2020 :Press Release

خبر نمبر۔1

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے روزپہلااجلاس”اُردو تنقید اور تحقیق کے سو برس“ کا انعقاد

کراچی( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری دن پہلا اجلاس ”اُردو تنقید اور تحقیق کے سو برس“ کے عنوان سے منعقد ہوا جس کی صدارت معروف ماہر تعلیم ، ادیب و نقاد شافع قدوائی نے ہندوستان سے آن لائن کی، حمیدہ شاہین نے ”تنقید و تفہیم اور تہذیبی معیارات“ کے موضوع پر لاہور سے آن لائن جبکہ قاضی عابد نے ”جدید تنقیدی نظریات اور اُردو فکشن“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا، نظامت کے فرائض رضوان زیدی نے انجام دیے۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد شاہ نے اسٹیج پر آکر خصوصی طور پر شافع قدوائی کا شکریہ ادا کیااور بتایا کہ ان کی کراچی آمد کے تمام انتظامات مکمل تھے مگر کورونا کی صورت حال کے پیش نظر انہیں ہندوستان سے آن لائن بات کرنا پڑی، احمد شاہ نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ کورونا کی وباءجلد ختم ہوگی اور آئندہ سال ہم سب ایک جگہ بیٹھ کر فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف پر گفتگو کرسکیں گے، صدر محفل شافع قدوائی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علم کسی کی میراث نہیں ہے نہ ہی مغرب کی اور نہ ہی مشرق کی لہٰذا جہاں سے بھی علم میسر آئے اُسے حاصل کرلینا چاہیے، انہوں نے کہاکہ چھوٹے چھوٹے ثقافتی رویے اور اقدار ایک پورے معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں، ادب سچائی کو سامنے لاتا ہے اور اس میں آپ کے باطن کی سچائی بھی نکل کر سامنے آجاتی ہے، تہذیب کا معاملہ ہماری بقاءکی بات ہے، مغربی تہذیب کو شیطانِ مجسم سمجھا جاتا ہے مگر ایسا نہیں ہے انہوں نے کہاکہ فکشن کو معاشرے کی آواز سمجھا جاتا ہے اور زبان کے ذریعے حقائق کو بیان کیا جارہا ہے، بڑا افسانہ نگار تنقید کو چیلنج کرتا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں بہت اچھا لکھنے والے موجود ہیں اور یہ سفر ابھی جاری ہے، حمیدہ شاہین نے ”تنقید و تفہیم اور تہذیبی معیارات“ کے موضوع پرآن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نئی تہذیب سے مراد مغربی تہذیب لی جاتی ہے مگر روح اجنبی لمس کو فوراً قبول نہیں کرتی اس لیے تہذیبی اقدار کا سہارا لیا جاتا ہے، ہمارے ادیب ہمارے کردار کا محاسبہ کریںکہ ہمارا کردار قومی معیار کے مطابق ہے یا نہیں، انہوں نے کہاکہ سلیم احمد نے ادب میں دائمی اقدار کی بات کی ہے جبکہ ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی شناخت کے لیے زندگی کی ہر سطح پر تہذیب کی ضرورت ہے، انہوں نے کہاکہ کسی بھی زبان کا ادب اپنے تہذیبی تناظر میں آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے، ادب تہذیبوں کے لیے تغیر کنندہ کا کردار بھی ادا کرتا ہے، اگر ایک معاشرہ اقبال کو تشکیل کرتا ہے تو اقبال بھی ایک معاشرہ تشکیل کرتا ہے، انہوں نے کہاکہ اس وقت فکری ٹریفک جام نظر آتا ہے جس میں دوستوں کو منزل تک پہنچنے میں مشکل پیش آرہی ہے، موٹی موٹی اور وزنی وزنی اصلاحات گولیوں کی طرح تَڑتَڑ برستی ہیں تو پڑھنے والے حراساں ہوجاتے ہیں،قاضی عابد نے ”جدید تنقیدی نظریات اور اُردو فکشن“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ اُردو فکشن سے مراد افسانہ، ناول اور ڈرامہ لیتے ہیں جبکہ مغرب میں فلم بھی فکشن میں شمار ہوتی ہے، فکشن کی ہر شکل میں اسٹیج سے فلم تک مصنف کی آواز کو متن کی آواز پر غالب رکھنے کی کوشش کی مگر متن اپنی معنویت کے تمام اسباب کھولنے کی اہلیت رکھتا ہے، انہوں نے کہاکہ پڑھنے والا لکھنے والے سے زیادہ ذہین ہوتا ہے، کیونکہ پڑھنے والے کے پاس اپنا تفہیمی رویہ ہوتا ہے جبکہ لکھنے والا صرف ایک ہی متن پر لکھ رہا ہوتا ہے،1990ءکے آس پاس جن تنقیدی رجحانات کا اظہار ہوا اس پر مختلف مضامین بھی لکھے گئے ہیں، اُردو میں بیانات پر تعارفی مواد کم ہی مرتب کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس بہت ذہین نقاد موجود ہیں ہم مل جُل کر ایک نئی تنقید کا عنصر پیش کرسکتے ہیں چاہے یہ رویہ مغرب ہی سے کیوں نہ آیا ہو۔

خبر نمبر۔2

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے روزدوسرااجلاس ”اردو میں ایک صدی کے نثری ادب “ کا انعقاد

کراچی ()کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ”اردو میں ایک صدی کے نثری ادب “ کے عنوان سے سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کی نظامت خرم سہیل نے انجام دی، اس موقع پر معروف دانشور افضال احمد سید نے اردو میں تراجم کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صرف ایک جامعہ میں اردو تراجم پر کام کا آغاز کیا گیا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام نامور جامعات میں اردو ترجموں کے شعبوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور تراجم سے متعلق ورک شاپس کا انعقاد کیا جائے، عقیل عباس جعفری نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے اردو ادب میں تذکرے اور تاریخ کے حوالے سے سیر حاصل بیان کیا ، انہوں نے کہا ساٹھ کی دھائی میں جمیل جالبی نے تاریخ اردو ادب پر کتابیں لکھی تاہم ان کے بعد اس حوالے سے کوئی خاص کام دکھائی نہیں دیتا ، ماضی قریب میں جامعہ پنجاب نے اردو ادب کی تاریخ پر کتاب مرتب کی تاہم یہ تحقیق جالبی صاحب کے کام کے ہم پلہ نظر نہیں آتی، معروف محقق رﺅف پاریکھ نے ایک صدی میں اردو لغت کے سفر کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اردو لغات میں لکھنوی رنگ نمایاں رہا تاہم پاکستان میں لکھی گئی بائیس جلدوں پر مشتمل ضحیم لغت میں تمام خطوں میں بولی جانے والی اردو کے الفاظ کو یکجا کیا گیا جس سے ادبی دنیا میں استفادہ حاصل کیا جا رہا ہے ، نامور شاعرہ اور افسانہ نگار فرحت پروین نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ترجمہ اور اسکی اہمیت پر معلومات سامعین کے گوش گزار کیں ، انہوں نے کہا کہ مترجم دو زبانوں اور معاشروں کے درمیان پل کا کام کرتا ہے ، ترجمے کے زریعہ ہی کسی قوم کو دوسری اقوام کے ادب اور معاشرت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے، نامور ادیب عرفان جاوید نے خاکہ نگاری اور سوانحی ادب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خاکہ نگار اپنی ارد گرد کے ماحول کو صفحات پر زندہ کردیتا ہے جنہیں صدیوں بعد بھی پڑھ کر انسان خود کو اسی ماحول میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ حالیہ دور میں خاکہ نگاری کا فن تنزلی کی جانب گامزن ہے۔

خبر نمبر۔3

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے اور آخری دن

تیسرااجلاس ”یارک شائر ادبی فورم “ کا انعقاد

کراچی ()آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے اور آخری دن تیسرا اجلاس ”یارک شائر ادبی فورم “ کے زیراہتمام منعقد کیاگیا جس میں ڈاکٹر یونس حسنی اور محمد یامین کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ پیش کیاگیا، تقریب کی صدارت ڈاکٹر فاطمہ حسن اور نظامت کے فرائض غزل انصاری نے انجام دیے،اس موقع پر ڈاکٹر یونس حسنی اور محمد یامین کی ادبی خدمات کے حوالے سے ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی، ڈاکٹر یونس حسنی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جتنا کام مجھے علمی طور پر کرنا چاہیے تھا میں سمجھتا ہوں کہ اس کانصف بھی میں نہیں کرسکا، مگر مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جو علمی کام بھی کیا وہ انتہائی ذمہ داری اور ایمانداری سے کیا انہوں نے کہاکہ استاد کا کام صرف کتابیں اور مقالے لکھنا نہیں ہوتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس نے جن شاگردوں کی تربیت کی ہے ان کا معیار کیا ہے کیونکہ استاد اپنے شاگردوں سے پہچانا جاتا ہے اور شاگردوں کی اہمیت ہی استاد کی توقیر کا باعث ہوتی ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ اٹھاون برسوں سے شعبہ¿ تدریس سے منسلک ہیں، مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے شاعر محمد یامین نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہاکہ ادب ایسا میدان ہے کہ جس میں غالب اور میر جیسے لوگ اور ان کے بعد آنے والے بڑے بڑے ادباءاور شعراءموجود ہوں تو اس شعبے میں کمال کا اعتراف کرنا بڑا مشکل بن جاتا ہے، انہو ں نے ایوارڈ ملنے پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ان کا مجموعہ کلام ”دھوپ کا لباس“ شائع ہوکر مقبولیت کی سند حاصل کرچکا ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کی نظموں میں خوبصورت جنت نظیر وادی¿ کشمیر کی خوبصورتی اور رعنائی کو علامت کے طور پر استعمال کیا جائے اور وہاں کے جنت نظیر نظاروں کو اپنی شاعری میں پینٹ کیا جائے، صدر محفل ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنے خطاب میں کہاکہ یارک شعائر ادبی فورم پتھروں پر پھول اُگانے اور سجانے کا کام کررہا ہے، ادب وثقافت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے ان کی جانب سے ایوارڈز پیش کیے جانا قابلِ تحسین عمل ہے، انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر یونس حسنی جیسی معتبر شخصیت کے ساتھ بیٹھنا ان کے لیے بڑا اعزاز ہے، اس موقع پر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے محمد یامین کی نظم ”دھوپ کا لباس“ بھی سنائی۔

خبر نمبر۔4

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے اور آخری دن

چوتھا اجلاس ”بچوں کا ادب “ کے موضوع پر رضا علی عابدی،سلیم مغل،رﺅف پاریکھ ،نیررباب کی گفتگو

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس میں ”بچوں کا ادب“ کے موضوع پر نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی میزبانی علی حسن ساجد نے کی، ادب اطفال پر اظہار خیال کرتے ہوئے بچوں کی معروف مصنفہ نیر رباب نے کہا کہ بچوں کے تخیلات ہر زمانے میں یکساں رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بچوں کی کہانیوں کے کردار وں کا تصور بھی پہلے جیسا ہی ہے، اڑتے قالین کی جگہ اسپیس شپ نے لے لی اور جنوں چڑیلوں کی جگہ اب سپر مین اڑتا ہے، بچوں کے معروف ادیب سلیم مغل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی آمد سے ہماری معاشرتی اقدار اور بچوں کے ذھن متاثر ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بچوں کے لئے معیاری ادب لکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج کمی نظر آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ پرانے چینی مصنفوں نے کئی دھائیوں پہلے ہی اپنی تحریوں میں بچوں کی ذھن سازی شروع کردی تھی، نامور محقق رﺅف پاریکھ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے تخیل کو بیدار کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے کہانی اور داستان گوئی ہر دور میں اہم رہی ہے جس کی تازہ مثال ہیری پورٹر سیریز ہے ، انہوں نے کہا کہ کہانیوں سے بچوں کے سیکھنے کے عمل کو جلا ملتی ہے ، ویڈیو لنک کے ذریعہ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے معروف ادیب اوربراڈ کاسٹر رضا علی عابدی نے بچوں کے ادب میں ٹیکنالوجی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بچوں کی ذھن سازی میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ بچوں کے ادب میں بیڈ ٹائم اسٹوریز ، لوریوں اور گیتوں پر کام کرنا ہوگا، میزبان علی حسن ساجد نے بتایا کہ آرٹس کونسل کے روح رواں احمد شاہ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہر سال بچوں کا جریدہ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے۔

خبر نمبر۔6

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں چوتھے اور آخری دن

چھٹااجلاس ”سندھی زبان و ادب کے سو برس “کے عنوان پر نشست کا اہتمام

کراچی( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری روز ”سندھی زبان و ادب کے سو برس “ کے عنوان سے نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف سندھی دانشوروں ، ادیبوں اور شعرا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، سندھی کہانی کار طارق قریشی نے سندھی ادب کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ دور میں سندھی خواتین مصنفیں اور کہانی کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو اپنی تحریروں میں سندھی خواتین کے مسائل اجاگر کر رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ نئے لکھاریوں کو زیادہ مواقع فراہم کئے جانے اور انکی ہمت افزائی کی ضرورت ہے ، ڈاکٹر قاسم بگھیونے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ سو سال قبل سندھی زبان کو ترقی یافتہ زبان کے طور پر تسلیم کرلیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد اردو کو قومی اور انگریزی کو سرکاری زبان بنائے جانے کے بعد سندھی زبان اور ادب کو بڑا دھچکا لگا، معروف ڈرامہ نویس نور الہدی شاہ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سندھ محبت اور امن کی سر زمین ہے اور سندھ دھرتی والوں نے اردو سے بھی پیار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھی دانشوروں نے سندھی ادب کو ہر دور میں زندہ رکھا اور اس وقت سندھ اور بلوچستان میں قارئین کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں سے زیادہ ہے ، نور الہدی شاہ نے کہا کہ سندھ دھرتی کی بقا میں سندھی دانشوروں کا اہم کردار رہا ہے، نوجوان سندھی ادیب جامی چانڈیو نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عام تاثر ہے کہ سندھ میں اردو قیام پاکستان کے بعد آئی تاہم حقیقت یہ ہے کہ اردو کے کئی صاحب دیوان شعرا اٹھارویں صدی سے ہی اس دھرتی پر موجود ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کو اردو سے پیار ہے، جامی چانڈیو نے بتایا کہ سندھی کلاسیکل ادب کی ابتدا کی کڑیاں گیارھویں صدی سے جا ملتی ہیں اور جدید سندھی ادب اسی کلاسیکی ادب کا تسلسل ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران سندھی افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں نئے موضوعات کو متعارف کرایا گیا، سیشن کے شرکا نے سامعین کو سندھ کے ثقافتی دن کی مبارک باد پیش کی، گفتگو کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ایوب شیخ نے انجام دیے۔

On the fourth day of the 13th World Urdu Conference organized by Arts Council of Pakistan Karachi
 Karachi () On the first meeting of the 4th and last day of the 13th International Urdu Conference organized by the Arts Council of Pakistan Karachi was held under the theme “Hundred Years of Urdu Criticism and Research”.  Hamida Shaheen spoke online from Lahore on the topic of “Criticism and Cultural Standards” while Qazi Abid spoke on “Modern Critical Ideology and Urdu Fiction”.  ۔
On the occasion, Arts Council President Muhammad Shah came on stage and specially thanked Shafi Qadwai and said that all arrangements for his arrival in Karachi were complete but because of Corona’s situation, he had to speak to India online, Ahmed said.
  Shah expressed the hope that the epidemic of Corona would end soon and next year we would all be able to sit together and discuss different thoughts of fine arts.
 Addressing the gathering, President Shafi Qadwai said that knowledge is not a legacy  Neither the West nor the East, so knowledge should be obtained from wherever it is available, he said, adding that small cultural attitudes and values form a whole society, the literature reveals the truth and your inner self in it.  The truth also comes out, the matter of civilization is a matter of our survival, Western civilization is considered to be the incarnation of Satan, but it is not.
 He said that fiction is considered the voice of society and facts are being expressed through language.  The great novelist challenges the criticism, he said that there are very good writers in Pakistan and this  The journey is still going on, Hamida Shaheen while talking online on the topic of “Criticism and understanding and cultural standards” said that new civilization means Western civilization but the soul does not immediately accept the foreign touch so cultural values are resorted to  Yes, our writers should calculate our role whether our role is in line with the national standard or not, he said. Saleem Ahmed has spoken of eternal values in literature while Dr. Jameel Jalebi says that we need to identify ourselves at every level of life.  Civilization is needed, he said, adding that literature of any language can be easily understood in its cultural context. Literature also plays a transformative role for civilizations.
 If a society forms Iqbal, then Iqbal also forms a society.  He said that at present there is an intellectual traffic jam in which it is difficult for friends to reach the destination. He said that thick and weighty reforms are raining down like bullets and the readers get annoyed.
  Commenting on the topic of “Modern Critical Thoughts and Urdu Fiction”, he said that Urdu fiction means fiction  Yes, they take novels and dramas, while in the West, the film is also considered fiction. In every form of fiction, from the stage to the film, the author’s voice is tried to dominate the sound of the text, but the text has the ability to reveal all the reasons for its meaning.  He said that the reader is more intelligent than the writer because the reader has his own understanding attitude while the writer is writing on only one text, on the critical tendencies that were expressed around the 1990s.  
Various articles have also been written. Introductory material on statements in Urdu has rarely been compiled. He said that we have very intelligent critics and together we can present a new element of criticism even if this attitude has not come from the West.

