اس میں پرانے پیغام کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ فن کار اس میں کام کریں گے جن میں آرٹسٹ، ڈانسر اور دیگر لوگ شامل ہیں آمنہ الیاس اس ٹیم کو لیڈ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت آمنہ الیاس بہترین فن کارہ ہیں اس لئے ان کو اس ان کہی کے لئے منتخب کیا ہے۔ پلے کی رائٹر حسینہ معین نے کہا کہ ان کہی کو دوبارہ لانے کا مقصد نئی نسل کو پیغام دینا ہے کہ اس دور میں ہمیں محبتوں کی ضرورت ہے۔ جب تک دلوں سے نفرت نہیں مٹے گی آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اسی پیغام کے فروغ کے لئے یہ کہانی پہلے بھی لکھی گئی تھی اور آج دوبارہ لکھی گئی ہے۔ ساجد حسن نے کہا کہ تمام لوگوں کو مبارک جو کرونا وائرس سے محفوظ رہے۔حسینہ معین اس ملک کی لیجنڈ ہیں جن کا قلم ٹریفک روک دیتا تھا۔ یہ بہت تحقیق کر کے لکھتی ہیں۔ حسینہ معین کی اسٹوری کو لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامہ میں حسینہ معین کی زندگی کی کہانی ہے۔ احمد شاہ نے تھیٹر کو زندہ کر لیا لہذا شہری ایس او پی کو استعمال کرتے ہوئے احمد شاہ کے ساتھ تعاون کریں۔ کراچی آرٹس کونسل ملک میں منفرد ادارہ ہے حکومت کو اس کی سرپرستی کرنا چاہئے۔ثاقب سمیر نے کہا کہ یہ پلے سابق ان کہی سے مختلف ہے آج کے حالات کے مطابق ہے،اس موقع پر اداکارہ آمنہ الیاس کا کہنا تھا کہ یہ میرا پہلا اسٹیج شو ہے ۔ڈرامے میں مختلف سینز کا حصہ رہی ہوں ۔کہیں ہنسے ،کہیں روئے اور کہیں ڈانس کیا۔


1st February 2020

خبر نمبر1-


کراچی آرٹس کونسل میں جاری ادب میلے میں عروس البلاد شہر کراچی کے مسائل کو ا ±جاگر کرتے سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز “Karachi’s Urban Planning, Public Spaces and Garbage Managemnt” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہاکہ کراچی کی بہتری کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم نے کچھ ماہ قبل مہم کے ذریعے کراچی کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، کراچی کو اون کرنے کیلئے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی رہنما بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، جب کسی غیرقانونی تجاوزات کو ہٹاتے ہیں تو وہ صرف تجاوزات نہیں ہوتی بلکہ لاکھوں لوگوں کی پناہ گاہیں ہوتی ہیںیہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑرہا ہے، جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے تو میںنے سب سے پہلے مخالفت کی تھی کہ یہ بھی ہمارے کراچی کے شہری ہیں حالانکہ وہ لوگ میرے ووٹرز بھی نہیں تھے،انہوں نے میڈیا اور سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ وہ اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ ا ±جاگر کریں تاکہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ یہ تارکین وطن کا شہر ہے، بدقسمتی سے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں، 1950ءمیں کلفٹن، ناظم آباد سمیت پی ای سی ایچ ایس کی 3روپے گز میں الاٹمنٹ دی گئی، 70ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے 9روپے میں گلشن اقبال آباد کیا لیکن اس کے بعد مکمل طور پر کمرشلائز کردیاگیا، اب بھی آدھی آبادی کچی آبادی میں رہتی ہے، شہر کو اتنا خوفزدہ کردیاگیا کہ لوگ یہاں پانی، گاربیج، ہیلتھ یا ایجوکیشن کی بات کرنے کے بجائے اپنی بچوں کی دیکھ بھال پر لگے رہیں اور جو مسائل ہیں ان پر کسی کی توجہ ہی نہ رہے، ہماری حکومت کو چاہیے کہ کم نرخ پر لوگوں کو پلاٹ فراہم کرے،عارف حسن نے کہاکہ ادارے نہیں ہوں گے تو یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، میٹروپولیٹن انسٹیٹیوٹ سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا تھا 1981ءمیں اسے بھی ختم کردیاگیا، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرکے زمینوں کے حوالے سے شہر کیساتھ زیادتی کی گئی، دیکھتے ہی دیکھتے شہر تقسیم ہوگیا، صرف ایمپریس مارکیٹ کے اِردگرد کارروائی کے نتیجے میں 1.5بلین روپے سے زائد کی اقتصادی معیشت تباہ ہوئی، کراچی کا سیوریج سسٹم سوچی سمجھی سازشی کے تحت برباد کردیاگیا ہے،لیاری میں کام کی رفتار بہت سست ہے، اجلاس سے فرحان انور اور سیورین مینو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، نظامت کے فرائض سید خاور مہدی نے انجام دیئے۔

