Jan & Feb, 2020 :Press Release

1st February 2020

خبر نمبر1-


کراچی آرٹس کونسل میں جاری ادب میلے میں عروس البلاد شہر کراچی کے مسائل کو ا ±جاگر کرتے سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز “Karachi’s Urban Planning, Public Spaces and Garbage Managemnt” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہاکہ کراچی کی بہتری کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم نے کچھ ماہ قبل مہم کے ذریعے کراچی کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، کراچی کو اون کرنے کیلئے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی رہنما بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، جب کسی غیرقانونی تجاوزات کو ہٹاتے ہیں تو وہ صرف تجاوزات نہیں ہوتی بلکہ لاکھوں لوگوں کی پناہ گاہیں ہوتی ہیںیہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑرہا ہے، جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے تو میںنے سب سے پہلے مخالفت کی تھی کہ یہ بھی ہمارے کراچی کے شہری ہیں حالانکہ وہ لوگ میرے ووٹرز بھی نہیں تھے،انہوں نے میڈیا اور سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ وہ اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ ا ±جاگر کریں تاکہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ یہ تارکین وطن کا شہر ہے، بدقسمتی سے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں، 1950ءمیں کلفٹن، ناظم آباد سمیت پی ای سی ایچ ایس کی 3روپے گز میں الاٹمنٹ دی گئی، 70ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے 9روپے میں گلشن اقبال آباد کیا لیکن اس کے بعد مکمل طور پر کمرشلائز کردیاگیا، اب بھی آدھی آبادی کچی آبادی میں رہتی ہے، شہر کو اتنا خوفزدہ کردیاگیا کہ لوگ یہاں پانی، گاربیج، ہیلتھ یا ایجوکیشن کی بات کرنے کے بجائے اپنی بچوں کی دیکھ بھال پر لگے رہیں اور جو مسائل ہیں ان پر کسی کی توجہ ہی نہ رہے، ہماری حکومت کو چاہیے کہ کم نرخ پر لوگوں کو پلاٹ فراہم کرے،عارف حسن نے کہاکہ ادارے نہیں ہوں گے تو یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، میٹروپولیٹن انسٹیٹیوٹ سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا تھا 1981ءمیں اسے بھی ختم کردیاگیا، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرکے زمینوں کے حوالے سے شہر کیساتھ زیادتی کی گئی، دیکھتے ہی دیکھتے شہر تقسیم ہوگیا، صرف ایمپریس مارکیٹ کے اِردگرد کارروائی کے نتیجے میں 1.5بلین روپے سے زائد کی اقتصادی معیشت تباہ ہوئی، کراچی کا سیوریج سسٹم سوچی سمجھی سازشی کے تحت برباد کردیاگیا ہے،لیاری میں کام کی رفتار بہت سست ہے، اجلاس سے فرحان انور اور سیورین مینو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، نظامت کے فرائض سید خاور مہدی نے انجام دیئے۔

خبر نمبر2-


”ادب فیسٹیول “میں ادب اور الیکٹرانک میڈیا سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز ”ادب اور الیکٹرانک میڈیا“ اجلاس کا انعقاد کیاگیا جس میں مختلف نجی چینلز کے مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہتاب اکبر راشدی نے کہاکہ معاشرے کو مثبت ڈگر پر لے جانے والے اداروں کو چاہیے کہ اپنا کردار بخوبی ادا کریں،ہم اتنی ظالم قوم ہیں کہ مرتے ہوئے شخص کو بھی ٹی وی پر دکھا رہے ہوتے ہیں شکر ہے کہ پیمرا نے چینلز کوکچھ حدود وقیود کا پابند کیا۔ سینئر صحافی اظہر عباس نے کہاکہ چینل سال میں چار چار بار بند کر دیئے جاتے ہیں،اس موقع پر سلطانہ صدیقی نے کہاکہ میں ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہوں ڈرامہ ”زندگی گلزار کے لیے“ شبانہ اعظمی نے تعریف کے لیے کال کی،کن فیکون نام رکھنے پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، پشاور میں ہمارے ڈرامے پر کیس کر دیا گیا، سیما طاہر خان نے کہاکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آنے والا زمانہ ڈیجیٹلائز ہے ، اب پیغام پہنچنانے کے پلیٹ فارم بدل رہے ہیں،ریٹنگ سسٹم اپنی جگہ موجود ہیں، اب سوشل میڈیا کا دور ہے کیوں نہ انہیں استعمال کیا جائے۔نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے سر انجام دیئے۔          