On the fourth day of the 13th International Urdu Conference organized by Arts Council of Pakistan Karachi, the second session of “A Century of Prose Literature in Urdu” was held

 Karachi () On the last day of the 13th International Urdu Conference held at Karachi Arts Council of Pakistan, a session titled “Prose Literature of a Century in Urdu” was organized by Khurram Sohail. Leading intellectual Afzal Ahmed  Highlighting the situation of Urdu translation, Syed said that work on Urdu translation has been started in only one University in Pakistan, however, there is a need to set up Urdu translation departments in all reputed Universities, and  Workshops on the translation should be organized. Aqeel Abbas Jafari, while participating in the discussion, described the history of Urdu literature. He said that Jamil Jalebi wrote books on the history of Urdu literature in the sixties.
 After him, no special work is seen in this regard. In the recent past, Punjab University has compiled a book on the history of Urdu literature.
 However, this research does not seem to be on par with the work of Jalibi Sahib.  Highlighting the subject of Dictionary travel, he said that in the past, Lucknow color was prominent in Urdu dictionaries, but in Pakistan, The 22-volume dictionary contains Urdu words spoken in all the regions, which are being used in the literary world, said Farhat Parveen, a renowned poet, and novelist.  
He said that translators act as a bridge between two languages and societies. It is only through translation that a nation gets acquainted with the literature and society of other nations, said renowned writer Irfan Javesixtie
Discussing sketching and autobiographical literature, he said that a sketcher brings to life the environment around him on pages, which even after centuries of reading, one feels oneself walking in the same environment. He said that sketches in recent times  The art of painting are declining.

Third Session Yorkshire Literary Forum

KARACHI () The fourth and final day of the 13th International Urdu Conference organized by the Arts Council of Pakistan Karachi was held under the auspices of the Yorkshire Literary Forum in which Dr. Younis Hasani and Mohammad Yameen have presented awards in recognition of their literary services.
 Dr. Fatima Hassan presided over the function and Ghazal Ansari acted as the director.
 A documentary on the literary services of Dr. Younis Hassani and Mohammad Yameen was also shown on the occasion.
Dr. Younis Hassani while speaking on the occasion said:  I don’t think I was able to do as much work as I should have done scientifically, but I’m glad that whatever I did, I did it very responsibly and honestly. He said that the work of a teacher is only books and  He does not have to write essays, but the quality of the students he has trained is because the teacher is known to his students and the importance of the students is the reason for the respect of the teacher, he said.
 Muhammad Yamin, a poet from Muzaffarabad, has been associated with the teaching department for years  After receiving the award, he said that literature is a field in which there are people like Ghalib and Mir and the great writers and poets who came after them, so it becomes very difficult to acknowledge the excellence in this field.
 He thanked them and said that his collection of words “Sunshine Clothing” has been published and gained popularity.
 He said that he tries to make the beautiful paradise in his poems symbolize the beauty and beauty of the valley of Kashmir.  In her speech, Dr. Fatima Hassan, President of the Conference, said that the York Poets Literary Forum is working to grow and decorate flowers on rocks, to belong to literature and culture.  He said that it was a commendable act for him to present awards to such personalities.
 He said that it was a great honor for him to sit with a respected person like Dr. Younis Hassan. On this occasion, Dr. Fatima Hassan recited Mohammad Yameen’s poem “Sunshine.  Clothing ”was also presented

Fourth Session Raza Ali Abidi, Saleem Mughal, Raf Parikh, Nairrabab addressed “Children’s Literature”

Karachi () The 13th International Urdu Conference held at Arts Council of Pakistan Karachi hosted a session on “Children’s Literature” which was hosted by Ali Hassan Sajid.  “Children’s imaginations have been the same all the time, which is why the concept of children’s story characters is the same as before.
 Leading children’s writer Saleem Mughal said that the advent of technology is affecting our social values and children’s minds. He said that in the present era, the number of writers of standard literature for children is gradually declining.  He said that the old Chinese writers had started brainwashing children in their writings many decades ago.  For the story and storytelling has been important in every era, the latest example of which is the Harry Potter series, he said.  Presiding over the session via video link, renowned writer and broadcaster Raza Ali Abidi welcomed the technology in children’s literature and said that we should benefit from modern technology in children’s mindset.  He said that we have to work on bad time stories, before libraries and songs in children’s literature.  Announcing the publication of the magazine is welcome.


13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک صدی“ کے عنوان سے منعقد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پہلا اجلاس ”اردو افسانے کی ایک صدی“ کے عنوان سے منعقد کیاگیا جس میں معروف اہل قلم شخصیات نے افسانے کے حوالے سے مختلف موضوعات پر گفتگو کی،اجلاس کی نظامت اختر سعیدی نے کی، زاہدہ حنا نے ”عصری حسیت اور جدید ا ±ردو افسانہ “کے حوالے سے کہاکہ ادیب ادب کے ذریعے سماج کی صورت حال سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا ہے، وہ ادیب اور دانشور جو ادب کو ایک کاری ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ کبھی بھی درباروں میں اپنی جگہ نہیں بناتے بلکہ ان کا کام لوگوں تک سچائی اور حقائق کو اس کی اصل شکل میں پہنچانا ہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے سماج میں روشن خیالی سے تنگ نظری کی طرف واپسی ہوئی ہے جس کی جھلک قرة العین حیدر اور دیگر افسانہ نگاروں کے افسانوں میں نظر آتی ہے، ساجد رشید کی کہانی تو اس پس منظر میں ناقابلِ فراموش ہے، صبا اکرام نے ”معاصر افسانے کے تخلیقی اسالیب“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلوب عربی کا لفظ ہے جسے رائج الوقت ا ±ردو میں اسٹائل کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اسلوب کہیں باہر سے تھوپا نہیں جاتا بلکہ وہ ایک تخلیق کار کے خود اندر سے پھوٹتا ہے، انہوں نے کہاکہ ہم عصر زبانوں میں جو اسالیب نظرآتی ہیں وہ تخلیق سے ہی نکلتی ہیں، ایک تخلیق کار جو محسوس کرتا ہے وہی اس کے اسلوب میں بھی نظر آتا ہے، امجد طفیل نے ”اردو افسانہ: حقیقت، علامت اور جدیدیت کے تناظر میں“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ادب اور ثقافتی زندگی کو باہر رکھنا ضروری ہے اور وہ لوگ قابلِ قدر ہیں جو نامساعد حالات میں بھی ادب اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی سب سے نمایاں ہے، انہوں نے کہاکہ اردو افسانے کا سفر 117برس پر محیط ہے، 1930ئ کی دہائی میں افسانے نے ایک کروٹ لی، ترقی پسند تحریک اور حلقہ اربابِ ذوق سے وابستہ لوگ حقیقت نگاری کے نظریے کو مکمل کرتے ہیں،۱نہوں نے کہاکہ انسانی کردارجس طرح انسانی معاشرے کے بغیر بیان نہیں کیے جاسکتے اسی طرح انسانی معاشرت کو بھی بغیر انسانی کردارکے بیان نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کا قیام ایک سنگ میل ہے جس کے فوری بعد ردِعمل کے طور پر فسادات کے پس منظر میں لکھے گئے افسانے سامنے آئے بعد ازاں انتظار حسین نے ا ±ردو افسانے کی تاریخ کو بدل دیااور وہ مواد جسے سمجھا جاتا تھا کہ یہ افسانے کے لیے نہیں ہے اسے بھی اپنے افسانوں کا موادبنادیا، انہوں نے کہاکہ 1980ئ کی دہائی میں جو لوگ سامنے آئے ان میں امتزاجی رنگ نظر آتا ہے ان لوگوں نے مختلف رنگوں کو اپنے افسانوں میں جمع کیا انہوں نے کہاکہ 21ویں صدی میں ہمیں آج کی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے نئی جمالیات کی ضرورت ہے، کوئی بھی تخلیق کار اپنے اصل کلچر سے جڑے بغیر کوئی بھی بڑا کام نہیں کرسکتا، اگر ہم اردو افسانے کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو میری نسل کے لوگ یہ کام کرکے دکھائیں، ناصر عباس نیر نے”اردو میں مزاحمتی افسانہ “کے موضوع پر لاہور سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لکھنے کا عمل بجائے ایک خود مزاحمت ہے اگر یہ بات مان لی جائے تو یوں محسوس ہوگا کہ ادب صرف مزاحمت پر ہی مبنی ہوتا ہے جوکہ درست نہیں، 1857ئ کی جنگ ِ آزادی میں لکھنے والوں کا رنگ رجعت پسندانہ تھا ، انہوں نے کہاکہ ادب زبان کی سطح پر مزاحمت کرتا ہے اور بغاوت پورے نظام کے خلاف ہوتی ہے جبکہ مزاحمت محض چند پالیسیوں کے خلاف ہوسکتی ہے ،انہوں نے کہاکہ تین طرح کی مزاحمت ادب میں ہمیں ملتی ہیں ایک دانش وارانہ مزاحمت، دوسری ثقافتی مزاحمت اور تیسری ادبی مزاحمت، جب جبر کی شکل زیادہ ہوجائے تو اس سے نکلنے کے لیے یہ تینوں مزاحمتیں کام آتی ہیں، اخلاق احمدنے ”اردو افسانے کے سماجی و ثقافتی سروکار“کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ افسانے اور سماج کا رشتہ دائمی رہا ہے سماج سے ہی افسانے نے جنم لیا ہے، افسانہ سماج سے اس لیے جڑا ہوا ہے کہ اس میں ہماری محرومیوں کا ہر رنگ نظر آتا ہے ہمارے یہاں افسانے کا ثقافت سے رشتہ زیادہ مضبوط ہے اس لیے ہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ سماج کی عکاسی ایک مسلسل عمل ہے جو تاریخ کا حصہ ہے، لمحہ موجود میں افسانہ نگاروں کے لیے نئے مطالبات جنم لے رہے ہیں، بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں، سماج اور ثقافت مستقل تبدیل ہورہے ہیں اور گلوبل ثقافت اب عام ہورہی ہے، اس طرح آگہی کے ہزاروں در کھل چکے ہیں مگر ساتھ ساتھ مقامی ثقافت ختم ہورہی ہے اور عالمگیر ثقافت اپنی جگہ بنانے کے لیے تیار نظر آتی ہے، انہوں نے کہاکہ یہ سماج سروں کو کاٹنے، دہشت گردی کرنے اور ریپ کرنے والوں کا ہے جہاں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں مگر سفاک حالات ہی میں بڑا ادب پیدا ہوا ہے،انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ ہمارا افسانہ نگار اس موجودہ دور میں بھی چراغ جلانے کی کوششوں کوجاری رکھے گا، زیب اذکار حسین نے ”اردو افسانہ اور ہماری سیاسی تاریخ“کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اردو افسانوں کو عام طور پر اپنے ارتقائی مراحل کے حساب سے منشی پریم چند کے ہاں دیکھا جاسکتا ہے، سجاد ظہیر کا افسانہ ”د ±لاری“ سماج پر چوٹ کرتا ہے جبکہ ان ہی کا دوسرا افسانہ ”گرمیوں کی رات“ بھی گہری چوٹ لگاتا نظر آتاہے اور یہ سب سجاد ظہیر کے گہرے مشاہدات اور تجربات پر مبنی افسانے تھے، انہوں نے کہاکہ کرشن چندر، حیات انصاری، علی عباس، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، مرزا ادیب، حمید اختر، خدیجہ مستور، حاجرہ مستور اور دیگر کے نام اس ضمن میں اہم نظر آتے ہیں، انہوں نے کہاکہ احمد ہمیش کا افسانہ ”مکھی“ میں بھی معاشرے کی تنزلی کی آخری حد پیش کردی گئی ہے اسی طرح قدرت اللہ شہاب کے ”شہاب نامہ“ میں بھی بہت تفصیل کے ساتھ ذکر ہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں جو سیاسی صورت حال رہی اس میں ہماری تخلیقات سے کچھ نہ ہوا مگر میں نوجوانوں میں بڑے امکانات دیکھ رہا ہوں جبکہ خواتین افسانہ نگار بھی بہت عمدہ افسانے لکھ رہی ہیں انہوں نے کہاکہ افسانے کا ارتقائ کبھی رک نہیں سکتا، اقبال خورشید نے ”دہشت گردی اور اردو افسانہ“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انسان مرگیا تو کہانی نے جنم لیا، ادب موضوعات سے نہیں اسلوب سے بنتا ہے، کسی بھی بڑے واقعے کو فوری کہانی بنانا لکھنے والے کو الجھا سکتا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کے قیام کے بعد درپیش صورت حال پر منٹو، بےدی، انتظار حسین اور ان کے ہم عصروں نے بہت کچھ لکھا ہے، انہوں نے کہاکہ کہانی کار ان افراد تک ہی رسائی پا سکتا ہے جن کی سوچ اس سے مختلف ہوتی ہے، ادب اور ادیب بے قدری کاشکار ہوئے ہیں اگر یہ عالمی اردو کانفرنس نہ ہوتی تو ادیب کو بھلایا جاچکاہوتا اور یہ سب سے بڑی دہشت گردی ہوتی، انہوں نے کہاکہ ہرشخص ایک کہانی ہے اور ہرشخص سے وابستہ دوسرا شخص بھی کہانی ہے مگر کہانی کار ہی ماراگیا تو پھر کہانی کون لکھے گا؟

خبرنمبر۔2

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز ”اردو غزل کے سو سالہ منظر نامے“کے حوالے سے نشست کااہتمام

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز ”اردو غزل کے سو سالہ منظر نامے“کے حوالے سے نشست سجائی گئی، معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے اپنے مقالے میں غزل کا مابعد جدید تناظر میں جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ غزل ہماری تہذیب کا اہم عنصر رہی ہے تاہم حالیہ دور جدید میں مشینی زندگی نے غزل کا مزاج تبدیل کردیا ہے ، معروف شاعرہ اور نقاد رخسانہ صبا نے اردو ادب میں طرز احساس کی تبدیلیوں کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں غزل میں حسن و عشق سے ہٹ کر دیگر موضوعات شامل کردئے گئے تھے، تاہم موجودہ دور میں غزل میں جدیدیت کا عنصر نمایاں دکھائی دیتا ہے، فیض سمیت دیگر ہم عصر شعرا نے اپنی غزلوں میں سیاسی اور سماجی عناصر کو شامل کرکے غزل کا انداز اور احساس ہی بدل دیا ، جدید غزل کے دور میں کچھ شعرا نے غزل میں مضحکہ خیز عناصر شامل کئے تاہم ان تجربات کو پذیرائی حاصل نا ہوسکی ، فہیم شناس کاظمی نے ”اردو غزل اور سماجی رویے“ سے متعلق اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزل ہماری تہذیب کی شان اور اردو شاعری کی عظیم علامت ہے، انہوں نے کہا کہ رواں صدی کے آغاز پر غزل کی تشریحات میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئیں ، ڈاکٹر شاداب احسانی نے ”غزل اور ہمارے تہذیبی تشخص کی بازیافت“ کے موضوع پر اپنے پیش کردہ مقالے میں کہا کہ ہندوستان میں اردو زبان کو تہذیبی بنانے میں غزل نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ دیگر علاقائی زبانوں میں غزل کا کہا جانا معاشرے کی ہم آہنگی کا سبب ثابت ہوا ، ڈاکٹر ضیا الحسن نے لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے ”اردو غزل پر جدیدیت کے اثرات“ پر اپنا نکتہ نظر پیش کیا ، انہوں نے کہا کہ موجودہ جدید دور کے نقوش صدیوں پہلے ہی غالب کی غزلوں میں نمایاں ہیں ، بعد میں غزل کا یہی رنگ و روپ اقبال سمیت دیگر شعرا کے کلام میں بھی ظاہر ہوا ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ غزل کے تخیلاتی عنصر کے مقابلے میں موجودہ غزل میں فکر کا عنصر نمایاں رہا۔ گفتگو کی نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے انجام دیے۔