خبر نمبر2-


”ادب فیسٹیول “میں ادب اور الیکٹرانک میڈیا سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز ”ادب اور الیکٹرانک میڈیا“ اجلاس کا انعقاد کیاگیا جس میں مختلف نجی چینلز کے مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہتاب اکبر راشدی نے کہاکہ معاشرے کو مثبت ڈگر پر لے جانے والے اداروں کو چاہیے کہ اپنا کردار بخوبی ادا کریں،ہم اتنی ظالم قوم ہیں کہ مرتے ہوئے شخص کو بھی ٹی وی پر دکھا رہے ہوتے ہیں شکر ہے کہ پیمرا نے چینلز کوکچھ حدود وقیود کا پابند کیا۔ سینئر صحافی اظہر عباس نے کہاکہ چینل سال میں چار چار بار بند کر دیئے جاتے ہیں،اس موقع پر سلطانہ صدیقی نے کہاکہ میں ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہوں ڈرامہ ”زندگی گلزار کے لیے“ شبانہ اعظمی نے تعریف کے لیے کال کی،کن فیکون نام رکھنے پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، پشاور میں ہمارے ڈرامے پر کیس کر دیا گیا، سیما طاہر خان نے کہاکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آنے والا زمانہ ڈیجیٹلائز ہے ، اب پیغام پہنچنانے کے پلیٹ فارم بدل رہے ہیں،ریٹنگ سسٹم اپنی جگہ موجود ہیں، اب سوشل میڈیا کا دور ہے کیوں نہ انہیں استعمال کیا جائے۔نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے سر انجام دیئے۔          


31st January 2020

  Karachi: “In last 22 years we dealt with 57 thousand cases. Whether it’s military court case or panama case, Asia Malona case or former Prime Minister Gillani case we resorted to the literary figure’s famous sayings, deciding all the cases” these thoughts were expressed by the former chief justice of Pakistan Asif Saeed Khousa in the opening ceremony of  three day literature festival held at Arts council Karachi. Former chief justice Asif Saeed Khousa further said “many judges including me are interested in art & literature and I am planning to return back to this way. Law and literature are similar in many ways”. On the moment addressing to the audience president arts council Muhammad Ahmed Shah said we support to those organizations that are serving to Urdu literature. The prominent literary personalities such as Muhtaq Ahmed Yosufi and Jameel uddin Aali are no more with us but their name will always live in the history of Urdu literature”. Further he said that last year Ameena Saiyid started organizing the Adab festival which is now running successfully. On the occasion of the inauguration ceremony of 2nd Adab festival former Pakistan’s Representative to the United Nation Maleeha Lodhi , in her speech said “Together with the intellectuals we need to create the positive image of Pakistan globally. We have to make our foreign policy according to the global approach of each country”. In the opening ceremony, Founder of Adab Festival Ameena Saiyid said “The literature festival was founded a decade ago which has now become a thriving tree. I am glad that this literature festival is covering a wide variety of topics” Along with the literary & political personalities like Asif Farukhi, Shaiyma Syed, Iftikhar Arif, Kishwar Naheed, Stefan Winkler ,former foreign minister Hina Rabbani Khar, I.G Sindh Kaleem Imam,  this event was attended by a massive number of literature lovers. On the occasion a puppet show was presented by THE THESPIANZ THEATRE and poetry of Habib Jalib was beautifully presented by the young musicians & singers. The day was concluded with the Qawali performance of famous qawal Abu Mohammad and Fareed Ayaz.  


            کراچی آرٹس کانسل میں دوسرے ادب فیسٹول پاکستان کا شاندار انعقاد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گزشتہ بائیس سالوں میں ستاون ہزار کیس نمٹائے۔ملٹری کورٹ کیس ہو یا پانامہ کیس آسیہ بی بی کیس ہو یا سابق وزیر اعظم گیلانی کا کیس ان کیسز کا فیصلہ سناتے ہوئے ادبی شخصیات کے مشہور اقوال کا سہارا لیا ،ادب رابطے کا وہ ذریعہ ہے جس کے الفاظ دل و دماغ میں گھر کر جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آ ف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ تین روزہ ادب فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر کیا۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ ادب کی طرف واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں مجس سمیت دنیا بھر میں بہت سے ججز نے کالجز میں آرٹ اور ادب میں دلچسپی لی انہوں نے کہا کہ لاءاور لٹریچر بہت سے معنوں میں ایک جیسے ہیں۔دوسرے ادب فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جو ادارے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ہم انہیں بھرپور سپورٹ کرتے ہیں ،اردو ادب کے نامور نگینے جیسے کہ مشتاق احمد یوسفی اور جمیل الدین حالی ہم سے جدا ہو گئے آرٹ اور کلچر کو نوجوانوں تک پہنچانا ہے۔احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ امینہ سید نے گذشتہ برس سے ادب فیسٹیول کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ اب کامیابی سے جاری ہے۔اس موقع پر سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دانشوروں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بنانا ہوگا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ملیشیا جیسے ممالک کی طرز پر تشہیر کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ہر ملک کی گلوبل اپروچ کے مطابق ان کے ساتھ خارجہ پالیسی رکھنی ہوگی۔دوسر ادبی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں مختلف سیاسی،سماجی اور ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادب فیسٹیول کی روح رواں امینہ سید کا کہنا تھا کہ ایک دہائی قبل ادبی فیسٹیول کی بنیاد رکھی تھی جو کہ اب تناآور درخت بن چکا ہے خوشی اس بات کی ہے کہ ادب کی یہ محفل مختلف موضوعات کا احاطہ بنی ہوئی ہے۔اس موقع پر آصف فرخی،شائمہ سید ،افتخارعارف،کیشور ناہید،اسٹیفن وکلار،سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ،آئی جی سندھ سید کلیم امام نے شرکت کی۔اس موقع پر تھیسپینز تھیٹر کی جانب سے چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی پ ±تلی تماشے کا اہتمام کیا گیا۔نوجوان گلوکاروں نے حبیب جالب کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ادبی میلے کے پہلے دن کا اختتام معروف قوال ابو محمد اور فرید ایاز قوال کی زبردست قوالی پرفارمنس پر ہوا۔