31st January 2020

  Karachi: “In last 22 years we dealt with 57 thousand cases. Whether it’s military court case or panama case, Asia Malona case or former Prime Minister Gillani case we resorted to the literary figure’s famous sayings, deciding all the cases” these thoughts were expressed by the former chief justice of Pakistan Asif Saeed Khousa in the opening ceremony of  three day literature festival held at Arts council Karachi. Former chief justice Asif Saeed Khousa further said “many judges including me are interested in art & literature and I am planning to return back to this way. Law and literature are similar in many ways”. On the moment addressing to the audience president arts council Muhammad Ahmed Shah said we support to those organizations that are serving to Urdu literature. The prominent literary personalities such as Muhtaq Ahmed Yosufi and Jameel uddin Aali are no more with us but their name will always live in the history of Urdu literature”. Further he said that last year Ameena Saiyid started organizing the Adab festival which is now running successfully. On the occasion of the inauguration ceremony of 2nd Adab festival former Pakistan’s Representative to the United Nation Maleeha Lodhi , in her speech said “Together with the intellectuals we need to create the positive image of Pakistan globally. We have to make our foreign policy according to the global approach of each country”. In the opening ceremony, Founder of Adab Festival Ameena Saiyid said “The literature festival was founded a decade ago which has now become a thriving tree. I am glad that this literature festival is covering a wide variety of topics” Along with the literary & political personalities like Asif Farukhi, Shaiyma Syed, Iftikhar Arif, Kishwar Naheed, Stefan Winkler ,former foreign minister Hina Rabbani Khar, I.G Sindh Kaleem Imam,  this event was attended by a massive number of literature lovers. On the occasion a puppet show was presented by THE THESPIANZ THEATRE and poetry of Habib Jalib was beautifully presented by the young musicians & singers. The day was concluded with the Qawali performance of famous qawal Abu Mohammad and Fareed Ayaz.  


            کراچی آرٹس کانسل میں دوسرے ادب فیسٹول پاکستان کا شاندار انعقاد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گزشتہ بائیس سالوں میں ستاون ہزار کیس نمٹائے۔ملٹری کورٹ کیس ہو یا پانامہ کیس آسیہ بی بی کیس ہو یا سابق وزیر اعظم گیلانی کا کیس ان کیسز کا فیصلہ سناتے ہوئے ادبی شخصیات کے مشہور اقوال کا سہارا لیا ،ادب رابطے کا وہ ذریعہ ہے جس کے الفاظ دل و دماغ میں گھر کر جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آ ف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ تین روزہ ادب فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر کیا۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ ادب کی طرف واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں مجس سمیت دنیا بھر میں بہت سے ججز نے کالجز میں آرٹ اور ادب میں دلچسپی لی انہوں نے کہا کہ لاءاور لٹریچر بہت سے معنوں میں ایک جیسے ہیں۔دوسرے ادب فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جو ادارے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ہم انہیں بھرپور سپورٹ کرتے ہیں ،اردو ادب کے نامور نگینے جیسے کہ مشتاق احمد یوسفی اور جمیل الدین حالی ہم سے جدا ہو گئے آرٹ اور کلچر کو نوجوانوں تک پہنچانا ہے۔احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ امینہ سید نے گذشتہ برس سے ادب فیسٹیول کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ اب کامیابی سے جاری ہے۔اس موقع پر سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دانشوروں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بنانا ہوگا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ملیشیا جیسے ممالک کی طرز پر تشہیر کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ہر ملک کی گلوبل اپروچ کے مطابق ان کے ساتھ خارجہ پالیسی رکھنی ہوگی۔دوسر ادبی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں مختلف سیاسی،سماجی اور ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادب فیسٹیول کی روح رواں امینہ سید کا کہنا تھا کہ ایک دہائی قبل ادبی فیسٹیول کی بنیاد رکھی تھی جو کہ اب تناآور درخت بن چکا ہے خوشی اس بات کی ہے کہ ادب کی یہ محفل مختلف موضوعات کا احاطہ بنی ہوئی ہے۔اس موقع پر آصف فرخی،شائمہ سید ،افتخارعارف،کیشور ناہید،اسٹیفن وکلار،سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ،آئی جی سندھ سید کلیم امام نے شرکت کی۔اس موقع پر تھیسپینز تھیٹر کی جانب سے چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی پ ±تلی تماشے کا اہتمام کیا گیا۔نوجوان گلوکاروں نے حبیب جالب کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ادبی میلے کے پہلے دن کا اختتام معروف قوال ابو محمد اور فرید ایاز قوال کی زبردست قوالی پرفارمنس پر ہوا۔