خبرنمبر۔3
آرٹس کونسل کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روزتیسرے اجلاس ”یادِرفتگاں“ کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روزتیسرے اجلاس بعنوان ”یادِرفتگاں“ سے مختلف مقررین نے اُن شخصیات کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی جو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے ہیں، اجلاس کی نظامت ندیم ظفر صدیقی نے کی، معروف افسانہ نگار اور کئی کتابوں کے مصنف مسعود مفتی مرحوم پر گفتگو کرتے ہوئے محمد حمید شاہد نے کہاکہ مسعود مفتی سے ان کی ملاقات ایک ماہ قبل ہی ہوئی تھی وہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے ادب سے وابستہ رہے 1971ءمیں انہوں نے مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی دیکھا، یہ واقعہ دیکھنے کے باوجود اپنا حوصلہ نہیں ہارا، انہوں نے کہاکہ مسعود مفتی کی ترجیح افسانہ تھی، ان کی ہر کتاب قومی ادب کا ایک باب ہے، ان کے افسانے، ڈرامے، ناول اور یادداشتیں قارئین کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور ہمیشہ سچائی کے ساتھ لکھا، خالصتاً حقیقت نگار بن جانا کوئی عیب نہیں ہے انہوں نے جو بھی لکھا چاہے وہ افسانہ ہو یا ناول اس میں سچ ہی شامل رہا، مظہر محمود شیرانی مرحوم پر گفتگو کرتے ہوئے رﺅف پاریکھ نے کہاکہ مظہر محمود شیرانی قدیم علوم کے واقعتاً مظہر تھے انہیں اپنی زندگی میں دو بڑے کام کرنا تھے جن میں سے ایک کام تو وہ پایہ تکمیل تک پہنچا چکے ہیں اور وہ کام تھا اپنے عظیم دادا کے علمی خزینے کو چھپوانا، مظہر محمود شیرانی نے اسے دس جلدوں میں مرتب کیا اور جس طرح کیا یہ واقعتاً انہی کا حصہ تھا ان جلدوں میں ان کا اپنے دادا پر کیاگیا پی ایچ ڈی مقالہ بھی شامل ہے انہوں نے کہاکہ دوسرا کام جو وہ نہیں کرسکے وہ یہ تھا کہ اپنی ملازمت کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں فارسی زبان کی لغت مرتب کرنے کے لیے رکھا گیا تین جلدیں چھپ چکی تھیں اور اس کے بعد چوتھی اور پانچویں جلد مل کر آنی تھی مگر زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ سرور جاوید مرحوم پر گفتگوکرتے ہوئے پیرزادہ سلمان نے کہاکہ سرور جاوید مرحوم 1947ءمیں پیدا ہوئے تھے شاعری اور تنقید میں ان کا بڑا نام ہے معاشرے افراد سے بنتے ہیں اور افراد طرح طرح کے ہوتے ہیں ان میں کچھ تلخ ہوتے ہیں اور کچھ نرم خو ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم سب خواب دیکھتے ہیں مگر شاعر وادیب معاشرے کے لیے خواب دیکھتے ہیں، انہوں نے کہاکہ میں سوچتا ہوں کہ سرور جاوید سیماب صفت جیسے شخص کو کونسا ادارہ اپناتا یا وہ کس ادارے کے لیے قابلِ قبول ہوتے مگر المیہ یہ ہے کہ آج سرور جاوید پر بات کرنے کے لیے پہلے ان کو مرنا پڑا، پروفیسر عنایت علی خان مرحوم پر گفتگو کرتے ہوئے شکیل خان نے کہاکہ پروفیسر عنایت علی خان 85برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جبکہ ان کی زندگی کا آغاز 1935ءمیں ہوا، 1948ءمیں انہوں نے ہجرت کی اور سندھ کے شہر حیدرآباد میں مستقل سکونت اختیار کرلی، غربت، مسائل اور شرافت ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہی وہ تدریس کے پیشے سے وابستہ تھے اور آخر تک اسی پیشے سے منسلک رہے، انہوں نے کہاکہ 1970ءمیں آپ نے مزاحیہ شاعری کا آغاز کیا اور بعد ازاں مشتاق احمد یوسفی کے کہنے پر ”عنایات“کے نام سے مجموعہ کلام سمیت 6کتابیں اور بھی شائع کرائیں، ہندوستان کے نامور شاعر راحت اندوری مرحوم پر گفتگو کرتے ہوئے عنبرین حسیب عنبر نے کہاکہ موجودہ وباءکے بعد جب انسانوں کا شمار ہوگا تو معلوم ہوگا کہ اس سال کئی قدآور بڑے بڑے ادباءاور شعراءہم سے روٹھ گئے ہیں، کوئی کہیں بھی رہتا ہو مگر جب وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو آنکھ ہماری بھی روتی ہے، جونیئرز کے ساتھ ان کا رویہ بہت پُرشفقت تھا انہوں نے کہاکہ راحت اندوری کی باڈی لینگویج ان کے کلام کو سہارا دیتی تھی ان میں خود کا تمسخر اڑانے کا بڑا حوصلہ تھا، انہوں نے بھارت کی فلموں کے لیے کئی مقبول گیت بھی لکھے جب وہ مشاعرے میں آتے اور جب پڑھ کر جاتے تو مشاعرہ ان کے ساتھ ہی ختم ہوجایا کرتا تھا انہوں نے کہاکہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ راحت اندوری کا آخری انٹرویو میں نے کیا تھا،اطہر شاہ خان(جیدی) مرحوم پر گفتگو کرتے ہوئے عمران شیروانی نے کہاکہ اطہر شاہ خان جیدی سے ٹیلی ویژن کے ذریعے بہت ہی کم عمری میں میرا ان سے تعارف ہوگیا تھا اس زمانے میں ٹیلی ویژن پر ”لاکھوں میں تین“ پروگرام کے ذریعے میں انہیں پہچانا اس وقت میری عمر بھی تقریباً پانچ سال ہی کی تھی انہوں نے کہاکہ اطہر شاہ خان نے لاہور میں فلم انڈسٹری کے لیے بڑا کام کیامگر جو شہرت انہیں کراچی آکر ”انتظار فرمائیے“میں جیدی کے کردار سے ملی اس کا کوئی حساب نہیں، انہوں نے کہاکہ جیدی کا کردار ان کو اتنا بھایا کہ شاعری میں بھی انہوں نے ”جیدی“ ہی تخلص رکھ لیا، کراچی میں انہوں نے بہت تھیٹرز کیے ساتھ ساتھ ریڈیو پر بھی انیس سال تک ”رنگ ہی رنگ جیدی کے سنگ“ جیسا خوبصورت پروگرام بھی کیا، میں سمجھتا ہوں کہ ان کو چارلی چپلن سے کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

خبر نمبر۔4

آرٹس کونسل کراچی میں جاری چار روزہ تیرہویں عالمی اردو کانفرنس میں اردو زبان کے ساتھ ساتھ علاقائی زبانوں کے مختلف سیشنز کا ا نعقاد

.کراچی() آرٹس کونسل میں سجی تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پشتو زبان و ادب کے سو برس کے عنوان سے نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی میزبانی ڈاکٹر فوزیہ خان نے کی۔نشست کے مہمان معروف پشتو ادیب اباسین یوسف زئی تھے۔ پشتو ادب کی تاریخ بیان کرتے ہوتے معروف پشتو شاعر اور نقاد اباسین یوسف زئی نے کہا کہ پشتو ادب کا آغاز گزشتہ صدی کے اوائل میں ہوگیا تھا اور پشتو افسانے اور ناول منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ، جبکہ پشتو شاعری کا سفر بھی اپنی صدی پوری کرچکا ہے جس میں خدائی خدمتگار تحریک کے دور میں نمایاں کام سامنے آیا ، انہوں نے کہا کہ اوائل میں پشتو ادب پر فارسی کا رنگ نمایاں رہا تاہم بعد کے ادیبوں اور شعرا نے اپنے کلام میں پشتو کا اصل رنگ پیش کرکے پختون معاشرے میں اپنے روابط مضبوط کیے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے مزاحمتی شاعری کے سبب پشتو شاعری لہولہان ہو چکی ہے اب اس میں اب لطافت کا حسن درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پشتو ادب میں انسان دوستی اور امن کا عنصر نمایاں ہے جو خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم مختلف زبانوں کے تراجم پڑھیں۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں بچوں کو علاقائی زبانیں پڑھائی جانی چاہیے۔ اس موقع پر اباسین یوسف زئی نے اپنی غزلوں کے چند اشعار حاضرین کے گوش گزار کیے۔

The first meeting of the 13th International Urdu Conference organized by the Arts Council of Pakistan Karachi was held on the third day under the theme “A Century of Urdu Fiction” in which eminent writers discussed various topics related to fiction. Fiction Presided over by Akhtar Saeedi.
Zahida Hina, referring to “Modern Sensitivity and Modern Urdu Fiction”, said that a writer informs his readers about the state of society through literature, a writer and an intellectual who uses literature as a tool.
 They never make their place in the courts but their job is to convey the truth and facts to the people in their original form, he said, adding that in our society there has been a return from enlightenment to narrow-mindedness.
  Qurat-ul-Ain Haider and other fiction writers, Sajid Rashid’s story is unforgettable in this context, Saba Ikram while discussing the topic of “Creative styles of contemporary fiction” said that style is an Arabic word which  Currently used in Urdu in the sense of style.
He said that style is not imposed from outside  Rather, it emanates from within a creator himself.
He said that the styles that appear in contemporary languages come from creation itself. What a creator feels is also seen in his style, said Amjad Tufail.
 Talking on the topic of “Urdu Fiction: In the Context of Reality, Symbolism and Modernity”, he said that it is important to keep literature and cultural life out and those who are promoting literature and culture even in unfavorable conditions are valuable.
Arts Council of Pakistan Karachi is the most prominent.
He said that the journey of Urdu fiction spans 117 years. In the 1930s, fiction took a turn for the worse. People associated with progressive movement and circle of taste masters complete the theory of realism.
 He said that just as a human character cannot be described without human society, so human society cannot be described without human character.
The establishment of Pakistan is a milestone that was immediately written in the wake of riots in response.  After the fiction came to light, Intezar Hussain changed the history of Urdu fiction and the material that was considered  That it is not for fiction, he also made it the content of his fictions.
 He said that the people who came forward in the 1980s have mixed colors. They combined different colors in their fiction. He said that in the 21st century we have today.  New aesthetics are needed to express the reality of, no creator can do any great work without being connected to his original culture, if we want to see Urdu fiction alive, people of my generation should do it, Nasir  Talking online from Lahore on the topic of “Resistance Fiction in Urdu”, Abbas Nair said that some people think that the process of writing is a resistance rather than a self-resistance.
  Based on what is not true, the color of the writers in the War of Independence of 1857 was reactionary, he said that literature resists on the level of language and rebellion is against the whole system while resistance can be against only a few policies.
 He said that there are three types of resistance in literature: intellectual resistance, cultural resistance, and third  Suppressed resistance, when the form of oppression increases, these three resistances come in handy to get out of it.  “Fiction is born. Fiction is connected to society because it shows every color of our deprivations. We have a stronger relationship with fiction culture, so we are connected to each other,” he said.  Reflection is a continuous process that is part of history, new demands are emerging for fiction writers in the present moment, fundamental changes are taking place, society and culture are constantly changing and global culture is now becoming commonplace, thus  Thousands of doors have opened but at the same time local culture is disappearing and global culture seems ready to take its place, he said, adding that it is a society of being headers, terrorists and rapists where hundreds of people go missing.  But great literature has been born in the face of cruel circumstances, he said, adding that he hoped that our novelist would light a lamp even in the present age.  Speaking on the topic of “Urdu Fiction and Our Political History”, Zeb Azkar Hussain said that Urdu fiction can generally be seen in the hands of Munshi Prem Chand in terms of its evolutionary stages, said Sajjad Zaheer.  The novel “Dulari” hurts the society while his other novel “Summer Night” also seems to hurt deeply and all these were based on the deep observations and experiences of Sajjad Zaheer.
 He said that Krishna Chandra, Hayat Ansari, names of Ali Abbas, Saadat Hassan Manto, Ismat Chughtai, Ahmad Nadeem Qasmi, Mirza Adib, Hameed Akhtar, Khadija Mastoor, Hajira Mastoor, and others seem important in this regard.  The last stage of degradation has been presented. Similarly, it is mentioned in great detail in Qudratullah Shehab’s “Shahabnameh”. He said that the political situation in our society has not affected our creations but the youth.  I see great potential while women novelists are also writing great fiction. He said that the evolution of fiction can never be stopped, Iqbal Khor  Talking on the topic of “Terrorism and Urdu Fiction”, Shaid said that when a person dies, a story is born. Literature is not made up of subjects but of style. Making any big event an immediate story can confuse the writer.
 He said that Manto, Bedi, Intezar Hussain, and their contemporaries have written a lot on the situation after the establishment of Pakistan. He said that the storyteller can only reach those who think differently.
 He said that if it was not for the International Urdu Conference, the writer would have been forgotten and this would have been the biggest terrorism. He said that every person is a story and every other person associated with it is also a story but the storyteller was killed.  Then who will write the story?

On the third day of the 13th International Urdu Conference held at Karachi Arts Council, a session was organized to mark the hundred years of Urdu ghazal.
In his essay, Haseeb Anbar, a well-known poet, reviewed ghazal in a post-modern context  However, mechanical life has changed the mood of ghazal in recent times.
 Well-known poet and critic Rukhsana Saba, while presenting an essay on the subject of changes in the style of feeling in Urdu literature, said that in the past ghazal has been  Other topics were added, but in the present era, the element of modernity is evident in a ghazal.
FAIZ CHANGED THE STYLE OF GHAZAL BY INDUCTING POLITICS.
 Faiz and other contemporary poets changed the style and feel of a ghazal by adding political and social elements in their ghazals.  In the era of ghazal, some poets added funny elements in ghazal but these experiences were not appreciated.
Appreciate Fahim Sahanas  Kazmi while presenting his essay on Urdu ghazal and social behavior said that ghazal is the glory of our civilization and Urdu poetry.
 A great sign, he said, was a major shift in the interpretation of ghazals at the beginning of this century  Dr. Shadab Ehsani in his essay on Ghazal and Recovery of Our Cultural Identity said that Ghazal played an important role in making Urdu language civilized in India, while Ghazal in other regional languages is called society.  Dr. Zia-ul-Hassan, while participating in a conversation via video link from Lahore, presented his point of view on the effects of modernity on Urdu ghazal.
He said that the impressions of the present modern era prevailed centuries ago.  They are prominent in ghazals. Later, the same form of ghazal appeared in the words of other poets including Iqbal. He said that the element of thought remained prominent in the present ghazal as compared to the imaginative element of the previous ghazal.  Nasira Zubair was the moderator of the talks.

On the third day of the 13th International Urdu Conference held at Arts Council of Pakistan in Karachi on the third day of the session titled “Memoirs”, various speakers highlighted the scholarly and literary services of those who have passed away. Nadeem Zafar Talking about the late Masood Mufti, a well-known novelist, and author of several books, Siddiqui said that he had met Masood Mufti only a month ago. He had been associated with literature for the last 60 years. In 1971, he visited ex-East Pakistan. He also said that Masood Mufti’s priority was fiction. Every book of his is a chapter of national literature. His fiction, plays, novels, and memoirs are deep in the minds of the readers. He lived a full life and always wrote with the truth. There is nothing wrong with being a pure realist. Whatever he wrote, whether it was fiction or a novel, was really included in it, Mazhar Mahmood Sherani used to talk about the late. Rauf Parikh said that Mazhar Mahmood Sherani was really a manifestation of ancient sciences There were two big things in his life, one of which he has completed and that was to hide his great grandfather’s treasure of knowledge, Mazhar Mahmood Sherani compiled it in ten volumes and how he did it In fact, he was a part of it. The volumes included his Ph.D. dissertation on his grandfather. He said that the other thing he could not do was to hire him to compile a Persian dictionary after his retirement. The last three volumes had been printed and then the fourth and fifth volumes were to come together but life was not faithful and they departed from this mortal world. Talking about the late Sarwar Javed, Pirzada Salman said that Sarwar Javed was born in 1947. He is a big name in poetry and criticism. Societies are made up of individuals and individuals are different. Some of them are bitter and some are soft-spoken. He said that we all dream but poets and writers dream for society. He said that I wonder which institution would adopt a person like Sarwar Javed Simba Sifat or for which institution he would be acceptable but the tragedy is that today He had to die first to talk about Sarwar Javed. Talking about the late Prof. Inayat Ali Khan, Shakeel Khan said that Prof. Inayat Ali Khan met his real creator at the age of 85 while his life started in 1935, 1948. He migrated and settled permanently in Hyderabad, Sindh. Poverty, problems, and nobility continued to accompany him. He was associated with the teaching profession and remained attached to it till the end. He said that in 1970 he wrote humorous poetry. Started and later at the request of Mushtaq Ahmed Yousifi called a collection called “Inayat” Talking about the late Rahat Andoori, the famous poet of India, Umm Haseeb Anbar said that after the current epidemic when human beings are counted, it will be known that many great writers and poets have left us this year. He lives anywhere but when he left the world, our eyes also cry. His attitude towards juniors was very compassionate. He said that Rahat Andoori’s body language supported his words to make fun of him. Encouraged, he also wrote many popular songs for Indian films. When he came to the mushaira and when he read it, the mushaira would end with him. He said, “I am honored to have the last interview with Rahat Andori.” Talking about the late Athar Shah Khan (Jedi), Imran Sherwani said, “I was introduced to Athar Shah Khan Jedi through a television at a very young age. At that time, on television,” three out of millions. “I got to know him through the program. I was about five years old at the time,” he said Ha Khan did a great job for the film industry in Lahore, but the fame he got from Jedi’s role in “Wait” came to Karachi. He said that he liked the Jedi’s role so much that even in poetry he did. Jedi “is his nickname. He did a lot of theater in Karachi and also did a beautiful program on the radio for 19 years like” Rang Hi Rang Jedi Ke Sang “. I think he should not be considered less than Charlie Chaplin.

Arts Council Karachi hosts four sessions of the 13th International Urdu Conference On the third day of the 13th International Urdu Conference, a session on the century of Pashto language and literature was organized at Karachi Arts Council. The session was hosted by Dr. Fauzia Khan. The guest of the session was renowned Pashto writer Abasin Yousafzai. Explaining the history of Pashto literature, well-known Pashto poet and critic Abasin Yousafzai said that Pashto literature began in the early part of the last century and Pashto fiction and novels began to emerge, while the journey of Pashto poetry also completed its century. He said that in the past, the color of Persian was prominent in Pashto literature, but later writers and poets presented the real color of Pashto in their speeches and made their connections in the Pakhtun society. Strengthening, he said that Pashto poetry has been bleeding due to resistance poetry for the last few decades, and now it needs the beauty of elegance. He said that now the element of philanthropy and peace is prominent in Pashto literature which is welcome. He said that we should read translations of different languages. I wish that children in Pakistan should be taught regional languages. On this occasion, Abasin Yousafzai recited some verses of his ghazals to the audience.

خبر نمبر۔5

تیرھویں عالمی اردو کانفرنس میں تیسرے روز پانچواں اجلاس ” پنجابی زبان وادب کے سوسال “ کے موضوع پر گفتگو

.کراچی( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری تیرھویں عالمی اردو کانفرنس میں تیسرے روز پانچواں اجلاس ” پنجابی زبان وادب کے سوسال “ کے موضوع پر منعقد ہواجس کی نظامت معروف اینکر عاصمہ شیرازی نے کی جبکہ ثروت محی الدین نے لاہور سے آن لائن، صغریٰ صدف، توقیر چغتائی اور بشریٰ ناز نے اظہارِ خیال کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ثروت محی الدین نے کہا کہ جب تک اسکولوں کی سطح پر پنجابی زبان نہیں پڑھائی جائے گی تب تک یہ زبان فروغ نہیں پا سکے گی جب اسکول کالجز اور یونیورسٹیز میں اقبال اور میر کو پڑھایا جاسکتا ہے تو بھلے شاہ اور وارث شاہ کو کیوں نہیں پڑھایا جاتا، انہوں نے کہاکہ اپنی ثقافت کو سنبھالنا اور محفوظ رکھنا لوگوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ ثقافت کے بغیر شناخت نہیں ہوتی، انہوں نے کہاکہ پنجابی ادب میں شاعری کو کافی حد تک جگہ ملی ہے مگر اس کے باوجود بھی پنجابی بولنے والے قلمکاروں نے زیادہ تر اردو ہی میں لکھا ہے،اگر ہم اپنے صوفیائے کرام کا پنجابی کلام بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ اسے اسکول کی سطح پر بچوں کو ان کی مادری زبان میں پڑھائیں، انہوں نے کہاکہ لوگوں کی سمجھ اور سوچ اپنی مٹی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کلچر اور مذہب دو علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں جب تک مذہب کو کلچر سے الگ نہیں کیاجائے گا مسئلہ جوں کا توں رہے گا، انہوں نے کہاکہ اسلام صوفیائے کرام کی وجہ سے پھیلا اور ان صوفیوں نے پہلے وہاں کے کلچر کو سنبھالا یہی وجہ ہے کہ درباروں میں آج بھی قوالیاں اور دیگر پروگرام جوش و خروش سے جاری ہیں اور یہ تمام ثقافتی پروگرام وہاں کی ثقافت سے جڑے ہوتے ہیں،صغریٰ صدف نے کہاکہ پنجاب میں مقامی زبان میں بڑا ادب اس لیے سامنے نہیں آسکا کہ انگریز جب بھی اور جہاں بھی گئے وہاں انہوں نے مقامی زبان کو بھی فوقیت دی مگر پنجاب میں ایسا نہیں کیاگیا، پنجابی کا قاعدہ اب عام جگہ تو دستیاب ہی نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ کسی بھی تخلیق کے لیے حقیقت، اپنی شناخت اور ثقافت سے جڑا ہونا بہت ضروری ہے،پنجاب اس وقت شناخت کے مسئلے سے گزر رہا ہے اور یہ سارا مسئلہ کلچر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ بسنت میں ڈھول بجائے جاتے ہیں جبکہ بھنگڑے بھی ڈالے جاتے ہیں اس ڈھول کی مخصوص آواز ہمیں خود بخود جھومنے پر مجبور کردیتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈھول کی آوازیں میری روح کے قریب ہیں، توقیر چغتائی نے کہاکہ قیام پاکستان سے قبل اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی جو سیاسی اتار چڑھاﺅ ہوئے اس عرصے میں ہونے والی پنجابی شاعری ہمیں ملتی ہے، جہلم کے علاقے کو ہی دیکھ لیں وہاں پنجابی زبان میں لکھنے اور کہنے والے بہت سے اہم نام سامنے آجائیں گے، انہوں نے کہاکہ فیض، جالب اور منیر نیازی نے بہت کچھ لکھا ان کی زیادہ تر مزاحمتی شاعری پنجابی زبان ہی میں ہے اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پنجابی زبان میں مزاحمتی شاعری زیادہ ہوئی ہے، انہوں نے کہاکہ جب سے پنجابی ثقافت کم ہوئی ہے شدت پسندی بڑھی ہے اب ہمارے بچے یورپی کلچر میں بس رہے ہیں، شدت پسندی کسی بھی قسم کی ہو وہ نقصان دہ ہے، انہوں نے کہاکہ پی ٹی وی کے پروگراموں میں نصرت فتح علی خاں کی پنجابی قوالیوں کو رات کے آخری پہر دکھایا جاتا ہے تو بھلا اس کو کون سنے گا مگر جب یہی پنجابی زبان کی صوفیانہ شاعری جدید انداز سے ہم آہنگ ہوکر میڈیا کے ذریعے ہمارے سامنے آئی تو پنجابی زبان کو بھی فروغ ملا، اس موقع پر بشریٰ ناز نے پنجابی زبان میں اپنی خوبصورت نظمیں بھی سنائیں۔


13ویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز نویں اجلاس ”پاکستان میں فنون کی صورت حال“ پر گفتگو

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز نویں اجلاس ”پاکستان میں فنون کی صورت حال“ پر فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف سے تعلق رکھنے والی شخصیات حسینہ معین، شیما کرمانی، شاہد رسام، امجد شاہ ، بی گل اور کاشف گرامی نے اپنے خیالات کا اظہار کیاجبکہ نظامت کے فرائض عظمیٰ الکریم نے انجام دیے، معروف ڈرامہ رائٹر حسینہ معین نے کہاکہ ادب میں انسان کی پہچان کی بات ہوتی ہے اور ڈراموں میں کرداروں کے ذریعے انسانوں کو پہچانا جاتاہے، آج کل ڈراموں کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ بغیر تحقیق کے کام ہورہا ہے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ کس طرح کے کردار سے کس طرح کے مکالمے کہلوانا چاہئیں، انہوں نے کہاکہ ہمارے زمانے میں جب ڈرامے بنائے جاتے تھے تو اس میں آپ کے اپنے گھر کا ماحول ہوتا تھا پھر اسی لحاظ سے کہانی بھی آگے بڑھتی تھی، اس وقت جو غلطی ڈراموں میں ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ جو ہمارا دل چاہتا ہے ہم وہی کرلیتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اگر یہ کردار غریب ہے تو اس کا انداز کیا ہونا چاہیے ہمیں اپنے ڈراموں میں عورت کو ذلیل کرنا اور کرانا ختم کرنا ہوگا میں نے اپنے ڈراموں میں عورت کو کبھی بھی تھپڑ مارتے ہوئے نہیں دکھایا کیونکہ اس عمل سے میں کیوں تمام مردوں کو ذلیل کروںسب ایسے نہیں ہوتے ، انہوںنے کہاکہ ڈرامے میں خاص احتیاط یہ کرنی پڑتی ہے کہ لوگ ان کرداروں کو اصل سمجھیں جب کردار قبول ہوگا تو بات آگے بڑھے گی، آج کے دور میں ڈرامے کی خرابی اس کا کمرشلائزڈ ہونا ہے، پی ٹی وی نے بہت عمدہ ڈرامے پیش کیے ہیں پی ٹی وی کا مجھ پر بہت احسان ہے اب موجودہ دور میں سب کمرشل ہوگئے ہیں کوئی ایک گھنٹے کے لیے کہیں جاتا ہے تو کوئی دو گھنٹے کے لیے کہیں اورجاتا ہے ، کام کوئی بھی ہو اس میں اخلاص کا ہونا ضروری ہے بھاگ دوڑ ضروری نہیں، معروف کلاسیکل رقاصہ شیما کرمانی نے کہاکہ پرفارمنگ آرٹ کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ تقریر اور اظہار کی آزادی ہو جو ہمیں میسر ہی نہیں ہے اس لیے یہ آرٹ آگے نہیں بڑھ رہا جب تک صحیح طرح سے سوچ کے اظہار کی آزادی نہیں ملے گی آرٹ آگے نہیں بڑھ سکتا، کلاسیکل آرٹ کا آگے بڑھنا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اسے پروموٹ ہی نہیں کیا جارہا، دو دن ڈانس سیکھنے والے تیسرے دن اپنے آپ کومکمل پرفارمر سمجھنے لگتے ہیں، انہوں نے کہاکہ تعلیم کا ہونا ضروری ہے مگر جس جس طرح تعلیم کم ہوتی جارہی ہے اسی طرح آرٹ اور کلچر بھی گرتا جارہا ہے، انہوں نے کہاکہ آرٹ وہ ہے جو انسان کو سوال کرنے پر ا ±کسائے جبکہ دوسری خوبی آرٹ کی یہ بھی ہے کہ وہ خود آپ کو محسوس کرائے، آپ کو روکے اور آپ کے دل کو چھو جائے، یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہمارا آرٹ عام لوگوں تک پہنچے ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اچھا آرٹ دیکھے مگر بدقسمتی سے ہم اپنے ملک کے لوگوں کو اچھا آرٹ نہیں پہنچا پارہیں، انہوں نے کہاکہ اگر یہ بات کی جائے کہ جس طرح کی ڈیمانڈ آئے گی اسی طرح کا آرٹ پیش کیا جائے گا تو اس پر یہ بات کی جاسکتی ہے کہ ڈیمانڈ کرنے والے کون لوگ ہیں یقینا یہ وہی پیسے والے لوگ ہیں جو ڈیمانڈ کرتے ہیں دیکھنے والے نہیں، اچھا دکھائیں گے تو لوگ اچھا دیکھیں گے اور اچھے کی ہی ڈیمانڈ کریں گے، انہوں نے کہاکہ تعلیم کے بغیر آپ ذمہ دار آرٹسٹ نہیں بن سکتے، کورونا کی وجہ سے پرفارمنگ آرٹ دنیا بھر میں ختم ہوچکا ہے، فلم اور ٹی وی بہت اہم میڈیا ہے ہم اس میڈیا پر ان لوگوں کو پرموٹ کیوں نہیں کرتے جو محنت کرکے سماج میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں انہوں نے فنون کے حوالے سے سیشن رکھنے پر آرٹس کونسل کراچی اور احمد شاہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، شاہد رسام نے کہاکہ سوفٹ امیج پیدا کرنے کا کام آرٹ کا نہیں ہے، آرٹ آپ کی روح پر جمی گرد کو صاف کرتا ہے تب ہی آپ ایک بہتر سماج اور سوسائٹی بنتے ہیں، انہوں نے کہاکہ آرٹ کی جدوجہد کا وقت صدیوں پر محیط ہوتا ہے، میری تربیت ایسے لوگوں میں ہوئی ہے جو آرٹ کو ونڈوآف چینج کے طور پر دیکھا کرتے تھے، آج کے دور میں جس کی پینٹنگز مہنگے داموں فروخت ہوجائیں وہی بڑا کہلاتا ہے جبکہ کم قیمت فروخت ہونے والی پینٹنگ کو لوگ ہلکا سمجھتے ہیں، یہ پیمانہ اشیائ کے لیے تو چل سکتا ہے مگر آرٹ کے لیے نہیں کیونکہ آرٹ کا پیمانہ وقت طے کرتا ہے، آرٹ وہی ہے جو انسان کو سوال کرنے پر ا ±کسائے، امجد شاہ نے کہاکہ ماضی میں ہم نے ایک عرصے تک ہر شعبے میں کمالات دکھائے ہیں پی ٹی وی پر ”پائل“ کے نام سے پروگرام بھی چلتا تھا آج کی نسل تو ہمارے کئی بڑے فنکاروں کو جانتی بھی نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ ماضی میں جن میوزک ڈائریکٹرز نے فلموں کے لیے کام کیا وہ لاجواب تھا اور ان کی موسیقی کو ہم نے بین الاقوامی سطح پر بھی بھیجا ہے، حسینہ معین کے زمانے میں ایک پوری ٹیم مل کر کام کرتی تھی مگر آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی سب کام خود کرکے سارا کریڈٹ لینا چاہتا ہے، انہوں نے کہاکہ کورونا کے زمانے میں ہم گھر بیٹھ کر ان پروگراموں اور فن کاروں کو سن اور دیکھ سکتے ہیں جن کو ہم نے پہلے نہیں سنا نہ ہی دیکھا، انہوں نے کہاکہ آج کی موسیقی اور گانے مقبول تو ہورہے ہیں مگر یاد نہیں رہتے جبکہ ماضی کی موسیقی اور گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں، بی گل نے کہاکہ جس طرح دیگر شعبہ جات تنزلی کا شکار ہوئے ہیں یقینا اس کے اثرات فنون پر بھی پڑے ہیں مگر ہمیں ناا ±مید ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج کی نشست جیسے پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتے رہیں تو یقینا بہتری آئے گی، انہوں نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ کوآپریٹ سیکٹر بھی اس میں شامل ہورہا ہے مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب وہ شامل ہوکر ہمیں یہ بھی بتائےں کہ ہمیں کس طرح کام کرنا ہے، اب تو اس قدر آسانی ہوچکی ہے کہ ویب کے ذریعے دنیا بھر کی چیزیں دیکھ کر ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، کاشف گرامی نے کہاکہ ہم ہر کام سب سے آخر میں کرنے پر تیار ہوتے ہیں، ہم نے اچھا کام ہمیشہ پابندیوں میں کیا ہے، گزشتہ 56سالوں میں ٹی وی نے رقص کو سب سے کم وقت دیا ہے جبکہ فلم بھی ٹی وی پر آنے کے بعد ہی مقبول ہوتی ہے، انہوں نے کہاکہ اب معیاری کام بھی نہیں ہورہاتو ہم دکھائیں گے کیا، اسکرپٹ لکھنے کے کام پر مارکیٹنگ کے لوگ بیٹھ گئے ہیں ہم ایک اینٹی آرٹ سوسائٹی ہیں اس کے باوجود بھی ہم یہاں تک پہنچے ہیں تو یہ ایک بڑی بات ہے ہم پھر اصنافِ سخن کے ساتھ ہر جگہ موجود ہوں گے۔

خبر نمبر10

13ویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز آخری سیشن میں ”محفل موسیقی“ کا انعقاد

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز اختتام پر ”محفل موسیقی“ کا انعقاد کیاگیا جس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آرٹس کونسل میوزک اکیڈمی (ACMA) بینڈ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، اس موقع پر گلوکار نمرہ رفیق، احسن باری، ارمان رحیم نے اپنی سریلی آواز کا جادو جگاتے ہوئے شرکاءکو جھومنے پر مجبور کردیا۔محفل موسیقی رات گئے تک جاری رہی۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

افتتاحی تقریب سے مہمان خصوصی صوبائی وزیر ثقافت وسیاحت سید سردار علی شاہ ،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ و دیگر کا خطاب

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہل علم و دانش نے کہا ہے کہ زبان کوئی بھی ہو نفرت نہیں محبت سکھاتی ہے اردو نے پوری دنیا میں محبت کا پیغام ہی پھیلایاہے۔ ادیبوں اور دانشوروں کو معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہئے۔ معاشرے میں ادب پورے سماج کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اردو زبان بادِ نسیم کی طرح سرحدوں کے آر پار چلتی ہے، اردو زبان کی جتنی ترقی اس صدی میں ہوئی پچھلی دو تین صدیوں میں نا ہوسکی۔ اردو زبان کو کچلنے کی جتنی کوشش کی گئی اس نے اتنی ہی ترقی کی۔ پاکستان کی کسی زبان کا اردو کے ساتھ جھگڑا نہیں ہے اردو کانفرنس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ادیبوں نے اپنی تخلیقات سے معاشرے پر کیا اثر چھوڑا اور آئندہ معاشرے کی رہنمائی کے لئے انہیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔مجلس صدارت میں زہرا نگاہ،پیر زادہ قاسم رضا صدیقی، زاہدہ حنا ،نورالہدی شاہ، حسینہ معین،پروفیسر سحر انصاری، قدسیہ اکبر،شاہ محمد مری، یوسف خشک جب کہ افتخار عارف، گوپی چند نارنگ اور یاسمین حمید نے ویڈیو لنک سے خطاب کیا۔ یہ عالمی اُردو کانفرنس آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں براہِ راست دیکھی گئی۔ عالمی اُردو کانفرنس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر ثقافت وسیاحت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ احمد شاہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ عالمی اردو کانفرنس کی شکل میں حقیقی پاکستان کی تشکیل کی کوشش کی۔ پاکستان کی چار اکائیاں انتظامی نہیں آئینی ہیں جن کی ہزاروں سال پرانی اپنی زبان و ثقافت ہے اور آرٹس کونسل کراچی کی اُردو کانفرنس ان ثقافتوں کو جوڑنے کی ہی ایک کڑی ہے یہی خواب پاکستان کی صورت میں ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے کبھی نفرت کی بات نہیں کی سندھ محبت کی سرزمین ہے۔انہوں نے کہاکہ اردو سب زبانوں سے بنی ہے اور آج زہرا نگاہ کی صدارت میں ساری زبانیں بولنے والے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اردو کے علاوہ تمام قومیتوں کی زبانوں کو بھی قومی زبانیں قرار دینا چاہئے دیگر زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے کا بل دس سالوں سے اسمبلیوں میں موجود ہے ایسا نا ہو کہ ہمیں پچھتانا پڑے، بھارت چھبیس زبانوں کو قومی زبان قرار دے سکتا ہے تو ہم چار زبانوں کو کیوں نہیں،صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ 13 سال پہلے یہ خواب دیکھا تھاجو کامیابی کے ساتھ جاری ہے مگر آج تیرھویں عالمی کانفرنس کے موقع پر رنجیدہ بھی ہیں کیونکہ اس کانفرنس میں بعض وہ لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں جو گزشتہ اُردو کانفرنسز میں موجود تھے،انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات کے تناظر میں زیادہ لوگوں کی شرکت سے اجتناب برتا گیا اور ہمارے بہت سارے ادباءاور شعراءاس عالمی اُردو کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کانفرنس میں شامل ہورہے ہیں کیونکہ ہم اپنی اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا پاکستان کی کسی زبان کا بھی اردو سے جھگڑا نہیں ہے بلکہ کچھ لوگ زبان کی بنیاد پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا مختلف زبانوں کے دانشوروں کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں سوائے نظریات کے،انہوں نے کہاکہ اس اردو کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ مختلف الخیال لوگ آپس میں مل کر بیٹھیں اور ہمیں یہ معلوم ہوسکے کہ فلسفیوں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقات سے معاشرے پر کیا اثرات چھوڑے اور آئندہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کورونا ختم ہونے کے بعد قومی ثقافتی کانفرنس بھی منعقد کریں گے۔ جوش ملیحہ آبادی، صادقین، مہدی حسن، کمال احمد رضوی اور دیگر ادیبوں اور دانشوروں اور فن کاروں کے نام پر آرٹس کونسل کراچی کے مختلف گوشوں کے نام رکھے جا رہے ہیں۔زہرا نگاہ نے اس موقع پر دنیا بھر میں پھیلی ہوئی موجودہ وباءکورونا کے حوالے سے اپنی دو خوبصورت نظمیں سنائیں، لاہور سے یاسمین حمید نے اپنا کلیدی مقالہ پڑھتے ہوئے کہاکہ ادبی عہد کی کوئی حد نہیں ہوتی 1920ءسے 1936ءتک کا زمانہ ایک عہد کے اختتام اور دوسرے کے آغاز کا زمانہ ہے،گوپی چند نارنگ نے کہا کہ ادیبوں اور دانشوروں کو معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہئے ، ادبیوں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے دونوں پہلوﺅں کو اپنے قاری تک پہنچائیں، انہوں نے کہاکہ میں بلوچستان میں پیدا ہوا ہوں اور میں نے میٹرک بلوچستان ہی سے کیا ہے، سرائیکی زبان دودھ کی پہلی دھار کی طرح میرے خون میں شامل ہوئی،کراچی آرٹس کونسل جو کام کر رہی ہے وہ پورے برصغیر کے لئے مثال ہے، افتخار عارف نے کہا کہ سب سے پہلے اپنی زبان اور اپنے لوگوں سے محبت کریں۔ پاکستان میں زبانوں کو سیاسی مسئلہ بنایا گیا۔ اردو ادب کی صد سالہ تاریخ میں بہت سے واقعات رونما ہوئے، پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ ادب کو جتنا فروغ اس صدی میں ملا اتنا پہلے کبھی نہیں ملا زبانوں کو پہلے کبھی اتنی توجہ نہیں ملی جتنی اس دور میں مل رہی ہے انسان اور جانوروں کے درمیان فرق محض ادب کا ہے اور ادب سکھانے میں زبانوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے معروف نقاد و شاعر شمیم حنفی نے کہاکہ ہمارے لیے اپنے اجتماعی ماضی کو قید خانہ بنا لینا ہر لحاظ سے مہلک ہوگا اور ہماری ادبی اور تہذیبی روایت کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں کو محدود اور منقسم کردے گا، ادب ،ثقافت اور فنون کے ساتھ اقتدار کے مراکز کا سلوک ہر جگہ ایک سا ہے، اس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ یہ اردو کانفرنس نامساعد حالات میں بہترین کارکردگی کا عملی مظاہرہ ہے، ادب انسان اور انسانیت کی فضیلیت کی بات کرتا ہے ادب کسی بھی زبان کا ہو انسان کی فضیلیت سے جڑا ہوگا،نور الہدی شاہ نے کہاکہ ہم برسوں سے نفرت کی وبا میں گھرے ہوئے ہیں اسی وبا سے بیمار ہوکر ہم نے مشرقی پاکستان کھو دیا نفرتوں میں کمی کا علاج صرف ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کے پاس ہے ادیبوں سے درخواست ہے کہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ نفرت کی آگ بجھائیں، زاہدہ حنا نے کہا کہ سرحدوں پر جنگ کے بادل اور عالمی وبا کے باوجود اردو کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے پاکستان میں تمام زبانیں بولنے والوں کو انکا حق ملنا چاہئے۔ شاہ محمد مری نے کہاکہ بلوچستان میں ادب کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں معاشرے کے سدھار کے لئے ادیبوں اور دانشوروں کو چوبیس گھنٹے کام کرنا ہوگا۔معروف ادیبہ حسینہ معین نے کہاکہ مجھے اردو زبان سے محبت ہے ،اردو ادب کو سو سال ہو چکے ہیں محبت کرنے اور بانٹنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا۔

Addressing the 13th International Urdu Conference organized by Arts Council of Pakistan Karachi, the scholars and intellectuals said that no matter the language, hatred does not teach love. Urdu has spread the message of love all over the world.  Writers and intellectuals should guide society.  In a society, literature goes hand in hand with the whole society.  The Urdu language moves across the borders like a breeze. The development of the Urdu language in this century has not been as great as in the last two or three centuries.  The more the Urdu language was crushed, the more it developed.  No language of Pakistan is in conflict with Urdu. The purpose of the Urdu Conference is to show what effect the writers have left on the society with their creations and what role they should play for the guidance of the future society.  Zada Qasim Raza Siddiqui, Zahida Hina, Noorul Hadi Shah, Hasina Moin, Prof. Sehar Ansari, Qudsia Akbar, Shah Muhammad Marri Yusuf Kushk while Iftikhar Arif, Gopi Chand Narang and Yasmeen Hameed addressed the video link.  The World Urdu Conference Arts Council of Pakistan Karachi was seen live on social media all over the world.  Syed Sardar Ali Shah, Provincial Minister for Culture and Tourism, who was the special guest at the World Urdu Conference, said that Ahmad Shah was credited with trying to create a real Pakistan in the form of the World Urdu Conference.  The four units of Pakistan are not administrative but constitutional. They have their own language and culture thousands of years old and the Urdu Conference of Arts Council Karachi is a link to unite these cultures. This is the dream our elders had in the case of Pakistan.  He said that Sindh has never spoken of hatred. Sindh is the land of love. He said that Urdu is made up of all languages ​​and today speakers of all languages ​​are sitting under the presidency of Zahra Nigah.  He said that besides Urdu, languages ​​of all nationalities should also be declared as national languages. A bill to declare other languages ​​as national languages ​​has been in the assemblies for ten years so that we do not have to regret that India can declare 26 languages ​​as national languages.  So why don’t we speak four languages, Arts Council President Ahmad Shah said that 13 years ago this dream was successfully carried out but today we are saddened on the occasion of the 13th World Conference because some people are not with us in this conference.  He said that due to the current situation, the participation of more people was avoided and many of our writers and poets are joining the conference through video link in this global Urdu conference as we have continued this tradition.  Wanting to keep alive, he said that no language of Pakistan is in conflict with Urdu but some people want to do politics on the basis of language.  He said that there is no difference of opinion among the intellectuals of different languages ​​except for ideas. He said that the purpose of this Urdu conference is to bring together people of different ideas and let us know that philosophers and writers have created a society with their creations.  But what impact should we have and what role should we play in improving the society in the future?  Josh Maleeha Abadi, Sadiqin, Mehdi Hassan, Kamal Ahmad Rizvi and other writers and intellectuals and artists are being named after different parts of the Arts Council Karachi.  Recite your two beautiful poems. Yasmeen Hameed from Lahore while reading his keynote dissertation said that there is no limit to the literary era. The period from 1920 to 1936 is the end of one era and the beginning of another. Gopi Chand Narang said that writers and  Intellectuals should lead the society. It is the great responsibility of the writers to convey both aspects of the society to their readers. He said that I was born in Balochistan and I did my matriculation from Balochistan. Seraiki language is milk.  Like the first stream of, joined in my blood, the work of Karachi Arts Council is an example for the whole subcontinent, Iftikhar Arif said that first of all love your language and your people.  Languages ​​have become a political issue in Pakistan.  Many events have taken place in the centenary history of Urdu literature. Prof. Sahar Ansari said that literature has never received as much attention in this century as it has before. Languages​​have never received as much attention as humans and animals are getting in this era  The only difference between them is literature and languages ​​have played a role in teaching literature.  Leading Indian critic and poet Shamim Hanafi said that capturing our collective past would be fatal in every way and would limit and divide both the history and geography of our literary and cultural tradition, with literature, culture and art.  The treatment of the centers of power is the same everywhere, it needs to be improved.  Prof. Dr. Pirzada Qasim Raza Siddiqui said that this Urdu conference is a practical demonstration of the best performance in adverse conditions. Literature speaks of the virtue of man and humanity. Literature of any language will be connected with the virtue of man, said Noorul Huda Shah.  “We have been plagued by the epidemic of hatred for years. We lost East Pakistan by being sick with the same epidemic. Only writers, poets and intellectuals have the cure for the decrease in hatred.  Zahida Hina said that despite the cloud of war on the borders and the global epidemic, the convening of the Urdu Conference is welcome. All language speakers in Pakistan should get their due.  Shah Mohammad Murree said that they are working for the promotion of literature in Balochistan. For the betterment of the society, writers and intellectuals have to work round the clock. Well known writer Hasina Moin said that she loves Urdu language.  The one who loves and shares is never disappointed.


کمشنر کراچی/چیف الیکشن کمشنر افتخار شلوانی نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سالانہ انتخابات برائے ۲۰۲۱ء- ۲۰۲۲ءاور جنرل باڈی اجلاس کے شیڈول کا اعلان کردیا۔‎

Chief election commissioner/ Commissioner Karachi Iftikhar Ahmed Shallwani announced the election of the year 2021-22 and the schedule of the general body meeting for the Arts Council of Pakistan Karachi.


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”تیرھویں عالمی اُردو کانفرنس“ 3 تا6دسمبر2020ءآرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی
تیرھویں عالمی اُردو کانفرنس کا انعقاد کورونا کی وباءکے پیش نظر محدود کیاگیا ہے، کانفرنس زیادہ تر ڈیجیٹل ہوگی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی گزشتہ بارہ برس سے عالمی اُردو کانفرنس کا کامیاب انعقاد کرتی آرہی ہے تاہم اس برس عالمی اُردو کانفرنس ہر سال کی نسبت مختلف ہوگی، کورونا کی وباءکے پیش نظر ”تیرھویں عالمی اُردو کانفرنس“ کا انعقاد محدود کردیاگیا ہے، کانفرنس زیادہ تر ڈیجیٹل ہوگی۔ بیرونِ ممالک مقیم ادیب ویڈیولنک کے ذریعے اُردو کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے تیرھویں عالمی اُردو کانفرنس کی تاریخ کا اعلان پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ تیرھویں عالمی اُردو کانفرنس 3تا 6دسمبر 2020ءآرٹس کونسل کراچی میں جاری رہے گی۔ کورونا کی وباءکے باعث پوری دُنیا کا ماحول تبدیل ہوچکا ہے ہم نہیں چاہتے کہ عوام کی صحت متاثر ہو، اسی لیے سوچ بچار اور انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کانفرنس کا انعقاد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کانفرنس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں، سندھی، بلوچی،سرائیکی ، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے، پروگرام میں بیادِ آصف فرخی کے علاوہ ممتاز شخصیات کے ساتھ سیشن بھی منعقد ہونگے جس میں انور مقصود اور ضیاءمحی الدین سمیت اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور معروف صحافی شامل ہیں۔ اُردو کانفرنس میں کتابوں کی رونمائی،نوجوانوں کا مشاعرہ، اردو نظم۔ سو برس کا قصہ،اردو ناول کی ایک صدی، نعتیہ اور رثائی ادب کی ایک صدی،سرائیکی زبان اور ادب، تاریخی جائزہ،بلوچی ز بان و ادب کے سو برس،پاکستان میں فنون کی صورتِ حال،ہمایوں سعید سے ملاقات،محفلِ موسیقی،اردو افسانے کی ایک صدی،اردو غزل کا سو سالہ منظر نامہ، یادِ رفتگاں،پشتو زبان و ادب کے سو برس، پنجابی زبان و ادب کے سو سال،ہماری تعلیم کے سو برس،کُلیاتِ جوش،اور پھر یوں ہوا (مظہر عباس)،اردو صحافت کے سو برس،اردو کا شاہکار مزاح(ضیاءمحی الدین)،عالمی مشاعرہ،اردو تنقید و تحقیق کے سو برس،اردو میں ایک صدی کا نثری ادب،یارک شائر ادبی فورم،بچوں کا ادب، سندھی زبان و ادب کے سو برس،ہمارے ادب اور سماج میں خواتین کا کردار،کہانی : ’زندگی سے پہلے‘سہیل احمد سے ملاقات اور انور مقصودپر سیشن منعقد ہوں گے۔کانفرنس میں مسعود قمر( سوڈین)، فرحت پروین(امریکہ)، طاہرہ کاظمی(مسقط)، غزل انصاری (یوکے) جبکہ زہرا نگاہ، اسد محمد خاں، کشور ناہید،افتخار عارف، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، حسینہ معین، شاہ محمد مری، زاہدہ حنا،نور الہدیٰ شاہ، یوسف خشک، شمیم حنفی، نعمان الحق، سحر انصاری، نجیبہ عارف، افتخار عارف، افضال احمد سیّد،وجاہت مسعود، فاطمہ حسن، عذرا عباس، عنبرین حسیب عنبر، مبین مرزا، شیر شاہ سیّد، امینہ سیّد،حارث خلیق، غزل آصف،تنویر انجم، ضیاءالحسن، فراست رضوی، ریاض مجید، نذیر لغاری،شیما کرمانی، شاہد رسام، شاداب احسانی، رﺅف پاریکھ، اباسین یوسف زئی، عاصمہ شیرازی، شہناز وزیر علی، انیس ہارون، غازی صلاح الدین، وسعت اللہ خان، وسیم بادامی، مسلم شمیم، سید مظہرجمیل، امداد حسینی، نورالہدیٰ شاہ، حسن منظر کے علاوہ مشہور و معروف شخصیات شرکت کریں گی۔ پریس کانفرنس میں سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی، خازن قدسیہ اکبر اور منور سعید کے ہمراہ اراکین گورننگ باڈی کی بڑی تعداد موجود تھی۔


کراچی( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کے انتخابات برائے سال 2021-2022ءکے حوالے سے پریس کانفرنس 26نومبر بروز جمعرات شام 4بجے آرٹس کونسل سبزہ زار میں ہوگی، جس میں کمشنر کراچی /چیف الیکشن کمشنر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی افتخار احمد شلوانی آئندہ ہونے والے انتخابات اور جنرل باڈی اجلاس کے شیڈول کا اعلان کریں گے۔دعوت نامہ

محترم ایڈیٹر،بیورو چیف، اسائنمنٹ ایڈیٹر ، رپورٹر اور فوٹو گرافرز

 السلام علیکم!

پروگرام : پریس کانفرنس ۔انتخابات برائے 2021-2022ئ
(آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی)

بریفنگ : کمشنر کراچی/چیف الیکشن کمشنر آرٹس کونسل آف پاکستان
افتخاراحمد شلوانی

بوقت : 4:00 بجے شام
بتاریخ : جمعرات26 نومبر 2020ء

بمقام : سبزہ زار ،آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی

میڈیا سے کوریج کی درخواست ہے۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی گورننگ باڈی کا اجلاس، اجلاس میں تیرھویں عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد سے متعلق فیصلے

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی گورننگ باڈی نے کوویڈ19- ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے اردو کانفرنس کو 3تا 6دسمبر 4روز تک آرٹس کونسل کی حدود میں کھلی جگہوں پر منعقد کرنے کی منظوری دے دی۔گورننگ باڈی کا اجلاس آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کورونا کی وجہ سے بیرونِ ممالک دانشور اور شاعر اس سال زیادہ تر ڈیجیٹل بات کریں گے تاہم اندرونِ ممالک مندوبین کو دعوت دی ہے کہ جو سہولت سے آسکتا ہے اُس کو خوش آمدید کہا جائے گا ۔ صدر آرٹس کونسل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کانفرس آرٹس کونسل کا برانڈ بن چکی ہے لہذا موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام تر ایس اُو پیز کے تحت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو آرٹس کونسل کے لان اور کھلی جگہوں پر منعقد کی جائے گی ۔آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو سراہا اور کہا کہ آرٹس کونسل نے گزشتہ 8سے10برسوں میں جو ترقی کی ہے اُس کی مثال پاکستان کے کسی دوسرے ادارے میں نہیں ملتی یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سربراہ ویژنری اور متحرک ہو گا تو ادارے ترقی کرتے ہیں چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔جنرل باڈی نے ممبر گورننگ باڈی بشیر سدوزئی کے بھائی سمیت دیگر انتقال کر نے والے ممبران کی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

Meeting of Governing Body of Karachi Arts Council was held, where decisions were taken regarding the convening of the 13th International Urdu Conference.

KARACHI: The Governing Body of Arts Council of Pakistan Karachi has approved the Urdu Conference to be held in open spaces within the premises of the Arts Council from December 3 to 6, following the COVID-19 SOPs. The meeting was presided over by President Mohammad Ahmad Shah. It was informed in the meeting that due to Corona, intellectuals and poets from abroad will speak mostly digitally this year. However, delegates from home and abroad are invited to welcome. Addressing the meeting, the President Arts Council said that “Urdu Conference has become the brand of the Arts Council.” The Governing Body of the Arts Council commended the President of the Arts Council Ahmad Shah and said that “The progress made by the Arts Council in the last 8 to 10 years is unparalleled in any other institution in Pakistan. It has been proven that whatever the circumstances, if the head is visionary and dynamic, the institutions will flourish.”

The Governing Body also expressed condolence to Bashir Saduzai’s Brother & other deceased members.


کورونا کی وباءکو مدنظر رکھتے ہوئے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا اہم فیصلہ

آرٹس کونسل کراچی کے معزز ممبران کے لیےخوشخبری،ممبران کی سال برائے 2019ءاور 2020ءکی سالانہ ممبر شپ فیس معاف کردی گئی ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( )آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی گورننگ باڈی نے COVID-19 کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ممبران کی سہولت کے لیے سال 2019ءاور 2020ءکی سالانہ ممبر شپ فیسں معاف کردی گئی ہے۔ تاہم وہ ممبران جنہوں نے سال برائے 2018ءاور اس قبل کی ممبر شب فیس ادا نہیں کی وہ 30 نومبر 2020ءسے پہلے ممبر شپ فیس کی مد میں اپنے واجبات کی ادائیگی کرکے  آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے انتخابات برائے 2020ءکی ووٹر لسٹ میں شامل ہوسکتے ہیں۔


An important decision of the Arts Council of Pakistan Karachi given in the Corona epidemic

Good news for the honorable members of Arts Council Karachi, the annual membership fee of the members for the year 2019 and 2020 has been waived, President Arts Council Muhammad Ahmad Shah

KARACHI: The Governing Body of Arts Council of Pakistan Karachi, keeping in view COVID-19, has decided that the annual membership fees for the year 2019 and 2020 have been waived for the convenience of the members. Therefore, the members who have not paid the membership fee for the year 2018 and earlier can join the voter list of Arts Council of Pakistan Karachi for 2020 by paying their dues in terms of membership fee before November 30, 2020.


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سینئر مصور عبدالحئی کی یاد میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا

سینئر مصور عبدالحئی ایسے انسان تھے جنہیں یاد رکھا جائے، ان کا فن لاجواب تھا ،بہت جلد آرٹس کونسل میں عبدالحئی کے فن پاروں کی نمائش کی جائے گی ، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) عبدالحئی نہایت نیک انسان تھے، انہیں کبھی بھولا نہیں جاسکتا،ان کے آخری وقت میں آرٹس کونسل نے ان کا بہت ساتھ دیا،بیماری میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑا، میں عبدالحئی کے تمام شاگردوں کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنے اُستاد کو اکیلا نہیں چھوڑا،ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے سینئر مصورعبدالحئی کی یاد میں کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبدالحئی کا فن لاجواب تھا،پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی عبدالحئی کے فن کی قدر دان ہیں،ان کے گھر میں عبدالحئی صاحب کے فن پارے آویزاں تھے۔ ان کے تکلیف کے وقت میں عزتِ نفس مجروح کئے بغیر آرٹس کونسل ان کے لئے جو کچھ کرسکتا تھا ہم نے کیا۔ اس موقع پر معروف مصور شاہد رسام نے کہا کہ عبدالحئی صاحب کے کام میں ایسی کشش نظر آتی ہے جو کسی واٹر کلر پینٹر کے کام میں نظر نہیں آتی، عبدالحئی صاحب فقیرانہ طبیعت کے مالک تھے، اُن کی زندگی کا مقصد صرف کام اور اپنے شاگردوں کو کام سکھانا تھا، عبدالحئی صاحب بہت عمدہ کام چھوڑ کر گئے ہیں۔تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنویر فاروقی نے کہا کہ واٹر کلرز کے ساتھ کھیلنے میں عبدالحئی بہت ماہر تھے ۔واٹر کلر کرنے والوں میں عبدالحئی کا نام سر فہرست ہے ۔اس موقع پر ثانی سید نے کہا کہ عبدالحئی کے کام پر جتنی بات کی جاسکے وقت کم ہی لگے گا،انہوں نے بہت زبردست شاہکار تخلیق کیے،ان کا کام مجھے ہمیشہ بہت حسین لگا۔اس موقع پر عبدالحئی کے شاگردوں نے ان کی یاد یں تازہ کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں مصور فرخ،امین،رستم،سلیم اختر و دیگر شامل تھے۔ تعزیتی اجلاس کی نظامت کے فرائض نعمان خان نے انجام دیے۔

A condolence meeting was held at Arts Council of Pakistan Karachi in memory of senior artist Abdul Hai

Senior artist Abdul Hai was a man to be remembered, his art was incomparable, and soon Abdul Hai’s works will be exhibited in the Arts Council, President Arts Council Muhammad Ahmad Shah

Karachi () Abdul Hai was a very good man, he will never be forgotten, the Arts Council supported him a lot in his last days, did not leave him alone in his illness, I salute all the students of Abdul Hai because he did not leave the teacher alone. These views were expressed by Arts Council President Muhammad Ahmad Shah at a condolence meeting held at Karachi Arts Council in memory of senior artist Abdul Hai. He said that Abdul Hai’s art was incomparable, PPP Chairman Asif Ali Zardari’s sister Faryal Talpur also appreciates Abdul Hai’s art, and Abdul Hai’s works were hanging in his house. We did what the Arts Council could do for them without hurting their self-esteem in their time of need. On this occasion, the well-known artist Shahid Rasam said that there is an attraction in the work of Abdul Hai Sahib which is not seen in the work of any watercolor painter. Addressing the condolence meeting, Tanveer Farooqi said that Abdul Hai was very good at playing with watercolors. Abdul Hai’s name is at the top of the list of watercolors. On the occasion, Sani Syed said that he created great masterpieces. I always found his work very beautiful. On this occasion, Abdul Hai’s students refreshed his memory. While expressing their views, including painters Farrukh, Amin, Rustam, Saleem Akhtar, and others. Noman Khan chaired the condolence meeting.


کراچی آرٹس کونسل کی جانب سے معروف طبلہ نواز سید شاہد علی کی یاد میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد
گزشتہ ادوار میں آرٹس کونسل میں فنکاروں کو وہ پزیرائی نہیں ملتی تھی جو آج مل رہی ہے ۔فنکاروں کی فلاح و بہبود کے لئے جو کچھ کرتا آیا ہوں اُمید ہے قابلِ قبول ہوگا، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) آرٹس کونسل کا کوئی بھی پروگرام شاہد علی کی پرفارمنس کے بغیر نہیں ہوتا تھا ،شاہد علی سے میرا رشتہ بھائیوں والا تھا، شاہد علی کو کرونا تھا لیکن مجھ سے صبر نہیں ہوا اُس کے باوجود میں مسجد گیا کیونکہ مجھے شاہد کے لئے جانا تھا۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے طبلہ نواز شاہد علی کے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تعزیتی اجلاس کا انعقاد کراچی آرٹس کونسل کی جانب سے آرٹس کونسل کے کورٹ یارڈ میں کیا گیا تھا۔خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مزید کہا کہ گزشتہ ادوار میں فنکاروں کو آرٹس کونسل میں وہ عزت نہیں دی جاتی تھی جو آج آرٹس کونسل کی جانب سے ملتی ہے ۔پہلے تو فنکار آرٹس کونسل کا ممبر تک نہ ہوتا تھا ،فنکاروں کو اس ادارے سے کبھی کوئی معاشی مدد حاصل نہیں ہوئی ۔الحمداللہ میں اتنا زیادہ شرمندہ نہیں ہوں کہ اتنے برسوں میں میں نے جو کوشش کی ہے وہ قابلِ قبول ہوگی۔تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معروف موسیقار اظہر حسین نے کہا کہ میری شاہد صاحب سے پہلی ملاقات 1981 ءمیں ہوئی ،جب میں بہت مشکل میں تھا رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ، شاہد صاحب نے مجھے اپنے پاس رہنے کی جگہ دی یہ وہ احسان ہے اُن کا مجھ پہ کہ میں اپنی قبر تک ساتھ لیکر جاو ¿نگا،شاہد بہت ایماندار آدمی تھا،آرٹس کونسل اور احمد شاہ نے ہم میوزیشنز کی بہت مدد کی ہے اور کرتے رہتے ہیں میں ان کا بہت مہربان ہوں اُنہوں نے ہی ہمیشہ پہچان دلوائی ہے ۔اس موقع پر سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ شاہد نے میوزک میں PHDکیا ہوا تھا ، وہ میوزک کے پروفیسر تھے ، شاہد بھائی انتہائی مخلص آدمی تھے اور ہمیشہ بہت محبت سے ملتے تھے۔تعزیتی اجلاس سے ڈاکٹر ہما میر،ارشدمحمود،ندیم جعفری،اُستاد محمود خان،عمران جاوید، سعادت جعفری، زیڈ ایچ فہیم،وقاص بابر، فیصل لطیف،محمد افراہیم،محمد علی،شہزاد حیدری، کاشف گرامی،اسجد بخاری اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شاہد علی کی یادیں تازہ کیں۔تعزیتی اجلاس کی نظامت کے فرائض نعمان خان نے ادا کیے۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں معروف شاعر و محقق اور گیت نگار ڈاکٹر آفتاب مضطر کے مجموعہ غزل ”ساحل پہ کھڑے ہو “ کی تقریبِ رونمائی کی گئی

کراچی ( ) آج کل کے دور میں محسوس ہوتا ہے کہ موبائل اور فیس بک نے شعر و شعری اور نثری نظم کے تلفظ ہی بدل دیے ہیں،کوئی کچھ نہیں جانتا ۔آفتاب مضطر کا مجموعہ کلام بہت زبردست ہے ۔اُنہوں نے ہمیشہ بہت ہی توجہ کے ساتھ اور اپنے آپ کو نمایاں کئے بغیر کام کیا ہے ۔ ان کے کام کی پزیرائی کے لئے محفلیں ہوتی رہتی ہیں اور مستقبل میں ہوتی رہنی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار معروف ادیب پروفیسر سحر انصاری نے کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام معروف شاعر و محقق اور گیت نگار ڈاکٹر آفتاب مضطرکے مجموعہ کلام ”ساحل پہ کھڑے ہو “ کی تقریب رونمائی سے کیا ۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ بہت کم ایسی محفلیں ہوتی ہیں جہاں آپ کو زندگی نظر آتی ہے اور آج کی یہ محفل اس بات کی غماز ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل ایسی محفلیں منعقد کرتا رہتا ہے جس پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کو سلام پیش کرتا ہوں ۔تقریب رونمائی کا انعقاد آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی(ادبی کمیٹی شعر و سخن) کی جانب سے کیا گیا تھا ۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر آفتاب مضطر نے کہا کہ جب میرا پہلا مجموعہ آیا تو وہ میری 38 سال کی محنت تھی ، نعتیہ مجموعہ تھا، جب بچہ بولنا سیکھتا ہے تو وہ مادری زبان سیکھتا پہلے ہے مگر بعد میں پڑھتا ہے اور یہی معاملہ فن و فکر کا ہے تو فکر اور فن شعر کی اساس ہیںوہ ایسی بنیاد ہیں جس پر ایک پختہ عمارت کھڑی ہوتی ہے ، میں نے ہمیشہ اپنے اساتذہ کے بتائے ہوئے راستوں کو اپنایا ہے ، میرے 5مجموعہ کلام ہیں اور 3 تنقید و تحقیق پر کتابیں ہیں، لیاقت آباد سے میرا سفر شروع ہوا ،600سے 800 غزلیں اب تک میں لکھ چکا ہوں۔اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب مضطر نے اپنے لکھے شعر اور غزل بھی سنائی جبکہ سید ایاز محمود،سہیل احمد،محسن رضا محسن، سجاد علی،شہزاد عالم،اجمل سراج،فہد مقصود،جاوید صبا،غزل انصاری اور ڈاکٹر رخسانہ صبا نے ڈاکٹر آفتاب مضطر کے گیت،شعر و غزل سنائیں۔تقریب میں ڈاکٹر آفتاب مضطر کے فن اور شخصیت کے حوالے سے ایک پیکج بھی چلایا گیا۔عنبرین حسیب عنبر اور ڈاکٹر آفتاب مضطر کے درمیان ایک زبردست مکالمہ بھی ہوا۔تقریب کی نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام


کراچی آرٹس کونسل میں فنِ قوالی کے فروغ کے لئے نو عمر قوال ”حافظ معیز صابری“ کے اعزاز میں قوالی نائٹ کا اہتمام
قوالی ہمارا ثقافتی ورثہ ہے جب تک اِسے نوجوانوں میں منتقل نہیں کریں گے یہ فن کبھی ترقی نہیں کرسکتا صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسٹیج شو کمیٹی کے تعاون سے پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے”حافظ معیز صابری قوال“کے اعزاز میں آرٹس کونسل کراچی لابی میں قوالی نائٹ کا انعقاد کیا جس میں نوعمر معیز صابری قوال نے اپنی آواز کا جادو جگاکر سب کو جھومنے پر مجبور کردیا،تقریب کے مہمانِ خصوصی سینئر سیاسی رہنما فاروق ستار تھے، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ امجد فرید صابری،غلام فرید صابری ،مقبول فرید صابری ہمارا قومی اثاثہ تھے، ان کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوگیاتھا، حافظ معیز کی آواز میں جوش ولولہ دیکھ کر خوشی ہوئی،انہوں نے مزید کہا کہ قوالی کی روایت 700برس پہلی ہے، یہ بھی ہمارا ایک ثقافتی ورثہ ہے اورجب تک ہم اسے نوجوانوں میں منتقل نہیں کریں گے تو یہ فن کبھی ترقی نہیں کرسکتا، اتنا شاندار پروگرام ترتیب دینے پر میں سعادت جعفری اور پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہاکہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے دروازے تخلیقی کاموں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔


کراچی آرٹس کونسل میں کشمیر سے اظہار یکجہتی پرمبنی تھیٹر ڈرامہ “پاکستان کی میں تقدیر ، نام میرا جموں کشمیر” پیش کیا گیا
افواج پاکستان اور پاکستانی قوم میں اتنی طاقت ہے کہ ہم کشمیر کو آزاد کرواسکتے ہیں،سیاسی رہنما فاروق ستار

کراچی ( ) 73 سال ہو گئے کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہے۔ نہتے کشمیریوں پر بھارت کے مظالم بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔پوری دنیا کے مسلم ممالک کو کشمیر کی آزادی کے لیے ہمارے ساتھ کھڑا ہو نا پڑے گا۔ن خیالات کا اظہار سیاسی رہنما فاروق ستار نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھیٹر ”پاکستان کی میں تقدیر ، نام میرا جموں وکشمیر“ کے دوارن کیا۔تھیٹر کا اہتمام ”ہیومن رائٹس کونسل اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی “ کے تعاون سے کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی آزادی کے لیے پوری دنیا کے مسلم ممالک کو ہمارے ساتھ کھڑے ہونا پڑے گا ،بھارت میں مودی اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ انتہا پسند ہے، انہوں نے کہاکہ ہمیں فخر ہے ہم رسول اکرم کے امتی ہیں، فرانس میں سرکاری عمارتوں پر گستاخانہ خاکوں کی بھرپور انداز میں مذمت کرتا ہوں ،یورپ میں پہلی بار ایسا گھناو ¿نہ واقعہ رونما ہوا ہے، فرانس کے صدر کو پیغام دیا جائے کہ ہماری معیشت کو جتنا بھی نقصان ہو جائے ہم فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے،تقریب میں معروف صنعتکار مرزا اشتیاق بیگ اور سیاسی رہنما سردار نذاکت نے بھی شرکت کی۔ ڈرامہ پاکستان کی میں تقدیر ، میرا نام جموں کشمیر کے رائٹر بشیر سدوزئی تھے۔ڈرامے میں کشمیری عوام کی آزادی کے لیے جدوجہد اور بھارتی مظالم کو فنکاروں نے اداکاری کے ذریعے پیش کیا، جسے شرکاءکی جانب سے بے حد سراہا گیا۔

Karachi Arts Council presents solidarity with Kashmir theatre drama “Pakistan ki Main taqdeer, Naam Mera Jammu Kashmir”

“The forces of Pakistan and the Pakistani nation have so much power that we can liberate Kashmir, said political leader Farooq Sattar”

Karachi (   ) Kashmir has been under Indian occupation for 73 years. India’s atrocities on unarmed Kashmiris are increasing. Muslim countries all over the world will have to stand with us for the independence of Kashmir. These views were expressed by political leader Farooq Sattar during the Arts Council of Pakistan’s Karachi Theater “Pakistan ki Main taqdeer Naam Mera Jammu Kashmir.

The theater was organized in collaboration with the Human Rights Council and the Arts Council of Pakistan Karachi.

He said that for the independence of Kashmir, Muslim countries all over the world have to stand with us. Modi in India and Donald Trump in the United States are extremists. He said that we are proud to be followers of Hazrat Muhammad Mustafa PBUH. I strongly condemn the blasphemous sketches, for the first time in Europe, such a heinous incident has taken place. Let the President of France be told that no matter how much damage is done to our economy, we will boycott French products.

Leading industrialist Mirza Ishtiaq Baig and political leader Sardar Nazakat also attended the event. The theater play was written by Bashir Saddozai.

In the play, the struggle for the freedom of the Kashmiri people and the Indian atrocities were presented by the artists through acting, which was highly appreciated by the participants.


جشن ولادت رسول ﷺ کی مناسبت سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری دو روزہ ”محسن انسانیت کانفرنس “ اختتام پزیر ہوگئی 
جو ہمارے نبی کا احترام نہیں کرسکتا ہم اُس کا احترام نہیں کریں گے، فرانس کی جانب سے نبی کی شان میں گستاخی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، مفتی محمد زبیر 

دین کی ترویج کے لئے علماءاکرام کا جذبہ قابلِ تحسین ہے ، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام دو روزہ ”محسن انسانیت کانفرنس “ کا انعقاد کراچی آرٹس کونسل میں کیا گیا ۔ کانفرنس میں ملک بھر سے جید علماءاکرام نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہاکہ علماءاکرام کے علم سے عوام کو دین کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔دین کی ترویج کے لئے جید علماءکا جذبہ قابلِ تحسین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دین کی سنجیدہ بات کو سننے کے لیے حاضری نسبتاً کم ہوتی ہے،ہم اس سلسلے کو ترک نہیں کریں گے چاہے سننے والا کوئی ایک کیوں نہ ہو،ملک بھر سے محسن انسانیت کانفرنس میں علماءکرام کی آمد خوش آئند بات ہے، دو دن اس خوبصورت محفل کے انعقاد پر علماءاکرام کے شکر گزار ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر مفتی محمد زبیر نے کہا کہ فرانس میں سرکاری عمارتوں پر گستاخانہ خاکوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔یہ سرکاری سطح پر گستاخی کا پہلا واقعہ ہے ۔ توہین کی اجازت کسی طور نہیں دی جاسکتی ۔ وزیر اعظم سرکاری سطح پر جواب دیں۔ کانفرنس ہال میں علماءاکرام سمیت شرکاءنے ہاتھ اُٹھا کر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مذمتی قرارداد بھی منظورکی۔ سیرت نبویّ پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی نے کہاکہ اگر ہم ا ±متی ہیں تو سن لیں ا ±متی ہونا بہت اعزاز کی بات ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”میرا ہر ا ±متی جنت میں جائے گا“بشرطیکہ وہ دین کی تعلیمات پر اپنی زندگی بسر کرے، فرانس میں جو واقعہ پیش آیا اس پرمذمت بہت چھوٹی چیز ہے آپ کی شان میں ہرزہ سرائی کی سزا صرف موت ہے کسی بھی اسلامی ملک کو ان کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر محسن نقوی نے کہاکہ معاشرے میں اگر کسی ایک سے بھی عشق کا رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا،انبیائے اسلام نے معاشرے کو آگے بڑھایا، ترقی دی، ارتقاءکی طرف لے کر گئے۔رضوان نقشبندی نے کہاکہ رسول اللہ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، ہمیں اختلافات کے ادب سیکھنے کے لیے آداب سیکھنے ہوں گے، مفتی عمران نے کہاکہ ہمارے مسائل کا حل کسی اسکالر کے پاس نہیں بلکہ قرآن مجید میں ہے ،ہمیں قرآن کو پڑھ اور سمجھ کر دل میں ا ±تارنا ہوگاکیونکہ اللہ اور اس کی رسول کی تعلیمات سے دل کو سکون ملتا ہے۔مفتی نذیر احمد قاسمی نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا خاصہ دین کی تبلیغ،دعوت اور ابلاغِ دین ہے موجودہ دور میں لادینیت سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں لیکن میں ممبر و محراب کو دوسرے مسالک کی نفی کے لیے استعمال نہیں کرتااور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم بدعات پر بات نہ کریںہمیں اپنے اندر برداشت کو پیدا اور نماز کی دعوت کو عام کرنا ہوگا۔”محسن انسانیت کانفرنس“ کا آغاز ملک کے معروف قاری اکبر مالکی کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا،معروف نعت خواں صدیق اسماعیل فیصل نقشبندی،صبیح رحمانی اورمحمد اسد ایوب نے اپنی خوبصورت آواز میں بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کیے،جبکہ نظامت کے فرائض انیق احمد نے انجام دیئے ،”محسن انسانیت کانفرنس “پوری دنیا میں براہِ راست دکھائی گئی ۔

The two-day Mohsin-e-Insaniyat Conference was held at the Arts Council of Pakistan Karachi on the occasion of Eid-e-Miladun Nabi (PBUH).

“We will not respect those who do not respect our prophet, we strongly condemn the insolence of the prophet from France’ said religious scholar Mohammad Zubair. “The spirit of religious scholars for the promotion of religion is commendable,” said the Arts Council President Muhammad Ahmad Shah

A two-day “Mohsin Insaniyat Conference” organized by Arts Council Karachi was held at Karachi Arts Council. The conference was attended by modern scholars from across the country. Addressing the conference, President Arts Council Ahmad Shah said that the knowledge of religious scholars would help the people to understand religion. The spirit of modern scholars for the promotion of religion is commendable. He said that the people are not interested in serious religious talks but we will not give up this regard even if there is only one listener. The arrival of scholars from all over the country at the Conference is pleasing. We are grateful to the scholars for organizing this beautiful gathering for two days.

 Leading religious scholar Mufti Muhammad Zubair said that he strongly condemned the blasphemous sketches on government buildings in France. This is the first incident of blasphemy at the official level. Insult cannot be allowed in any way. The Prime Minister should respond at the official level. Condemning this act in the conference hall, participants including scholars raised their hands in solidarity and passed a resolution. Scholar Mohammad Hammad Lakhvi said that this act of insulting our Prophet (PBUH) is not tolerable at any cost and Islamic countries should declare war against them.

Speaking on the occasion Dr. Mohsin Naqvi said that a strong society is based on the good relationship among their people. Without having good relationships with each other society cannot move forward. Mufti Imran Khan said that scholars don’t have the solutions for our problems but Quran has, we have to read and understand the Quran to get the right path. “We need to be more patient and more sincere towards the teachings of Islam,” said Ahmed Qasmi.

 The Mohsin-e-Insaniat Conference was inaugurated with the recitation of the Holy Quran by the country’s renowned scholar Akbar Maliki. Famous Naat Khuwan Siddiq Ismail, Faisal Naqshbandi, Sabih Rehmani & Muhammad Asad Ayub Recited Naats. The conference was moderated by Aneeq Ahmed.

دیے۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام بزم اساتذہ اردو سندھ کا آٹھواں یوم تاسیس منایا گیا

کراچی ( ) آصف فرخی نے شعروادب کی دنیا پہ اور معاشرے پہ جو تاثر چھوڑا ہے وہ بے مثال ہے ، وہ بہت عمدہ افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ نقاد بھی تھے ۔ نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ان کا بہت بڑا کردار رہا ،ان خیالات کا اظہار صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کراچی آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ” بزم اساتذہ اردو سندھ “ کے آٹھویں یومِ تاسیس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ آصف فرخی بہت جلدی چلے گئے ،میرا ان سے 40سال پرانا تعلق تھا ۔آصف فرخی کی کہانیاں انگریزی میں دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوئیں ۔وہ بہت اچھے اُستاد بھی تھے ۔ ان کا دنیا سے چلے جانا میرے لئے کسی سانحہ سے کم نہیں ۔ محفل کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ یوم تاسیس پر کوشش ہم یہی کرتے ہیں کہ کچھ ایسی سرگرمیاں ہو جس سے کچھ سیکھنے کا عمل ہو اور کوشش کرکے نئے لوگوں کو بلاتے ہیں تاکہ وہ آئیں اور تجربے کو سیکھیں اور اپنے اندر ایک چنگاری کو بیدار کریں یہی مقصد ہوتا ہے ۔ جن شخصیات کے بارے میں آج گفتگو کی گئی اُن میں سے ہر ایک شخصیت سے میرے بہت پرانے تعلقات ہیں۔میں آرٹس کونسل اور احمد شاہ کا شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے ہمیشہ اساتذہ کے لئے جو کام کئے اور کر رہے ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں ۔ بزم اساتذہ اردو سندھ کے صدر سید اسجد بخاری نے جو یہ محفل سجائی ہے اس کی بہت ضرورت تھی۔تقریب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا کہ بزم اساتذہ اردو سندھ کا یہ آٹھواں یومِ تاسیس ہے ۔ بزم اساتذہ اردو سندھ اعلیٰ ثانوی مدارس سے جامعات تک اساتذہ اردو کے حوالے سے کام کرتی ہے جس کا بنیادی مقصد فروغِ اردو کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے کو بہتر بنانا ہے ۔ اس موقع پر بزم اساتذہ اردو سندھ کے صدر سید اسجد بخاری اور محفلِ صدر ڈاکٹر ظفر اقبال نے اساتذہ کو ایوارڈ پیش کیے۔ اساتذہ میں شازیہ ظہور، صفدر علی خان انشاء،پروفیسر نجمی حسن اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نظم و اشعار بھی پڑھ کر سنائے ۔


کراچی آرٹس کونسل میں معروف سماجی رہنما اقبال علوی کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد
مظلوم انسانیت اور معاشرتی انصاف کے حصول کے لئے تاحیات جدوجہد جاری رہے گی ، سماجی رہنما اقبال علوی

کراچی ( ) جب تک آپ کے دل میں خلوص نہیں ہوگا آپ کی زبان میں اثر نہیں ہوگا اور جب زبان میں اثر ہوگا تو آپ کا مشن آگے بڑھے گا اور یہی تجربہ ہم نے گزشتہ 60 سالوں میں کیا اورآپ نے دیکھا کہ کس طرح ترقی پسند تحریک آگے بڑھی۔ان خیالات کا اظہار اقبال علوی نے آرٹس کونسل آف پاکستان میں اپنے اعزاز میں اعتراف خدمت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اقبال علوی نے کہاکہ میری خوشی قسمتی ہے کہ میری زندگی کے آخری سالوں میں تقریب پذیرائی میرے لیے منعقد کی۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ اقبال علوی ہر انسان کے د ±کھ درد میں شامل رہتے ہیں، ارتقائ کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اقبال علوی جیسے لوگ اسٹیج پر کم اور پس پردہ زیادہ کام کرتے نظر آتے ہیں، ڈاکٹر مبارک علی نے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اقبال علوی کی تمام زندگی سماجی و سیاسی کاموںمیں گزری انہوں نے بڑے خلوص کیساتھ یہ سارے کام انجام دیے ۔ منظور رضی نے کہاکہ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ زندگی میں ہی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروںکو وہ پذیرائی مل رہی ہے جن کہ وہ حق دار ہیں۔کرامت علی نے کہاکہ اقبال علوی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمت کبھی نہیں ہارنی چاہیے، ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا جو کام آپ صحیح سمجھتے ہیں ا ±سے آپ ہر حال میں جاری رکھیں۔ سلیم شیخ نے کہاکہ اقبال علوی صاحب ایک نظریاتی آدمی ہیں اور آج تک سماجیت کے نظریہ پر قائم ہیں، ا ±ن کی سوچ ہمیشہ اس معاشرے کے لوگ جو ظلم کی چکی میں پسے ہوئے تھے ان کے لیے تھی، ان کی 70سالہ زندگی کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر مرزا علی حیدر نے کہاکہ اقبال علوی نے جو سماجی خدمات اپنی زندگی میں دکھائی ہیں ہم اس سے بے حد متاثر ہوئے اور زندگی کے اس حصہ میں بھی کسی نہ کسی روپ میں ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں اور مستقل جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔ پروفیسر انیس زیدی نے کہاکہ اختلاف ہمیشہ زندہ انسان میں ہوتے ہیں اور اختلاف انسانی زندگی میں آگے بڑھنے کی علامت ہے، آج بھی ہم اقبال علوی کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ آج بھی ہم پیچھے ہیں، یہ وہ انسان ہیں جنہوں نے ترقی پسند انسان دوستی پر لوگوں کو آمادہ کیااور آج بھی ان کا یہ پیغام جاری ہے، ارتقاءتنظیم کی صدر ڈاکٹر ہما غفار نے کہاکہ آج بھی اقبال علوی کے چاہنے والے بہت ہیں، شہر میں علمی، ادبی پروگرام، کانفرنسز ہوں یا جلسے جلسوس ہم انہیں اپنے درمیان پاتے ہیں۔تقریب میں عثمان بلوچ،اختر حسین ایڈووکیٹ ،ڈاکٹر ٹیپو سلطان ودیگر نے بھی خطاب کیا،تقریب کے آخر میں ڈاکٹر اقبال علوی کو شیلڈ دی گئی جبکہ سندھ کا روایتی تحفہ اجرک بھی پیش کیاگیا۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے معروف ادیب و شاعر امجد اسلام امجد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب کا اہتمام 
ہم نے مغرب کی پیروی کرتے ہوئے اپنی اقدار کھو دیں،نئی نسل کا اردو زبان سے رشتہ بنائے رکھنے کے
لئے کوششیں کرنا ہونگی، امجد اسلام امجد
امجد اسلام امجد جیسے لوگ ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں ،ان کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کرنا ہم سب کا فرض ہے ، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی ( ) کسی بھی قسم کی مصروفیت مجھے شاعری سے کبھی دور نہ کرسکی ۔جب ٹی وی کے لئے لکھتا تھا تب بھی شاعری کی کتابیں لکھتا رہتا تھا ۔ ہم نے مغرب کی تقلید کرتے ہوئے اپنی اقدار کھو دیں۔ کوشش ہے کہ آنے والی نسل کا اردو سے رشتہ بنا رہے، ان خیالات کا اظہار معروف ادیب و شاعر امجد اسلام امجد نے کراچی آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز میں رکھی گئی تقریب میں کیا۔امجد اسلام امجد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کراچی آرٹس کونسل نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقریب کا انعقاد کراچی آرٹس کونسل میں کیا ، تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے ادا کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امجد اسلام امجد نے کہا کہ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے بچے اردو میں اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے ۔بچوں کو سکھایا جارہا ہے کہ ترقی صرف انگریزی زبان میں ہی کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہماری فلم انڈسٹری کو کبھی انڈسٹری کا درجہ دیا ہی نہیں گیا ۔امجد اسلام امجد نے اپنی مشہور غزلیں اور نظمیں سنا کر محفل کو چار چاند لگا دیئے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ امجد اسلام امجد جیسے لوگ روشنی کا مینار ہیں یہ جب بھی آتے ہیں ہمیں سیراب کرکے جاتے ہیں ۔ایسی ادبی شخصیات کی پذیرائی کرنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔ آرٹس کونسل کی یہ روایت رہی کہ ایسی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے تقاریب کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مزید کہا کہ خوش قسمتی ہے کہ امجد اسلام امجد ہماری دعوت پر آئے ۔بہت دنوں بعد عمدہ شاعری سننے کو ملی۔تقریب میں نامور فنکاروں منور سعید، طلعت حسین، معروف مصنفہ حسینہ معین سمیت دیگر مشہور شخصیات نے شرکت کی ۔


آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ”کراچی تھیٹر فیسٹیول 2020 “ کا تیسرا روز

کراچی ( ) نوجوان ہدایت کاروں کی صلاحیتوں کا زبردست اظہار کرتا ”کراچی تھیٹر فیسٹیول“ آرٹس کونسل کراچی میں جاری ہے ۔ فیسٹیول میں روزانہ کی بنیاد پر دو شوز پیش کئے جارہے ہیں جبکہ تھیٹر کے قدر دانوں کے لئے کراچی آرٹس کونسل تھیٹر اکیڈمی کے طلباءنکڑ ناٹک کی روایت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں ۔ اِسی سلسلے میں فیسٹیول کے آغاز پر تھیٹر اکیڈمی کے طلباءاپنا نکڑ ناٹک ہر ہفتے پیش کریں گے۔ فیسٹیول کے تیسرے روز ہدایت کارہ عظمیٰ سبین کا کھیل” تماشہ“ پیش کیا گیا۔ فنکاروں کی جاندار اداکاری کو شائقین کی جانب سے خوب پزیرائی ملی۔کراچی تھیٹر فیسٹیول کے چوتھے دن بروز اتوار ہدایت کار انجم ایاز کا کھیل ”راحت جان“ پیش کیا جائے گا ۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ادبی کمیٹی کے زیرِ اہتمام عرب امارات میں مقیم منفرد لہجے کی معروف شاعرہ ثروت زہرا کے ساتھ ایک شام کا انعقاد

کراچی ( ) ثروت زہرا کی شاعری میں تنوع ہے ۔ ان کی شاعری کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ پوری دنیا کے ماحول اور اپنے وطن کے حالات کو پیش نظر رکھ کر الفاظ کو شاعری کی مالا میں پروتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار صدرِ تقریب اور معروف ادیب پروفیسر سحر انصاری نے آرٹس کونسل کراچی میں معروف شاعرہ ثروت زہرا کے اعزاز میں منعقد ایک شام میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چھ مہینوں سے تمام ادبی وثقافتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل تھیں اندازہ نہیں تھا کہ وقت کیسے گزرے لگا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی وقت گزر گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن ادبی کمیٹی ( شعر و سخن) آرٹس کونسل ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ جب بھی ثروت زہرا کی پذیرائی ہوتی ہے مجھے اپنے اندر ایک خوشی محسوس ہوتی ہے، اس دور میں جن شاعرات کا نام پورے اعتماد سے لے سکتے ہیں ان میں ثروت زہرا کا نام سرِفہرست ہے، انہوں نے اپنا منفرد انداز بنایا ہے جس کو وہ اپنی شاعری میں شامل رکھتی ہیں۔ منفرد لہجے کی شاعرہ ثروت زہرا کا کہنا تھا کہ اس تقریب میں میرے اساتذہ اور میرے سینئرز موجود ہیں ان کی موجودگی سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میرے لیے وقت نکالا اور مجھے سننے آئے۔ اس موقع پر انور شعور، ثروت زہرا، وحید نور اور نگزیب، کامران نفیس، حمیرا راحت سمیت دیگر معروف شعراءکرام نے اپنے شعری مجموعے حاضرین کے گوش گزار کیے جبکہ نظامت کے فرائض راشد نور نے انجام دیے ۔


پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کا شہرہ آفاق ڈرامہ ”ان کہی “ کراچی آرٹس کونسل میں تھیٹر کی صورت 20اکتوبر سے پیش کیا جائے گا
 کراچی (  ) حکومت کی اجازت سے ایس او پی کے ساتھ آرٹس کونسل میں ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ جشن آزادی کے کامیاب فیسٹیول کے بعد اب تمام پروگرام معمول کے مطابق ہوں گے ملک کی معروف ادیبہ و رائٹر حسینہ معین کا لکھا ہوا پلے ان کہی 20 اکتوبر سے آرٹس کونسل میں شروع ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے ان کہی 2020 تھیٹر کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر حسینہ معین، ساجد حسن، آمنہ الیاس داور محمود اور ثاقب سمیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل نے حکومت کی ہدایت پر ایس او پی پر مکمل عمل کرتے ہوئے سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے ملک کی معروف ادیب و رائٹر حسینہ معین کا لکھا ہوا پلے ” ان کہی ” 20 اکتوبر کو آرٹس کونسل میں شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ان کہی تھیٹر ملتوی کردیا گیا تھا ۔ اب ہمارے ملک میں اس کا زور کم ہو گیا ہے اور حکومت نے بھی زندگی بحال کرنے کی اجازت دی ہے آرٹس کونسل نے ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اور بھی بہت سارے فیسٹیول ترتیب دئے گئے ہیں جن کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ احمد شاہ نے کہا کہ طویل لاک ڈاون کے بعد آرٹس کونسل شہریوں کے لئے بہتر سہولتیں پیش کر رہی ہیں۔ پلے کے ڈائریکٹر داور محمود نے کہا کہ 20 اکتوبر سے ان کہی 2020 شروع ہو گا یہ پرانا والا ان کہی نہیں ہے تاہم اس میں پرانے پیغام کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ فن کار اس میں کام کریں گے جن میں آرٹسٹ، ڈانسر اور دیگر لوگ شامل ہیں آمنہ الیاس اس ٹیم کو لیڈ کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت آمنہ الیاس بہترین فن کارہ ہیں اس لئے ان کو اس ان کہی کے لئے منتخب کیا ہے۔ پلے کی رائٹر حسینہ معین نے کہا کہ ان کہی کو دوبارہ لانے کا مقصد نئی نسل کو پیغام دینا ہے کہ اس دور میں ہمیں محبتوں کی ضرورت ہے۔ جب تک دلوں سے نفرت نہیں مٹے گی آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اسی پیغام کے فروغ کے لئے یہ کہانی پہلے بھی لکھی گئی تھی اور آج دوبارہ لکھی گئی ہے۔ ساجد حسن نے کہا کہ تمام لوگوں کو مبارک جو کرونا وائرس سے محفوظ رہے۔حسینہ معین اس ملک کی لیجنڈ ہیں جن کا قلم ٹریفک روک دیتا تھا۔ یہ بہت تحقیق کر کے لکھتی ہیں۔ حسینہ معین کی اسٹوری کو لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامہ میں حسینہ معین کی زندگی کی کہانی ہے۔ احمد شاہ نے تھیٹر کو زندہ کر لیا لہذا شہری ایس او پی کو استعمال کرتے ہوئے احمد شاہ کے ساتھ تعاون کریں۔ کراچی آرٹس کونسل ملک میں منفرد ادارہ ہے حکومت کو اس کی سرپرستی کرنا چاہئے۔ثاقب سمیر نے کہا کہ یہ پلے سابق ان کہی سے مختلف ہے آج کے حالات کے مطابق ہے،اس موقع پر اداکارہ آمنہ الیاس کا کہنا تھا کہ یہ میرا پہلا اسٹیج شو ہے ۔ڈرامے میں مختلف سینز کا حصہ رہی ہوں ۔کہیں ہنسے ،کہیں روئے اور کہیں ڈانس کیا۔


1st February 2020

خبر نمبر1-


کراچی آرٹس کونسل میں جاری ادب میلے میں عروس البلاد شہر کراچی کے مسائل کو ا ±جاگر کرتے سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز “Karachi’s Urban Planning, Public Spaces and Garbage Managemnt” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہاکہ کراچی کی بہتری کے لیے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم نے کچھ ماہ قبل مہم کے ذریعے کراچی کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، کراچی کو اون کرنے کیلئے نہ صرف عوام بلکہ سیاسی رہنما بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، جب کسی غیرقانونی تجاوزات کو ہٹاتے ہیں تو وہ صرف تجاوزات نہیں ہوتی بلکہ لاکھوں لوگوں کی پناہ گاہیں ہوتی ہیںیہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑرہا ہے، جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے تو میںنے سب سے پہلے مخالفت کی تھی کہ یہ بھی ہمارے کراچی کے شہری ہیں حالانکہ وہ لوگ میرے ووٹرز بھی نہیں تھے،انہوں نے میڈیا اور سوسائٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ وہ اس مسئلے کو زیادہ سے زیادہ ا ±جاگر کریں تاکہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہوسکیں،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ یہ تارکین وطن کا شہر ہے، بدقسمتی سے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں، 1950ءمیں کلفٹن، ناظم آباد سمیت پی ای سی ایچ ایس کی 3روپے گز میں الاٹمنٹ دی گئی، 70ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے 9روپے میں گلشن اقبال آباد کیا لیکن اس کے بعد مکمل طور پر کمرشلائز کردیاگیا، اب بھی آدھی آبادی کچی آبادی میں رہتی ہے، شہر کو اتنا خوفزدہ کردیاگیا کہ لوگ یہاں پانی، گاربیج، ہیلتھ یا ایجوکیشن کی بات کرنے کے بجائے اپنی بچوں کی دیکھ بھال پر لگے رہیں اور جو مسائل ہیں ان پر کسی کی توجہ ہی نہ رہے، ہماری حکومت کو چاہیے کہ کم نرخ پر لوگوں کو پلاٹ فراہم کرے،عارف حسن نے کہاکہ ادارے نہیں ہوں گے تو یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے، میٹروپولیٹن انسٹیٹیوٹ سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچا تھا 1981ءمیں اسے بھی ختم کردیاگیا، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرکے زمینوں کے حوالے سے شہر کیساتھ زیادتی کی گئی، دیکھتے ہی دیکھتے شہر تقسیم ہوگیا، صرف ایمپریس مارکیٹ کے اِردگرد کارروائی کے نتیجے میں 1.5بلین روپے سے زائد کی اقتصادی معیشت تباہ ہوئی، کراچی کا سیوریج سسٹم سوچی سمجھی سازشی کے تحت برباد کردیاگیا ہے،لیاری میں کام کی رفتار بہت سست ہے، اجلاس سے فرحان انور اور سیورین مینو نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، نظامت کے فرائض سید خاور مہدی نے انجام دیئے۔

خبر نمبر2-


”ادب فیسٹیول “میں ادب اور الیکٹرانک میڈیا سیشن کا انعقاد
کراچی ( ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ”ادب فیسٹیول“ کے دوسرے روز ”ادب اور الیکٹرانک میڈیا“ اجلاس کا انعقاد کیاگیا جس میں مختلف نجی چینلز کے مالکان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہتاب اکبر راشدی نے کہاکہ معاشرے کو مثبت ڈگر پر لے جانے والے اداروں کو چاہیے کہ اپنا کردار بخوبی ادا کریں،ہم اتنی ظالم قوم ہیں کہ مرتے ہوئے شخص کو بھی ٹی وی پر دکھا رہے ہوتے ہیں شکر ہے کہ پیمرا نے چینلز کوکچھ حدود وقیود کا پابند کیا۔ سینئر صحافی اظہر عباس نے کہاکہ چینل سال میں چار چار بار بند کر دیئے جاتے ہیں،اس موقع پر سلطانہ صدیقی نے کہاکہ میں ادب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہوں ڈرامہ ”زندگی گلزار کے لیے“ شبانہ اعظمی نے تعریف کے لیے کال کی،کن فیکون نام رکھنے پر دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، پشاور میں ہمارے ڈرامے پر کیس کر دیا گیا، سیما طاہر خان نے کہاکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آنے والا زمانہ ڈیجیٹلائز ہے ، اب پیغام پہنچنانے کے پلیٹ فارم بدل رہے ہیں،ریٹنگ سسٹم اپنی جگہ موجود ہیں، اب سوشل میڈیا کا دور ہے کیوں نہ انہیں استعمال کیا جائے۔نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے سر انجام دیئے۔          


31st January 2020

  Karachi: “In last 22 years we dealt with 57 thousand cases. Whether it’s military court case or panama case, Asia Malona case or former Prime Minister Gillani case we resorted to the literary figure’s famous sayings, deciding all the cases” these thoughts were expressed by the former chief justice of Pakistan Asif Saeed Khousa in the opening ceremony of  three day literature festival held at Arts council Karachi. Former chief justice Asif Saeed Khousa further said “many judges including me are interested in art & literature and I am planning to return back to this way. Law and literature are similar in many ways”. On the moment addressing to the audience president arts council Muhammad Ahmed Shah said we support to those organizations that are serving to Urdu literature. The prominent literary personalities such as Muhtaq Ahmed Yosufi and Jameel uddin Aali are no more with us but their name will always live in the history of Urdu literature”. Further he said that last year Ameena Saiyid started organizing the Adab festival which is now running successfully. On the occasion of the inauguration ceremony of 2nd Adab festival former Pakistan’s Representative to the United Nation Maleeha Lodhi , in her speech said “Together with the intellectuals we need to create the positive image of Pakistan globally. We have to make our foreign policy according to the global approach of each country”. In the opening ceremony, Founder of Adab Festival Ameena Saiyid said “The literature festival was founded a decade ago which has now become a thriving tree. I am glad that this literature festival is covering a wide variety of topics” Along with the literary & political personalities like Asif Farukhi, Shaiyma Syed, Iftikhar Arif, Kishwar Naheed, Stefan Winkler ,former foreign minister Hina Rabbani Khar, I.G Sindh Kaleem Imam,  this event was attended by a massive number of literature lovers. On the occasion a puppet show was presented by THE THESPIANZ THEATRE and poetry of Habib Jalib was beautifully presented by the young musicians & singers. The day was concluded with the Qawali performance of famous qawal Abu Mohammad and Fareed Ayaz.  


            کراچی آرٹس کانسل میں دوسرے ادب فیسٹول پاکستان کا شاندار انعقاد
کراچی (اسٹاف رپورٹر) گزشتہ بائیس سالوں میں ستاون ہزار کیس نمٹائے۔ملٹری کورٹ کیس ہو یا پانامہ کیس آسیہ بی بی کیس ہو یا سابق وزیر اعظم گیلانی کا کیس ان کیسز کا فیصلہ سناتے ہوئے ادبی شخصیات کے مشہور اقوال کا سہارا لیا ،ادب رابطے کا وہ ذریعہ ہے جس کے الفاظ دل و دماغ میں گھر کر جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹس آ ف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ تین روزہ ادب فیسٹیول کے افتتاح کے موقع پر کیا۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ ادب کی طرف واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں مجس سمیت دنیا بھر میں بہت سے ججز نے کالجز میں آرٹ اور ادب میں دلچسپی لی انہوں نے کہا کہ لاءاور لٹریچر بہت سے معنوں میں ایک جیسے ہیں۔دوسرے ادب فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا کہنا تھا کہ جو ادارے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ہم انہیں بھرپور سپورٹ کرتے ہیں ،اردو ادب کے نامور نگینے جیسے کہ مشتاق احمد یوسفی اور جمیل الدین حالی ہم سے جدا ہو گئے آرٹ اور کلچر کو نوجوانوں تک پہنچانا ہے۔احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ امینہ سید نے گذشتہ برس سے ادب فیسٹیول کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا تھا جو کہ اب کامیابی سے جاری ہے۔اس موقع پر سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دانشوروں کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج بنانا ہوگا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ملیشیا جیسے ممالک کی طرز پر تشہیر کی ضرورت ہے۔ سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ہر ملک کی گلوبل اپروچ کے مطابق ان کے ساتھ خارجہ پالیسی رکھنی ہوگی۔دوسر ادبی فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں مختلف سیاسی،سماجی اور ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادب فیسٹیول کی روح رواں امینہ سید کا کہنا تھا کہ ایک دہائی قبل ادبی فیسٹیول کی بنیاد رکھی تھی جو کہ اب تناآور درخت بن چکا ہے خوشی اس بات کی ہے کہ ادب کی یہ محفل مختلف موضوعات کا احاطہ بنی ہوئی ہے۔اس موقع پر آصف فرخی،شائمہ سید ،افتخارعارف،کیشور ناہید،اسٹیفن وکلار،سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ،آئی جی سندھ سید کلیم امام نے شرکت کی۔اس موقع پر تھیسپینز تھیٹر کی جانب سے چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی پ ±تلی تماشے کا اہتمام کیا گیا۔نوجوان گلوکاروں نے حبیب جالب کے کلام کو خوبصورتی سے پیش کیا۔ادبی میلے کے پہلے دن کا اختتام معروف قوال ابو محمد اور فرید ایاز قوال کی زبردست قوالی پرفارمنس پر ہوا۔